ایک مردباکمال کی آپ بیتی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 12

31 جولائی 2017 (12:45)

تحریر: پیر ابونعمان

پیر صاحب سادہ طبیعت کے مالک اور فقروفاقہ رکھتے ہیں۔ مہمان نواز ہیں مگر اپنے لیے ہمیشہ سادہ کھانا پینا پسند فرماتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی سائل فون کرکے آپ سے کہے کہ جی مجھے پیر صاحب سے بات کرنی ہے ۔ آپ کون صاحب کر رہے ہیں تو آپ ہمیشہ فرماتے ہیں کہ میں جامعہ کا خادم بات کر رہا ہوں۔ یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ شان تفاخر سے کام نہیں لیتے۔ تکبر و نخوت سے دامن بچا کر رکھتے ہیں۔ اپنے لئے نہیں جامعہ کے لیے دست دعا بلند رکھتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ والیو ہماری فلاح اور نجات کا ذریعہ جامعہ کی کامیابی میں ہے۔

پیر صاحب میرے ہمیشہ میری قدر کرتے اور بچیوں کو بھی یہی درس دیتے ہیں کہ مردوں کو اپنی اوربے گانی خواتین کا بھی بہت احترام کرنا چاہئے۔ باہر سے گھر آئیں تو میرے لئے تحائف لاتے ہیں اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو کیا کیا چاہئے۔ میرے پیر با حیا انسان ہیں۔ آپ میرے کزن بھی ہیں لہٰذا مجھے علم ہے کہ آپ بچپن اور جوانی میں بھی آلودگی سے محفوظ رہے۔ کبھی سگریٹ نہیں پیا۔ جن دنوں آپ مالی کا کام کرتے تھے ایک بار چند دوستوں نے آپ کو شراب کے گھونٹ پلانے کے لیے شرط لگا دی اور کہا اگر آپ دو گھونٹ پی لیں تو آپ کو دس ہزار روپے دیں گے۔

آپ برہم ہوگئے اور فرمایا ’’اگر تم دس لاکھ بھی دو تو میں ایک گھونٹ کیا شراب کی بوتل کی جانب نظر اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کروں گا۔ ‘‘

ایک مردباکمال کی آپ بیتی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 11 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اللہ کے کریم بندوں میں یہ روحانی طہارت پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ ابھی انہوں نے سلوک کی راہ پر قدم بھی نہیں رکھا ہوتااور انہیں اس راہ کی سند مل جاتی ہے۔ ان کا کردار حیا سے مشروط ہوتا ہے۔ جسمانی اور روحانی پاکیزگی اختیار کرکے ہی وہ اس راہ کے مسافر بنتے اور قرب الٰہی اور عشق محمد ﷺ سے اپنی نجات جوڑدیتے ہیں۔ وہ ذکر الٰہی اور درود شریف میں مصروف رہ کر جام معارف پیتے ہیں اور دینی انہماک ان کے لیے کافی ہوتا ہے۔

خواتین کی علمی تربیت اور حصول علم کی افادیت پر پیر صاحب فرماتے ہیں کہ بلاشبہ علم شرافت وکرامت اور دارین کی سعادت سے بہرہ مند ہونے کا بہترین ذریعہ ہے، انسان کودیگر بے شمار مخلوقات میں ممتاز کرنے کی کلید اور ربّ الارباب کی طرف سے عطا کردہ خلقی اور فطری برتری میں چار چاند لگانے کا اہم سبب ہے؛ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ مقصدِ تخلیقِ انسانی تک رسائی علم ہی کے ذریعے ممکن ہے، علم ہی کی بہ دولت انسانوں نے سنگلاخ وادیوں، چٹیل میدانوں اور زمینوں کو مَرغ زاری عطا کی ہے، سمندروں اور زمینوں کی تہوں سے لاتعداد معدنیات کے بے انتہا ذخائر نکالے ہیں اور آسمان کی بلندیوں اور وسعتوں کو چیرکر تحقیق کے نت نئے پرچم لہرائے ہیں۔ دنیا میں رونما ہونے والے تمام محیرالعقول کارنامے علم ہی کے بے پایاں احسان ہیں۔علم و تعلیم کا حق مردو زن کوحاصل ہے۔

میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی عورتوں کی تعلیم کا اہتمام فرماتے تھے اور ان کی خواہش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باضابطہ ان کے لیے ایک دن مقرر کردیا تھا۔جس میں عورتیں جمع ہوتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ان کے حسب حال نصیحت فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کے اندر حصولِ علم کے تئیں بے حد شوق اور جذبہ بے پایاں پایا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے شوقِ طلب اور ذوقِ جستجو کی قدر کرتے ہوئے، ان کی تعلیم وتربیت کا اہتمام فرماتے تھے۔ تعلیم وتربیت کے اسی عمومی ماحول کا اثر ہے کہ جماعتِ صحابیاتؓ میں بلند پایہ اہل علم خواتین کے ذکرِجمیل سے آج تاریخ اسلام کا ورق ورق درخشاں وتاباں ہے۔ امہات المومنین میں حضرت عائشہؓ وحضرت ام سلمہؓ فقہ وحدیث و تفسیر میں رتبہ بلند رکھنے کے ساتھ ساتھ تحقیق وروایت کے میدان کی بھی شہہ سوار تھیں،۔ حضرت ام الدردادء الکبریؓ اعلیٰ درجے کی فقیہ اور عالمہ صحابیہ تھیں۔ حضرت سمرہؓ زبردست عالمہ تھیں،آپؓ نے عمر دراز پائی، بازاروں میں جاکر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرتی تھیں اور لوگوں کو ان کی بے راہ روی پر کوڑوں سے مارتی تھیں۔نفیسہؓ جو حضرت امام حسنؓ کی پوتی تھیں اور حضرت اسحاق بن جعفرؓ کی اہلیہ تھیں، انھیں تفسیر وحدیث کے علاوہ دیگر علوم میں بھی ادراک حاصل تھا، ان کے علم سے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی بھی معتد بہ تعداد نے سیرابی حاصل کی، ان کا لقب ’’نفیسۃ العلم والمعرفہ‘‘ پڑگیا تھا، کئی رفیع القدر اہل علم دینی مسائل پر ان سے تبادلۂ خیال کرتے تھے۔ایسی بے مثال مسلم خواتین کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ دین کی خدمت کا حق تبھی ادا ہوسکتا ہے جب خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔دین کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کو اپنے حقیقی مقام اور حقوق کا بہتر علم ہوتا ہے۔وہ عقل و دانش ،صبر و استقلال کا پیکر ہوتی ہیں۔اسلامی معاشرے کی بنیاد تب ہی مضبوط ہوسکتی ہے جب دین کی تعلیم سے آراستہ خواتین اپنے گھروں میں مردوں کا عقید�ۂایمان درست کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔

پیر محمد رمضان رضوی سیفی نے خواتین کی دینی و باطنی تربیت کے لیے جامعہ تعمیر کرایا ہے اور یہاں وہ اخلاقی و سماجی رویّوں کی بھی تربیت دیتے ہیں۔ جامعہ کی ایک معلمہ صوبیہ اعجاز سیفی کا کہنا ہے کہ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ دین کی تعلیم کا ایک پہلو یہ ہے کہ جو بھی اسے حاصل کرے وہ ایک مفیدانسان بن جائے۔ وہ جہاں بھی رہے اور جہاں بھی جائے اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار اور علمی بصیرت سے ثابت کرے کہ وہ ایک اچھا مسلمان ہے اور مسلمان ہونے کی یہ نشانیاں ہیں جو اس کے قول و فعل اور کردارسے نظر آتی ہیں۔ محض رٹا لگوانے سے علم نہیں پھیلتا بلکہ اس علم کو انسان کے خون میں شامل ہو جانا چاہئے تاکہ وہ صاحب بصیرت بن جائے اور اپنے کردارسے نظر آئے۔

حافظہ صوبیہ اعجازسیفی پانچ سال سے جامعہ میں قرآن پاک پڑھا رہی ہیں ۔وہ اب تک سینکڑوں طالبات کو ناظرہ اور حفظ قرآن کراچکی ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں ’’پہلے جس عقیدہ سے میرا تعلق تھا وہ پیروں کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ درود و سلام کی محافل اور ختم شریف کو مانتا ہے۔ میں فیصل آباد کے جس گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں وہاں ایسے لوگوں کی اکثریت تھی۔ میں نے انہی کے مدرسہ میں حفظ قرآن کیا۔ ایک زمیندار گھرانے سے میرا تعلق ہے۔ میں مزید پڑھنا چاہتی تھی مگر میرا مزید تعلیم کا رجحان مذہبی تعلیم کی جانب تھا۔ میں چاہتی تھی جو میں پڑھ چکی ہوں۔ اب اس کو آگے تک پھیلاؤں۔ ناگہانی کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے کہ مجھے نوکری کی ضرورت بھی پیش آگئی۔ جس مدرسہ سے میں نے تعلیم حاصل کی تھی انہوں نے ہی مجھے ساتھ والے گاؤں میں قرآن پاک کی تعلیم کے لیے طالبات کے مدرسہ میں معلمہ لگوا دیا۔ لہٰذا میں حفظ وناظرہ کے لیے طالبات کو پڑھانے لگی۔ اس دوران میرے رشتہ کی بات لاہور میں چلی۔ مگر میرے گھر والوں کو یہ رشتہ پسند نہیں تھا کیونکہ وہ لڑکا ختم شریف جیسے عقائد پر یقین رکھتا تھا ،غربت بھی ان کے ہاں تھی، کئی مسائل تھے۔ ہمارے عزیز بھی تھے اور میری بڑی بہن کی شادی بھی اس کے بڑے بھائی سے ہوئی تھی۔ یعنی وہ میری بہن کا دیور تھا۔ اس دوران ادھر پیر صاحب نے2007ء میں جب مدرسہ شروع کیا اور پھر اسے آہستہ آہستہ ترقی دینے لگے تو انہیں معلمہ کی ضرورت پیش آئی۔ میرے وہ عزیز اعجاز سیفی جن کی شادی کا میرے لئے پیغام آتا رہا تھا وہ پیر صاحب کے عقیدت مند تھے اور انہوں نے اعجاز سیفی کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ اعجاز صاحب نے پیر صاحب کو میرے متعلق بتایا کہ اگر آپ صوبیہ کو بطور معلمہ لے آئیں تو آپ کے جامعہ کا نظام بھی بہترہو جائے گا اور ایک محنتی معلمہ دستیاب ہو جائے گی لہٰذا پیر صاحب ہمارے گاؤں آئے اور میرے والدین کے ساتھ اپنے حسن سلوک و اخلاق اور عاجزی کے ساتھ ایسا سوال کیا کہ صوبیہ کو میری بیٹی بنا دیں۔ میری یہ بیٹی دین کی خدمت کرے گی۔ قصہ مختصر کہ والدین پیر صاحب سے متاثر ہوئے اور پھر جب ان کے جامعہ میں آئی تو ایک بہو کی حیثیت میں مجھے یہاں احترام حاصل ہوا۔ وہی لڑکا جسے ہمارے والدین پسند نہیں کرتے تھے پیر صاحب کی توجہ و شفقت اور وکالت سے میرا مجازی خدا بن گیا۔ پیر صاحب نے اس روز سے اب تک ہمارا بہت خیال رکھا ہے۔ ماشاء اللہ میرے اب دو بچے ہیں۔ میں یہاں طالبات کو پڑھاتی ہوں ۔ کرائے کے گھر میں رہتی ہوں۔ اپنے ہم سفر کے ساتھ غربت کی ساتھی ہوں مگر کبھی ناشکری اور شکوہ نہیں کیا۔ میں نے پیر صاحب کے دست مبارک پر بیعت کی ہے۔ میں آپ کو پیر صاحب کے اخلاق اور انسانیت سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں۔ میرے پیر صاحب کے دل میں ذرہ برابر بھی دنیا کی ہوس نہیں ہے۔ ہمارے پاس کوئی روپیہ پیسہ پس انداز کرنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ ایک روز پیر صاحب نے فرمایا’’ صوبیہ تم اور اعجاز تیاری کر لو۔ ہم سب عمرہ کریں گے‘‘ میں حیران رہ گئی۔

’’یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میرے پاس تو پاسپورٹ بنوانے کے پیسے نہیں ہیں۔‘‘ میں نے عرض کیا تو پیر صاحب نے فرمایا ’’جس ہستی نے بلایا ہے بندوبست بھی وہیفرمائیں گے۔ بس تم ٹھان لو۔‘‘ دل میں شک و شبہ اور مایوسی پیدانہ کرو۔‘‘ میں نہیں جانتی میرا پاسپورٹ کیسے بناا ور پھر جب میں دیار نبی ﷺ میں پہنچی تو یقین و گمان سے زیادہ نعمتوں سے سرفراز ہوئی تو میرے عقیدہ میں مزید پختگی آگئی۔(جاری ہے )

ایک مردباکمال کی آپ بیتی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 13 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(اس داستان کے بارے میں اپنی رائے دیجئےsnch1968@gmail.com )

مزیدخبریں