حافظ محمدسعیدکی نظربندی کے چھ ماہ

حافظ محمدسعیدکی نظربندی کے چھ ماہ
 حافظ محمدسعیدکی نظربندی کے چھ ماہ

  



فورتھ شیڈول کے تحت پروفیسرحافظ محمدسعیداوران کے ساتھیوں کی نظربندی کوآج چھ ماہ ہوچکے ہیں،لیکن دوسری طرف پاکستان میں بم دھماکے کرنے والے آزاد پھررہے ہیں، ہردھماکے کے بعدہمارے ارباب اقتدار و اختیار قوم کوخوشخبری سناتے ہیں کہ آخری دہشت گردکے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔پاکستانی قوم اپنے ارباب اختیارسے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ دھماکے ’’را‘‘ کے ایجنٹ کررہے ہیں، لیکن یہ کون ساطریقہ اوراصول ہے کہ اپنے ہی ملک کے محسنوں ،ملک کے دفاع کی بات کرنے اورملک کے دشمنوں کی نشاندہی کرنے والوں کوعین حالت جنگ میں نظر بندکردیاجائے۔بات یہ ہے کہ جن ملکوں کے ارباب اقتدار و اختیار اور دفاع کے ذمہ داران پنے ملک کے دفاع کی ذمہ داریوں سے غافل ہوکراپنے ہی ملک کے محسنوں پر سنگ باری کرنے اورقیدوبندکرنے لگ جائیں توایسے ملک دشمن کے لئے ترنوالہ ثابت ہوتے ہیں۔

پروفیسر حافظ محمد سعیدکیاکہتے ہیں اوران کاقصورکیاہے؟آئیے جماعت الدعوۃ کے امیرکاقصوران کی اپنی زبان سے سنتے ہیں۔ لاہورمیں پروفیسر حافظ محمدسعیدنے سنیئر صحافیوں اورکالم نگاروں کے ساتھ ایک نشست کی تھی۔یہ نشست اس اعتبار سے یادگاربن گئی کہ اس کے بعد وہ نظربندکردئے گئے تھے ۔اس موقع پرامیرجماعت الدعوۃ کا کہناتھاکہ مظلوم کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانے پر پابندیاں لگتی ہیں توہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ملک کا دفاع اورکشمیریوں کی مدداگر جرم ہے تو ہم یہ جرم کرتے رہیں گے۔ بھارت و امریکہ سی پیک کے خلاف سازشوں اور پاکستان کے خلاف مذموم منصوبوں کی راہ میں جماعت الدعوۃ کو بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔مسئلہ صرف ہماری جماعت کا نہیں، ملک کا ہے۔ بھارت امریکہ کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔وطن عزیز کے دفاع اور بیرونی سازشوں کے توڑ کے لئے ہمیں متحد ہو کر کردار ادا کرنا اور قومی سطح پر ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ والا قائد اعظمؒ کا موقف اختیار کرنا ہے، لہٰذاحکومت کشمیریوں کو مایوس کرنے والی پالیسیاں نہ بنائے۔ ہمارا جرم کشمیریوں کے ساتھ کھڑاہونا ہے۔ ہم نے 2017ء کاسال کشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیا۔جب میں نے کشمیری لیڈروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کیا تو بھارت نے بہت شور مچایا۔ ہمیں اس وقت ہی توقع تھی کہ اب ہماری جماعت کے خلاف کچھ نہ کچھ کیا جائے گا،لیکن ہماراقافلہ رکنے یا تھمنے والانہیں۔نریندر مودی نے برسراقتدار آتے ہی سندھ کے ہندوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت میں آجاؤ۔ ہم یہاں آ پ کے لئے مہاجر کالونیاں بناتے ہیں۔ہم نے اس سازش کا توڑ کرتے ہوئے سندھ کے دور دراز علاقوں میں تقر یباََ ایک ہزار کنویں کھدوائے ہیں،مزید دوسو کنویں تعمیر کروا رہے ہیں۔سولر انرجی کے پروجیکٹ لگانے سے امسال وہاں گندم اور چاول کی فصل ہوئی ہے۔ اسی طرح گلگت بلتستان، چترال اور بلوچستان میں ہم نے حکمت عملی سے بھارت کے منصوبے ناکام بنائے ہیں،ان شاء اللہ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوؤں نے مودی سرکار کی آواز پر کان نہیں دھرا اور انہوں نے پاکستان سے محبت کا برملا اظہار کیا۔

اسی طرح ہم نے خضدار، مشکے اور آواران جیسے بلوچستان کے، دور دراز علاقوں میں، جہاں علیحدگی کی تحریکیں تھیں، واٹر پروجیکٹ لگائے،راشن تقسیم کیا، میڈیکل سنٹر اور ڈسپنسریاں بنائیں، ایمبولینسیں چلائیں۔ اسی طرح بچوں کی مفت تعلیم کا بندوبست کیا۔ ان رفاہی و فلاحی خدمات کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لوگ پاکستانی پرچم اٹھا کر پاکستان زندہ باد ریلیاں نکال رہے ہیں۔ ہمارا یہ کردار اللہ کے دشمنوں کو برداشت نہیں اور وہ جماعت الدعوۃ کو اپنے ان مذموم منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔وہ ایسے ہی جماعت الدعوۃ پر پابندی نہ لگانے کی صورت میں پاکستان کو دھمکیاں نہیں دے رہے۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی میڈیا یہ آواز اٹھائے، حق اور انصاف کا ساتھ دے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ آخر ہماراجرم کیا ہے ا و رامریکہ وبھارت کو ہم سے تکلیف کیاہے؟ اگرہم پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں تو ہم پھر بھی اپنا کام جاری رکھیں گے۔حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہم نے اس ملک کی حفاظت کرنی ہے اور اس کے دفاع کے لئے کردار ادا کرنا ہے۔ ہمارا مسئلہ جماعت نہیں، بلکہ یہ ملک ہے۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے۔پاکستان محفوظ ہے تو ہم بھی محفوظ ہیں، اسی سے کشمیر کو آزادی ملے گی اور اگر تحریک آزادی کشمیر کمزورہوگی تو پاکستان بھی کمزورہوگا ۔مضبوط پاکستان ہی عالم اسلام کے دفاع کے لئے کردارادا کر سکے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کشمیریوں کو حوصلہ دینا ہے۔ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے بڑے پروگرام کریں گے۔ لاہور سے اسلام آباد اور کراچی و پشاور سے اسلام آباد تک کارواں چلائیں گے۔ ہم پر پابندیاں لگتی ہیں تو عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ بھارت ہمیشہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ پاکستان پر دباؤ بڑھاتا ہے، پھر ہمارے خلاف اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔ پہلے بھی لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے جماعت الدعوۃ کے حق میں فیصلے دیئے، اب بھی ان شاء اللہ عدالتوں میں جائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کاکہناتھاکہ بھارت نے ماضی میں جھوٹا پروپیگنڈا کر کے یو این سے ہمارے خلاف فیصلے کروائے۔ ہم نے بانکی مون کو خط لکھ کر اپنا موقف واضح کیااور کہا کہ ہمارے خلاف کوئی ثبوت ہے تو لے کر آؤ، ہم کسی بھی بین الاقوامی عدالت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ہر شخص اس بات کا عزم کرے کہ ہم نے اس تحریک میں حصہ ڈالنا ہے۔ اگر ہم عوامی سطح پر متحرک ہوں گے تو حکومت کو بھی جدوجہد آزادی کشمیر کے لئے تیار کر سکیں گے۔ یہ ہر اعتبار سے ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر کشمیری مایوس ہوتے ہیں تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اور اس کی ذمہ داری حکومت پر عائدہو گی۔ حکومت و اپوزیشن سمیت سب جماعتوں کو چاہیے کہ وہ باہمی اختلافات ختم کریں اور کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ کشمیری ہر قسم کی رکاوٹوں کے باوجود میدان میں پاکستانی پرچم اٹھائے ہوئے ہیں۔ ہمیں بھی کھل کر ان کی مددکرنا ہے۔ یہ تھی امیرجماعت الدعوۃ پروفیسرحافظ محمدسعید کی گرفتاری سے چندروز قبل سنیئرکالم نگاروں سے آخری گفتگو۔یہ جذبہ بھارتی حکمرانوں کے لئے قطعی ناقابل قبول اورناقابل برداشت ہے، اسی وجہ سے امیرجماعت الدعوۃ کونظربند کیا گیا ہے، لیکن نظربندیوں سے یہ تحریک رکنے اورتھمنے والی نہیں ہے۔امرواقعہ یہ ہے کہ پروفیسرحافظ محمدسعیدجرمِ بیگناہی کے اسیرہیں۔وہ اسلام،پاکستان اوراہل کشمیرکے ساتھ محبت کی سزاکاٹ رہے ہیں۔

مزید : کالم