’’ کبھی سَر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے‘‘

’’ کبھی سَر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے‘‘
’’ کبھی سَر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے‘‘

  

فارم 45 کا بروقت جاری نہ کیا جانا، پورے انتخابی عمل کو داغ دار کر گیا۔ یہ فارم پولنگ افسر پولنگ بوتھ میں گنتی مکمل ہونے کے وقت تمام امیدواروں کے ایجنٹوں کو جاری کرتا ہے۔ یہ فارم امیدوار کے لئے یوں ضروری ہوتا ہے کہ وہ نتائج میں کسی تبدیلی کی صورت میں اپنے دعوے کی صورت میں یہ دستاویز پیش کر سکتا ہے۔

بعض انتخابی حلقوں میں یہ فارم جاری کئے جارہے تھے کہ اچانک روک دئے گئے۔ ایسا کیوں ہوا ؟ کس کے حکم پر قانونی تقاضے کی خلاف ورزی کی گئی؟ کیا عوامل اور مقاصد تھے یہ وہ سوال ہے جس کا جواب الیکشن کمیشن کو دینا ہے۔ سب سے زیادہ اخراجات کئے جانے والے مہنگے انتخابات کے باوجود کمیشن بری طرح (میری نظر میں ) بہتر انداز میں انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کمیشن میں بیٹھے ہوئے افلاطون حضرات ہیں جنہیں باہر کی دنیا کے زمینی حقائق سے آگاہی حاصل نہیں ہے۔

اس عمل میں امیدواروں اور ایجنٹ حضرات کے کردار پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ امیدواروں کی اکثریت کے پاس اتنے ایجنٹ ہی نہیں ہوتے ہیں۔ ایک ایک پولنگ اسٹیشن پر تین یا چار پولنگ بوتھ ہوتے ہیں تو ہر ایک میں پولنگ ایجنٹ چاہئے ہوتا ہے۔

ملک بھر میں شائد ہی ہزاروں امیدواروں میں سے سینکڑوں امیدواروں کے پاس تمام پولنگ اسٹیشن کے لئے پولنگ ایجنٹ ہی موجود نہیں ہوا کرتے ہیں۔ البتہ دوران پولنگ موجود بعض ایجنٹوں کا تو کہنا ہے کہ گنتی ختم ہونے کے بعد انہیں امن و امان قائم رکھنے والے اہل کاروں نے پولنگ اسٹیشن سے زبردستی باہر نکال دیا۔ ان کے اعتراض پر کہا گیا کہ آپ کو فارم پیکنگ کے بعد دے دیا جائے گا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

پولنگ کا پورا عمل شفاف تھا۔

ووٹر کے پولنگ اسٹیشن میں داخلہ کے وقت سے باہر آنے تک شفافیت تھی لیکن ووٹ بھگتانے اور ڈبے میں ڈالنے کا عمل تیز رفتار اس لئے نہیں ہوسکتا تھا کہ پولنگ بوتھ کم بنائے گئے تھے ۔

کئی مقامات پر تو پولنگ اسٹیشن کا قیام ہی مذاق تھا۔ بات ہو رہی ہے گنتی کی اور فارم 45 کے اجراء کی۔ گمان یہ ہے کہ ڈی آر او کے دفتر میں بیلٹ پیپروں پر دوبارہ مہر لگا کر جن کے ووٹ ضائع کرنا تھے ، ضائع کئے گئے۔ کوئی با اختیار جوڈیشل کمیشن ہی ڈی آر او کے دفتر میں پریزائدنگ افسران کے تیار کردہ نتیجہ کا جائزہ لے سکتا ہے اگر انتخابات کی ساکھ برقرار رکھنا مقصود ہے اور الیکشن کمیشن کا بھرم رکھنا ہے۔دوبارہ گنتی کی کئی حلقوں میں درخواستوں کا رد کیا جانا، مزید شکوک ا شبہات پیدا کرتا ہے۔

کیا یہ افسوس ناک نہیں ہے کہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست رد کر دی گئی؟ کیوں ؟ کیوں نہیں ان کی یا ان کے نمائندے کی موجودگی میں دوبارہ گنتی ہو سکتی۔ الیکشن کمیشن یا ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسران کیوں نہیں یہ وضاحت کر سکتے ہیں کہ ووٹوں کی بڑی تعداد میں منسوخ کئے جانے کی کیا وجوہات ہیں۔

بعض حلقوں میں تو منسوخ کئے جانے والے ووٹوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ دوسرے نمبر والے امیدوار کو اگر وہ ووٹ مل جائیں تو وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیا شفافیت کا تقاضا نہیں ہے کہ نتائج کو حتمی قرار دینے سے قبل دوبارہ گنتی کی تمام درخواستوں کو منظور کیا جائے اور منسوخ کئے جانے والے ووٹوں کا سبب بتایا جائے۔

سندھ میں قومی اسمبلی کے جیکب آباد کے حلقہ این اے 196 میں تحریک انصاف کے امیدوار محمد میاں سومرو مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار اعجاز حسین جکھرانی سے 5398 ووٹ زائد لے کر کامیاب قرار دئے گئے۔ اس حلقہ میں منسوخ کئے جانے والے ووٹوں کی تعداد 13660 ہے۔ یہ تو صرف ایک حلقہ کی مثال ہے۔ کئی حلقوں کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے کہ ووٹوں کی منسوخی کسی بڑے منصوبہ کا حصہ تھی۔ اکثر حلقوں میں پولنگ اسٹاف نے دانستہ سست روی سے پولنگ کرائی ۔ کئی حلقوں میں تو گنتی کے دوران موجود افراد ایک بات بتاتے ہیں کہ بیلٹ پیپر پر لگائی جانے والی مہر کا عکس سامنے والے امیدوار کے خانہ میں بھی آگیا تھا جو ووٹ کی منسوخی کا سبب قرار دیا گیا تھا۔ ایسا بیلٹ پیپر ہی کیوں تیار کیا گیا جسے تہہ کرتے وقت مہر کی سیاہی دوسرے خانہ پر بھی لگ گئی۔

سجاد احمد جان 1977 میں چیف الیکشن کمشنر تھے ۔ انتخابی عمل پر شکایات کے نتیجے میں ان کے ہٹ دھرمی والے بیانات اخبارات میں موجود ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں بڑے پیمانے پر بلامقابلہ منتخب ہونے والے امیدواروں پر تو اعتراض تھا ہی لیکن انتخابی عمل میں بھی بڑے پیمانے پر جعلی ووٹنگ ہوئی تھی۔

اگر وہ انتخابات شفاف ہوتے تو پیپلز پارٹی کی کامیابی یقینی تھی البتہ اکثر پیپلز پارٹی مخالف سیاسی قائدین ضرور منتخب ہوجاتے تو اس سے کیا فرق پڑتا تھا۔ الیکشن کمیشن کی ہٹ دھرمی نے قومی اتحاد کی تحریک کو کامیاب کرنے میں ایک طرح سے مدد کی تھی۔

کیا وہ کسی کا نتیجہ تھا یا خوشامدی سرکاری ملازمین کی کارستانی تھی؟ وہ سب سازش تھی جسے بھٹو جیسا زیرک سیاست دان بھانپ نہیں سکا تھا۔ بہت بعد میں انہیں احساس ہوا تھا تو وہ راولپنڈی کی سڑک پر ایک جلسہ میں امریکہ کو ذمہ دار قرار دے رہے تھے حالانکہ ان کے قریبی ساتھی ، ان کی کابینہ کے رکن رفیع رضا سازش سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے بھی بھٹو کو لاعلم رکھا تھا۔ موجودہ انتخابات کے بارے میں بھی لوگ اسی طرح کی شکایت کر رہے ہیں کہ اکثر بڑے سیاسی رہنماؤں مثلا اسفند یار ولی، محمود خان اچک زئی، مولانا فضل الرحمان، آفتاب شیر پاؤ، شہباز شریف، فاروق ستار، پیر پگارو کے بھائی پیر صدر الدین راشدی، مصطفےٰ کمال، وغیرہ کو ’’ ضرورت ‘‘ کے تحت دانستہ باہر رکھا گیا ہے۔ کراچی میں لیاری سے بلاول کی ناکامی کو لوگ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

2013 کے انتخابات میں تو 1977سے بھی بدتر ہوا تھا۔ حیدرآباد میں حاجی نظام الدین کی شکایت میں وزن تھا کہ انگوٹھے پر غبارہ پہن کر بیلٹ پیپر پر انگوٹھے لگائے گئے تھے جو نادرا سے کسی صورت میں تصدیق نہیں ہو سکتے تھے ۔

ٹنڈومحمد خان کے میر عنایت تالپور مرحوم اور مٹیاری کے محمد علی شاہ جاموٹ کی شکایات زیادہ وزنی تھیں کہ درجنوں بیلٹ پیپر ایک ساتھ بیلٹ بکس میں ڈالے گئے تھے ۔ تمام پر تہہ کا ایک جیسا نشان موجود تھا۔ یہ وہ ثبوت تھے جن کی بنا پر کم از کم ان حلقوں میں تو انتخابات دوبارہ کرائے جاسکتے تھے ۔ ہالہ میں تو عبدالرزاق میمن کا مخدوم امین فہیم کے خلاف مقدمہ یہ ثابت کر رہا تھا کہ مخدوم امین فہیم دھاندلی کے مرتکب ہوئے تھے لیکن الیکشن ٹریبیونل نے پورا مقدمہ چلانے کے بعد عین فیصلہ والے روز عبدالرزاق کی درخواست فنی بنیاد پر منسوخ کر دی تھی۔

اب تو چونکہ مدت ہی گزر گئی اس لئے لوگ ملک بھر میں ہونے والے واقعات کا تفریحی انداز میں ذکر کرتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے خود اسے آر او الیکشن قرار دیا۔ عمران خان چار حلقے کھولنے کی بات کررہے تھے لیکن نواز شریف اور ان کے افلاطون مشیروں کی رائے اس سے مختلف تھی، نتیجہ جو بھی نکلا ، سب سے سامنے ہے۔

کیا اس تماش گاہ میں ضروری ہے کہ ہر چیز کو تماشہ بنایا جائے۔ سابق بلوچستان اسمبلی میں راتوں رات وزیر اعلیٰ کی رخصتی ، سینٹ چیئرمین کا انتخاب ایسے ہی عمل کا حصہ قرار دئے جاتے ہیں۔

اب 2018 کے انتخابات پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، سوالیہ اعتراضات کئے جارہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر رضا محمد خان اور کمیشن کے تمام اراکین کو تمام اعتراضات اور سوالات کا بھرپور جواب دینا چاہئے۔

کمیشن کے سیکریٹری بابر یعقوب کیوں ادھورے جوابات دے رہے ہیں۔ انہیں مکمل کمیشن کی موجودگی میں کیوں جواب دینا چاہئے۔ یہ جواب کون دیگا کہ فارم 45 جاری کرنے میں کیا قباحت تھی ؟ بد انتظامی کا ذمہ دار کون تھا۔

کیا کمیشن نے پریزائدنگ افسران سے معلوم کیا کہ فارم 45 گنتی کے بعد کیوں جاری نہیں کئے گئے؟ کیا قوم کا بیس ارب روپے کا خرچہ اسی لئے کیا گیا تھا کہ انتخابی عمل مشکوک ہوجائے اور اس پر حرف آ جائے۔ مولانا حسرت موہانی نے الیکشن کمیشن کے لئے ہی کہا ہوگا :

’’ تیری بے وفائیوں پر تیری کج ادائیوں پر،

کبھی سَر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے ‘‘

ختم شد

مزید : رائے /کالم