ترکی میں ”غداروں “ کی تدفین کیلئے بنے قبرستان سے سائن بورڈ ہٹا دیا گیا

ترکی میں ”غداروں “ کی تدفین کیلئے بنے قبرستان سے سائن بورڈ ہٹا دیا گیا
ترکی میں ”غداروں “ کی تدفین کیلئے بنے قبرستان سے سائن بورڈ ہٹا دیا گیا

  


انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک ) ترکی میں ناکام بغاوت کے دوران جاں بحق ہونے والے فوجیوں کی تدفین

کے لیے استنبول کے مضافات میں موجود قبرستان سے ’غداروں کا قبرستان‘ کا سائن بورڈ ہٹا دیا گیا ہے جس کی تصاویر بھی سامنے آگئی ہیں ۔

ترک میڈیا کے مطابق استنبول کے میئر نے ڈائریکٹوریٹ برائے مذہبی امور سے مشاورت کے بعد اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے باغیو ں کی تدفین کیلئے قائم قبرستان سے ”غداروں کے قبرستان “ کا سائن بورڈ ہٹوا دیا ہے۔

قبرستان پینڈک کے علاقے میں ہے جس کی تیاری میئر کے حکم پر کی گئی تھی ۔استنبول کے میئر نے اس قبرستان پر ’غداروں کا قبرستان‘ کا سائن بورڈ لگوایا تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ برائے مذہبی امور کے سربراہ سے مشاورت کے بعد 29 جولائی کو یہ بورڈ ہٹا دیا گیا۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

میئر نے میڈیا کو بتایا کہ ’ڈائریکٹوریٹ برائے مذہبی امور کے سربراہ نے کہا کہ ناکام بغاوت میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے یہ بہت دکھ کی بات ہو گی کہ ان کو جس جگہ دفن کیا جا رہا ہے اس جگہ یہ ”غداروں “کابورڈ لگایا گیا ہے۔ اس لیے میں نے یہ سائن بورڈ ہٹوا دیا ہے۔‘

ترک میڈیا کے مطابق میئر نے اس سے قبل کہا تھا کہ عام قبرستان بغاوت کرنے والوں کی تدفین کے لیے موزوں نہیں ہے کیونکہ وہاں پر مذہبی شخصیات بھی دفن ہیں۔

ناکام بغاوت میں ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سے صرف ایک کی تدفین اس قبرستان میں ہوئی ہے اور اس کو مذہبی رسومات پوری کیے بغیر دفنایا گیا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ایک سابق رکن اسمبلی کا کہنا ہے ’یہ فیصلہ جلد بازی اور جوش میں کیا گیا لیکن غدار ہمیشہ رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بغاوت کرنے والوں کو مختلف حصے میں دفن کیا جا سکتا ہے اور اس کیلئے ایک علیحدہ قبرستان بنانا درست نہیں ہے۔‘

اس نئے قبرستان میں اب تک صرف ایک فوجی کی تدفین کی گئی ہے جس کی لاش 25 جولائی کو ایمبولینس میں لائی گئی تھی جبکہ اس قبرستان میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس شخص کی نہ تو نماز جنازہ پڑھی گئی اور نہ ہی کوئی مذہبی تقریب ادا کی گئی تھیں ۔

دوسری جانب اس نئے قبرستان پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور چند مذہبی شخصیات کا کہنا ہے کہ کسی شخص نے جو بھی کیا ہو اس کی باقاعدہ تدفین اس کا حق ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...