شناختی کارڈ پہ ڈاکہ

شناختی کارڈ پہ ڈاکہ
شناختی کارڈ پہ ڈاکہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

2018ء کے عام انتخابات کو استعاراتی طور پر یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں اکثریت کے گھروں پر نقب لگا کر نامعلوم ڈاکوؤں نے لوگوں کے شناختی کارڈ وں پہ ڈاکہ ڈالا ہے اور 25جولائی کو اپنی مرضی کا نتیجہ حاصل کرلیا۔

یہ مذاق کی بات تو لگتی ہے، لیکن انتخابات سے ہفتہ قبل سوشل میڈیا پر یہ لطیفہ عام تھا کہ چونکہ نون لیگیوں نے نواز شریف کو ووٹ دینے سے باز نہیں آنا اس لئے ان کے شناختی کارڈ چوری کر لئے جائیں۔ بعض ایک گھروں میں تو لوگ اپنے شناختی کارڈوں کی حفاظت کرتے بھی پائے گئے ۔

اس کے باوجود ان کی شناخت پر ڈاکہ پڑگیااور ملک پر ایک ایسا مینڈیٹ نافذ کردیا گیا ہے جو بڑی حد تک جعلی ہے کیونکہ اکثر گھرانوں میں ووٹوں کی تقسیم اس مرتبہ بھی وہی تھی جو 2013ء میں تھی اور بہت کم ایسے تھے جو نون سے کٹ کر جنون سے جا ملے ہوں ۔

لہٰذا اگر ووٹوں کی تقسیم میں تبدیلی نہیں آئی تو انتخابی نتائج میں تبدیلی کیسے آسکتی ہے ، ضرور کسی رانگ نمبر نے یہاں ابہام پیدا کیا ہے اور پاکستانیوں کے مینڈیٹ کے ساتھ مذاق ہو گیا ہے۔

اس سے بڑھ کر تشویش کی بات یہ ہے کہ انتخابات سے قبل عدلیہ اور میڈیا کو سرکس کے جانوروں کی طرح سدھایا گیا اور الیکشن کے موقع پر الیکشن کمیشن کو بھی مجبور کردیا گیا کہ وہ سر کے بل جا گرے ۔ اس میں شک نہیں کہ آزاد عدلیہ، میڈیا اور الیکشن کمیشن ہی عوامی امنگوں ، خواہشوں اور آرزوؤں کے اصل امین ہوتے ہیں لیکن اگر ان تنیوں اداروں کو ہی مجبور محض بنادیا جائے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے ، جو نکلا ہے کہ چار سو مایوسی ہے اور خود پی ٹی آئی کے لوگ کہتے پائے جاتے ہیں کہ انہیں اس مرتبہ انتخابات کا مزا نہیں آیا کیونکہ کہیں بھی ویسی گہما گہمی نہیں تھی جو انتخابات کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔

دوسرے معنوں میں عدلیہ، میڈیا اور الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھ کر دراصل آئین سے انحراف کیا گیا جو عوام کی انصاف تک رسائی ، آزادی اظہار اور حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال کے حقوق کو یقینی بناتا ہے۔

لہٰذا صرف پاکستانی عوام کی شناخت پر ہی ڈاکہ نہیں ڈالا گیا بلکہ آئین پاکستان کو بھی عضو معطل بنا کر رکھا گیا۔ستم تو یہ ہے کہ وکلاء ، آزاد اور خودمختار میڈیا پرسنز اور الیکشن کمیشن کے اراکین اپنی آواز بلند نہ کر سکے ۔

خود ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور یورپی یونین کے الیکشن آبزورز نے انتخابات سے قبل اور بعد میں برملا اپنی رپورٹوں میں کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار کو سلب کیا گیا اور امریکہ نے بھی سرکاری سطح پر تشویش کا اظہار کیا ۔ انتخابات سے قبل جس انداز سے ایک ہی سیاسی جماعت کو معتوب کئے رکھا۔ وہ سارا عمل انتہائی قابل مذمت ہے۔

لیکن فکر کی کوئی بات نہیں کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے عوام کے حق حاکمیت کا سفر کھوٹا تو ہوا ہے ، کھویا نہیں ہے ۔ پاکستانی عوام دوبارہ سے اپنے حق حاکمیت کے لئے کھڑے ہوجائیں گے، ناں تو یہ جنگ نئی ہے اور ناں ہی یہ ہار نئی ہے۔اب اگر کوئی نئی بات ہوگی تو وہ جیت ہوگی ،جو انشاء اللہ ہوگی!

ہمارے ایف بی آر کو بڑی تشویش لاحق ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں ایک ماہ کی توسیع کے باوجود صوبہ پنجاب سے انتہائی غیر متاثر کن ریسپانس آیا ہے ۔ خود چیئرپرسن ایف بی آر انتخابات سے قبل کشاں کشاں لاہور تشریف لائے اور انہوں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹوں اور ٹیکس پریکٹیشنروں سے بات چیت کی کہ انہیں بتایا کہ جائے کہ آخر لوگ اس سکیم کا فائدہ کیوں نہیں اٹھا رہے۔

انہیں تجویز دی گئی کہ وہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں، شوگر ڈیلروں اور سوتر منڈی کے ڈیلروں کی تنظیموں کے اراکین سے ملیں ۔ چنانچہ گزشتہ ہفتے ایف بی آر نے ڈی ایچ اے لاہور کے رئیل اسٹیٹ ایجنٹوں کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے متعلق آگاہی دی گئی۔ بحیثیت صحافی ہم بھی اس تقریب میں چلے گئے جہاں تقریر کے دوران ایف بی آر کے نمائندے نے جب یہ کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے توہمارے پہلو میں بیٹھے ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ نے ہمارے کان میں پھونک ماری کہ یہ لوگ ووٹ کو عزت دیں تو لوگ انہیں ٹیکس دیں ۔

ان صاحب کی بات سن کر ہمارے تو رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ لوگ اس حد تک اپنے حقوق کا ادراک رکھتے ہیں کہ اس لئے حکومت سے تعاون نہیں کر رہے کہ ریاست ان کے حق رائے دہی کو تسلیم نہیں کر رہی ہے ۔

اگر یہ بیانیہ عام ہوگیا تو عمران خان پاکستان کے سب سے غیر مقبول وزیر اعظم ثابت ہوں گے اور ممکن ہے کہ جس طرح الیکشن سے پہلے ان کے جلسے خالی ہوتے تھے ، آئندہ بھی انہیں ویسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے۔

پی ٹی آئی کے حلقے کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ جو ہونا تھا وہ ہوگیا ، اب پی ٹی آئی کو ڈیلیوری کا موقع ملنا چاہئے ۔ ہمارا ماننا ہے کہ اگر ڈیلیوری ہی کسی کی مقبولیت یا غیر مقبولیت کا معیار ہوتی تو 2018ء کے انتخابات کا نتیجہ وہ نہ آتا جو آیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی پورے پشاور کو اکھاڑ کر جیت گئی اور نون لیگ لاہور کو پیرس بنا کر بھی چار سیٹیں ہار گئی۔

ثابت ہوا کہ انتخابات ڈیلیوری سے نہیں دلبری سے جیتے جاتے ہیں ، جو کوئی دلبری کے مقام پر فائز ہوگا جیت اسی کی ہوگی۔ڈیلیوری کی باتیں بے کار ہیں۔حیرت تو تینوں صوبوں سے اٹھنے والی ان آوازوں پر ہوتی ہے جو برملا کہا کرتی تھیں کہ کاش ہمارے پاس بھی شہباز شریف جیسا وزیر اعلیٰ ہوتا۔ الیکشن کے نتائج تو بتاتے ہیں کہ وہ لوگ بھی اب خدا کا شکر ادا کر رہے ہوں گے کہ ان کے پاس کوئی شہباز شریف نہیں تھا ، وگرنہ ان کے ہاں بھی الیکشن کے نتائج ویسے ہی ہوتے جیسے کہ پنجاب میں ہیں۔

2018ء کے عام انتخابات کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 2013ء میں انتخابات کے بعد ہارنے والی جماعتوں نے ریٹرننگ افسروں یعنی آراوز پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کی ہے لیکن اس مرتبہ تو براہ راست الیکشن کمیشن پر الزام لگ رہا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر فارم 45روکے رکھا اور سیکورٹی اہلکاروں نے ہارنے والی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو ووٹوں کی گنتی میں نہیں بیٹھنے دیا۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام انتخابات کے انعقاد کے بعد لگا تھا ، اس سے پہلے اپوزیشن نے نتائج کو تسلیم کیا تھا اور نون لیگ کو مبارکباد دی تھی ۔

2018ء میں دھاندلی کا الزام انتخابات کی شام سے لگ گیا اور انتخابات کے چار دن بعد بھی نہیں دھل سکا ہے اور کسی اپوزیشن پارٹی نے ابھی تک جیتنے والی پارٹی کومبارکباد نہیں دی ہے ۔

اس سے بھی بڑھ کر خوفناک بات یہ ہے کہ ہارنے والے کسی سیاسی جماعت نے سپریم کورٹ کا رخ نہیں کیا ہے اور انہوں نے حلقے کھولنے کے بجائے الیکشن کو مستردکرتے ہوئے اس کے دوبارہ انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ملک میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تو آگئی ہے مگر انصاف کا جنازہ نکل گیا ہے۔لوگوں کی زبان جو جو کچھ کہتی ہے اگر اسے احاطہ تحریر میں لے آیا جائے توان صفحات کو آگ لگ جائے۔

شیخ رشید کے سوا کسی کو بھی اعلیٰ عدلیہ سے انصاف کی توقع نظر نہیں آرہی ہے۔ آزادی سے قبل کے سیاسی حالات کو قلمبند کرتے ہوئے اکثر تاریخ دانوں نے لکھا ہے کہ انگریز کی پالیسی Divide and Ruleکی تھی۔ پاکستان کو بنے ستر برس کا عرصہ گزر چکا مگرافسوس کا مقام ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ ابھی بھی اس پالیسی پر گامزن ہے۔

مزید : رائے /کالم