جدید دور میں بھی چار کروڑ غلاموں سے جبری مشقت لئے جانے کے انکشافات نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگادیا

جدید دور میں بھی چار کروڑ غلاموں سے جبری مشقت لئے جانے کے انکشافات نے انسانی ...
جدید دور میں بھی چار کروڑ غلاموں سے جبری مشقت لئے جانے کے انکشافات نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگادیا

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)موجود ہ جدید دور میں جب دنیا سے غلامی کے خاتمے کے بلند وبانگ دعوے کئے جاتے ہیں توایسے میں کم از کم چالیس ملین یا چار کروڑ انسان ایسے ہیں، جو جدید غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ تعداد ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ حد تک زیادہ ہے اور غلاموں کی یہ عالمگیر تجارت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

برطانوی نیوز ایجنسی کے رپورٹ کے مطابق کہ آج کی بظاہر جدید، ترقی یافتہ اور باشعور دنیا میں کم ازکم بھی چار کروڑ انسان ایسے ہیں، جن کی تعداد متواتر اس لیے بڑھتی جا رہی ہے کہ دنیا کے بہت سے خطوں میں غربت، مسلح تنازعات اور طرح طرح کے خونریز بحران جدید غلامی کے ماحول کو ہوا دیتے ہی جا رہے ہیں۔

اس جدید غلامی کی کئی شکلیں ہیں، جن میں فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور زرعی فارموں اور ماہی گیری کے شعبے میں کام کرنے والے مردوں کے علاوہ وہ خواتین بھی شامل ہیں جن سے جبری جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔ یہی نہیں جدید غلامی کی انہی صورتوں میں وہ انسان بھی شامل ہیں، جن کے جسمانی اعضاءبیچ دیے جاتے ہیں اور وہ بچے بھی جن سے سڑکوں پر بھیک منگوائی جاتی ہے یا جن کی کم سنی میں زبردستی شادیاں کرا دی جاتی ہیں۔

تھامسن روئٹرز فاو¿نڈیشن کے مطابق کروڑوں انسانوں کو جدید غلامی کی مختلف شکلوں کے ساتھ ان کی شخصی آزادیوں اور بنیادی حقوق سے محروم کر دینے اور ان کا مسلسل استحصال کرتے رہنے کا یہ عمل انسانوں کی سمگلنگ کی وجہ سے بھی پھیلتا ہی جا رہا ہے، جس سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر فعال جرائم پیشہ گروہ مضبوط ہوتے جاتے ہیں اور انہیں ہر سال قریب 150 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق مشرقی بعید کی کمیونسٹ ریاست شمالی کوریا اور افریقہ میں اریٹریا اور برونڈی ایسے ممالک ہیں، جہاں انسانوں کو جدید غلامی کی زندگی پر مجبور کیے جانے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دو سب سے بڑے ممالک، چین اور بھارت اور ان کے علاوہ جنوبی ایشیا میں پاکستان بھی ایک ایسا ملک ہے، جہاں جدید غلامی سے متاثرہ انسانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

مزید : انسانی حقوق