’’ خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ بل 2017ء‘‘

’’ خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ بل 2017ء‘‘
 ’’ خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ بل 2017ء‘‘

  



یہ خبر پڑھ کر دِل نہال ہوگیا کہ مُلک میں پہلی بار خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لئے قانونی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اِس مجوزہ قانون کے تحت پاکستان میں خواجہ سراؤں کو آئین میں موجود تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔ اِس قانونی مسودے کو خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ بل 2017ء سے موسوم کیا گیا ہے۔ اِس بل کی سفارشات قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے مرتب کی ہیں، جسے اب منظوری کے لئے ایوان بھیجوایا جائے گا۔ یہ بل پاکستان کے خواجہ سراؤں کے لئے بہت بہت بڑی خوشخبری سے کم نہیں ہے۔ اِس قانونی مسودہ کی اہم شقیں نذرِ قارئین ہیں۔ اس کے تحت خواجہ سراؤں کو تعلیمی اداروں میں داخلہ یا ملازمت دینے سے انکار کرنے والے فرد کو دو برس قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ خواجہ سراؤں کو زبردستی اُن کے گھروں سے بے دخل کرنے پر دو برس قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ خواجہ سراؤں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے پر دو سے سات برس تک قید اور سات لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا شامل ہے۔ اس مظلوم طبقے کے ساتھ زنا بالجبر کے مرتکب افراد کو عمر قید یا کم ازکم دس برس قید یا زیادہ سے زیادہ پچیس برس تک قید کی سزا ہو سکے گی۔اس کے علاوہ جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ خواجہ سراؤں کے آئینی و قانونی حقوق کی بابت اس مسودے میں خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود، جانی تحفظ، اور اُن کو معاشرے کے مفید اور کارآمد شہری بنانے کے وہ تمام نکات شامل ہیں جو اس طبقہ کے لئے مستقبل میں منفعت بخش اور مشعلِ راہ ثابت ہو سکیں گے۔

اِس قانونی مسودہ کے مطابق پاکستان میں رہنے والی خواجہ سرا برادری کو مُلک کے آئین میں موجود وہ تمام بنیادی حقوق مہیا کئے جائیں گے،جو دوسرے نارمل افراد کو حاصل ہیں۔ان کو تعلیم، ملازمت اور وراثتی جائیداد کے حصول کا حق دیا جائے گا۔ خواجہ سراؤں کو اُن کی جنس کی بنیاد پر کوئی دوسرا فرد تعصب اور نفرت کا نشانہ نہیں بنا سکے گا۔ اُن کو خود کو خواجہ سرا تسلیم اور سرکاری طور پر رجسٹرڈ کرانے کا حق فراہم کیا جائے گا۔ مزید برآں پاکستان میں اس طبقے کے تحفظ کی بابت حفاظتی مراکز قائم کئے جائیں گے۔ تمام سرکاری اور نجی سیکٹر میں اُن کی ملازمت کے لئے ایک فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کی مُلک کے طول و عرض میں سکونت پذیر خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود اور اس طبقہ کو بھی مرکزی قومی دھارے میں لانے کا احسن فیصلہ خوش آئند ہے۔ معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے اس مظلوم طبقہ کی بابت یہ تحفظ بل 2017ء یقیناًقابلِ تحسین حکومت کی اس طبقہ کے لئے مساعئ جمیلہ کا آئینہ دار ہے،جس کے لئے وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔اُمید قوی ہے کہ جلد ہی ایوان کے اراکین بھاری اکثریت سے اس بل کی منظوری دے دیں گے اور پھر یہ باقاعدہ قانون کا بن جائے گا۔ غور طلب امر یہ بھی ہے کہ وطنِ عزیز میں اوّلین بار مردم شماری 2017ء میں خواجہ سراؤں کا بھی اندراج کیا گیا تاکہ پاکستان میں موجود خواجہ سراؤں کی درست تعداد سے کماحقہ آگاہی ہو سکے۔یہ امر بھی اس طبقہ کی بابت حکومت کی نیک تمناؤں کا عکاس ہے۔

یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ وطنِ عزیز میں خواجہ سراؤں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ یہ کسمپرسی اور مفلسی میں ڈوبے وہ دُکھی اور پسماندہ لوگ ہیں،جو روٹی کے ایک نوالے کی خاطر ناچ گانے اور دوسرے مشقتی کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان بے چاروں کو اگر شادی بیاہ یا خوشی کی دوسری تقریبات میں مدعو نہ کیا جائے تو یہ سخت دھوپ میں سڑکوں کے کنارے ٹریفک سگنل پر موٹر سواروں اور راہ گیروں سے بھیک مانگتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ امر بھی عیاں ہے کہ ہمارے معاشرے کے چند مخصوص لوگ خواجہ سراؤں پر دانستہ طور پر آوازیں کستے اور اُن کو طعن تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایسے افراد کی یہ حرکات یقیناًقابلِ گرفت ہوتی ہیں۔ دُنیا کا کوئی بھی مذہب، ضابطہ اخلاق حیوانوں کے ساتھ بھی ایسا بُرا سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، خواجہ سرا تو پھر انسان ہیں۔ یہ امر بھی اکثر مشاہدہ میں آیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو اُن کے خاندان والے خود بھی گھر سے بے دخل کر دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جسمانی طور پر کوئی نارمل مرد یا عورت کسی خواجہ سرا کا بہن یا بھائی کہلوانے کا مجاز نہیں ہے۔حرص اور طمع کے مارے یہ افراد اپنے خواجہ سرا بہن بھائیوں کو وراثتی جائیداد سے بھی محروم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اپنے گھناؤنے مقاصد کی تکمیل کے لئے وہ اُن کو گھر سے زبردستی بے دخل کردیتے ہیں۔ یہ مظلوم ترین طبقہ آخرکار اپنے جیسے گروہ ہی میں رہائش اختیار کرکے خود کو گوشہ عافیت میں سمجھتا ہے۔ وہ اپنے ’’گرو‘‘ ہی کو اپنا مختار کل گردانتا ہے جو کہ اس کی رہائش کا بندوبست کرتا ہے۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ تحفظ بل 2017ء کے تحت اب ایسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہوسکے گی،جو خواجہ سراؤں کو ان کے آبائی گھروں اور جائیداد سے محروم کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود اور ان کو عزت و تکریم دینا فقط قانونی سہارے ہی سے ممکن نہیں،بلکہ اس کے ساتھ معاشرے میں بسنے والے مختلف شعبہ جات زندگی سے وابستہ افراد کی اخلاقی تربیت بھی نہایت ضروری امر ہے۔ خواجہ سراؤں کے ساتھ اچھے برتاؤ اور ہمدردانہ سلوک کی بابت اسلام کے زریں اخلاقی اصولوں پر مبنی تعلیمات کو باقاعدہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیمی نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے تاکہ قوم کے نونہال بچپن ہی سے اس محروم طبقہ کی بابت ہمدردی کے نیک جذبات و احساسات اپنے دِلوں میں موجزن کر سکیں۔ اس طبقہ کے علاج و معالجہ کے لئے ہر شہر کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ایک سپیشل وارڈ علیحدہ مختص کر دینا چاہئے تاکہ بہتر طور پر وہاں اُن کو مفت طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

خواجہ سرا بھی اس معاشرے کا جزو لا ینفک ہیں۔ ان کو اپنے حقوق کی بابت شعور و آگاہی فراہم کرنا حالات کا تقاضا ہے۔ سماج کے دوسرے افراد جس طرح مختلف النوع شعبوں میں اپنی خدمات احسن طریق سے انجام دے رہے ہیں اور عوام ان سے مستفید ہو رہے ہیں، اسی طرح اس طبقے کو بھی سیاست، بزنس، تعلیم، صحافت، میڈیکل، انجینئرنگ اور دوسرے سماجی علوم میں نارمل افراد کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے کے مواقع مہیا کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے پرائمری سطح سے لے کر یونیورسٹی لیول تک ان کے لئے خصوصی کلاسوں کا اہتمام کیا جائے، جس میں خواجہ سرا طلبہ بِلا جھجک و خوف زیور تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔ اس طبقہ کے لئے خاص طور پر فنی تعلیم کا حصول نہایت اہم ہے جس کی بنا پر یہ معاشرے میں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلا سکیں۔ اس ضمن میں ٹیوٹا کی خدمات ممدو معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں بھی خواجہ سراؤں کی نمائندگی ہونی چاہئے تاکہ اعلیٰ حکومتی حلقوں کو اس محروم طبقہ کے مسائل گوش گزار کروائے جا سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواجہ سرا تحفظ بل 2017ء کی منظوری کے بعد اس پر سختی سے عمل درآمد ہو۔

مزید : کالم