منافع ہی منافع

منافع ہی منافع
 منافع ہی منافع

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہمارے حلقۂ احباب میں یوں تو کئی دوست ہیں اور ہر کوئی اپنے انداز میں بے مثل ہے، مگر ایک شیخ صاحب ہیں کہ ہر لحاظ سے ہمیں پسند ہیں۔ ان کی ہر بات دل پذیر ہوتی ہے اور اندازِ گفتگو پر بھی کسی دلُربا کی باتوں کا گمان ہوتا ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ ان کی بدلتی سوچوں نے انہیں ایک کامیاب انسان بناڈالا ہے۔ متفرق قسم کے کاروباری اسرارورموز پر نظر رکھتے ہیں۔ ایک کامیاب تاجر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دوستوں کو مفید معلومات اور مشورے مہیا کرتے رہتے ہیں۔ نہایت زیرک ہیں اور باریک بینی سے مشاہدہ کرنا ان کا وتیرہ ہے۔وہ وقت کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہیں اور مولانا حالی کے اس ارشاد کو حرز جاں بنائے رکھتے ہیں کہ: چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی۔ ہماری ریٹائرمنٹ کے دن قریب آئے تو لامتناہی سوچوں نے آن گھیرا۔ ایک دھندلا سا مستقبل ہمیں ستانے لگا۔ عمر تو کٹ گئی تھی دفتر کی فائلیں الٹ پلٹ کرتے اور کاغذ قلم کا کھیل کھیلنے میں، کچھ اتنا بڑا گریڈ بھی نہ تھا کہ کوئی ’’گرینڈ‘‘ قسم کا بینک بیلنس ہی بناپاتے۔

لے دے کے گزارا چلتا رہا۔ اب جو چند لاکھ کی رقم بطور گریجوئٹی وغیرہ ملنا تھی، اسی سے آگے کاروبارِ حیات چلانا تھا۔ ہم نے دوستوں سے مشاورت شروع کی کہ بعداز ریٹائرمنٹ کون سا کام اختیار کیا جائے کہ باقی ماندہ زندگی کی گاڑی آسانی سے چلتی رہے۔ ایک دو مشورے نہایت پُرکشش تھے اور قابلِ عمل بھی لگتے تھے۔ ہم جیسے تساہل پسند لوگوں کے لئے تو یہ دونوں مشورے نہایت معقول سے تھے اور دل بھی اُکساتا تھا کہ ان دونوں کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیا جائے، بلکہ ہوسکے تو دونوں کام بیک وقت ہی شروع کردیئے جائیں، اس طرح کامیابی کے امکانات بہت روشن ہوسکتے ہیں۔

اُن میں سے پہلا کام تو یہ تھا کہ دس، بارہ لاکھ روپے لگا کر کوئی مکان گروی لیا جائے، جسے آگے کرایے پر چڑھا کر 20/25ہزار روپے ماہانہ کمایا جاسکتا ہے اور دوسرا یہ کہ کوئی اچھی سی گاڑی خریدی جائے اور اسے بطور ٹیکسی چلوا کے معقول آمدنی کا انتظام کیا جائے۔ اسی ادھیڑبن میں ایک دن ہم نے شیخ صاحب سے خصوصی درخواست کی کہ اپنا کچھ وقت عنایت فرمائیں اور ہمیں اپنے مفید مشوروں سے نوازیں۔ انہیں بھلا کیا عذر ہو سکتا تھا۔ ایک دل نشیں لہجے کے ساتھ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحات عطا کرنے کا وعدہ کرلیا۔ حسبِ ارشاد ہم شیخ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض گزاری کہ حضور ریٹائرمنٹ قریب آن پہنچی ہے اور مستقبل کچھ دھندلا سا نظر آرہا ہے کون سا کام اختیار کیا جائے؟ کہ روزگارِ حیات بخوبی چلتا رہے۔ انہیں اپنے دیگر دوستوں سے کئے گئے متذکرہ دونوں کاموں کے بارے میں آگاہ کیا اور مشاورت طلب کی کہ ان کا اس ضمن میں کیا خیال ہے؟ شیخ صاحب نے ایک لمبا ہُنکارا بھرا۔ گویا وہ پہلے سے جانتے تھے، ہم کس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں؟ کہنے لگے ’’تمہاری سابقہ زندگی دیکھ کر مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ یہ دونوں تمہارے بس سے باہر ہیں۔ تم ایک شریف آدمی ہو اور شریفانہ زندگی گزارتے رہے ہو۔ تمہیں گروی گھروں کے بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہئے اور نہ ہی تمہیں کسی ٹیکسی گاڑی پر پیسہ لگانا چاہئے۔ گروی گھروں میں بڑی قباحت یہ ہے کہ کرایہ دار کیسا ہوگا؟ خدا نخواستہ اگر وہ شریف انسان نہ نکلا تو ہو سکتا ہے، وہ تمہیں عدالتوں اور وکیلوں کے چکر لگوائے اور کسی نئی اذیت سے دو چار کردے۔ تمہارا دوسرا کام گاڑی خرید کر بطور ٹیکسی استعمال کراکے روزگار کا حصول بھی کٹھن نظر آرہا ہے، کیونکہ اس کام کا تمہیں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ مزید یہ کہ جو شخص بھی ٹیکسی چلائے گا، اس کے اپنے بھی مسائل ہوں گے۔ وہ تمہیں ہر روز کوئی نیا ’’مرمتی بل‘‘ تھماتا رہے گا اور تمہارے لئے مسائل پیدا کرتا رہے گا‘‘۔

یہ تمہید سن کر ہمارے دونوں منصوبوں کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور منہ لٹک گیا۔ شیخ صاحب نے ہماری حالت دیکھی تو کہنے لگے ’’ گھبراؤ نہیں‘‘ میرے ذہن میں تمہارے لئے ایک کام آرہا ہے، چونکہ تم ایک سیدھی سادی زندگی گزارتے رہے ہو اور ماسوائے دفتری گپ شپ کے کسی بھی عملی کام سے کنارہ کش رہے ہو۔ اس لئے تم اپنے تجویز کردہ کاموں کی صرف خوبیاں دیکھ رہے ہو، جبکہ ان کاموں کی تلخیاں تمہاری نظر سے اوجھل ہیں۔ ایک مخلص دوست ہونے کی حیثیت سے میں تمہیں ہرگز کسی ایسے کام میں سرمایہ لگانے کا مشورہ نہیں دے سکتا، جس میں نقصان کا اندیشہ ہو، کیونکہ یہی تمہاری جمع پونچی ہے اور اگر یہ لُٹ گئی تو سمجھو کہ تم اس فانی دنیا سے ہی فارغ ہوگئے۔ میں ہمہ تن گوش ہو کر ان کی باتیں سن رہا تھا اور سردھن رہا تھا۔ ساتھ ساتھ خود پر لعن طعن بھی کررہا تھا کہ شیخ صاحب سے اس معاملے پر پہلے کوئی مشاورت کیوں نہ کرسکا۔بہر حال شیخ صاحب نے جو راز آشکار کیا وہ ہم بتا رہے ہیں۔

کہنے لگے کہ’’ اب ذرا غور کرو کہ ہمارے عوام کیسے ہیں اور ان کا مزاج کیسا ہے؟ ہمارے عوام نہایت عجلت پسند ہیں۔ اکثریت اگرچہ بیکار ہے اور کسی مسلسل کام دھندے سے انہیں کوئی خاص شغف نہیں ، مگر سڑک پر آکر وہ یہ باور کراتے ہیں کہ ان جیسا مصروف انسان دنیا میں شاید کوئی نہیں۔ وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے ہر حد سے گزرجانے پر تیار ہوتے ہیں۔ ہر موٹر بائیک والا ٹریفک سگنل پر یوں الرٹ کھڑا نظر آئے گا، جیسے وہ کسی میدان جنگ کے ہر اول دستے میں شامل ہے۔ اس کی نظر اپنے سگنل پر نہیں، طرفین کے سگنل پر جمی ہوتی ہے، جونہی وہ سگنل سرخ ہوا، وہ بائیک ایسے دوڑائے گا کہ خدانخواستہ اگر وہ رک گیا تو دنیا کا نظام ہی رک جائے گا۔ (حالانکہ منزل پر پہنچ کر گپیں لگانے کے سوا اسے اور کوئی کام نہیں ہوتا)۔ مگر ساتھ ساتھ کوئی گاڑی والا، حتیٰ کہ چنگ چی والا بھی مستِ جام کاسا اندازاختیار کرتا ہے، اگرچہ اسے جابجا بریکیں استعمال کرنا پڑیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ اس ملک میں بریکوں کا استعمال لامتناہی ہے۔ یعنی ہر سڑک پر، ہر چوک پر، ہر گلی پر بے انتہا بریک استعمال ہو رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں ترقی آتی جارہی ہے۔ لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اللہ کا نام لے کر بریک لیدر اور بریک شو بنانے کا کام شروع کردو۔ تمہارا بڑا بیٹا جو کہ معمولی تنخواہ پر کسی نجی کمپنی میں کام کررہا ہے، اسے وہاں سے اٹھوالو اور کوئی عام سی جگہ کرائے پر لے کر یہ کام اختیار کرلو۔ اس میں زیادہ سے زیادہ تمہیں ایک معمولی سمجھدار مکینک کی ضرورت پیش آئے گی جو یہاں بکثرت مل جاتے ہیں۔ یقین کرو اس میں منافع ہی منافع ہے اور میں یہ بات بھی دعویٰ سے کہتا ہوں کہ تمہیں مارکیٹنگ کے لئے بھی دردِ سر نہیں اُٹھانا پڑے گا۔ لوگ خود بخود تمہاری جانب کھنچے چلے آئیں گے، کیونکہ ڈیمانڈ اور سپلائی کے آفاقی فارمولے نے اپنی سچائی ظاہر کرنا شروع کر دی ہے، تم بے جھجھک اس کام میں سرمایہ کاری کرسکتے ہو، کیونکہ میری چشمِ نظارا اس کام کو بہت اوپر جاتا دیکھ رہی ہے۔

مزید : کالم