برطانوی لڑکی کو والدین بنگلہ دیش لے آئے اور یہاں پرایسا کام کردیا کہ ہنگامہ برپا ہوگیا، لڑکی نے بوائے فرینڈ کو بتایا تو والدین کو ہی گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا کیونکہ ۔ ۔ ۔

برطانوی لڑکی کو والدین بنگلہ دیش لے آئے اور یہاں پرایسا کام کردیا کہ ہنگامہ ...
برطانوی لڑکی کو والدین بنگلہ دیش لے آئے اور یہاں پرایسا کام کردیا کہ ہنگامہ برپا ہوگیا، لڑکی نے بوائے فرینڈ کو بتایا تو والدین کو ہی گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا کیونکہ ۔ ۔ ۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بریڈفورڈ(ویب ڈیسک) برطانیہ کے شہر لیڈز میں عدالت نے بیٹی کو بنگلہ دیش لے جاکر شادی کیلئے مجبور کرنے والے والد اور والدہ کو بالترتیب ساڑھے چار سال اور ساڑھے تین سال کے لئے جیل بھیج دیا۔ بنگلہ دیشی خاندان جس کا نام لڑکی کے تحفظ کے پیش نظر شائع نہیں کیا جاسکتا نے اپنی بیٹی کو دو سال قبل بنگلہ دیش میں لے جاکر شادی کے لئے مجبور کیا۔

اٹھارہ سالہ لڑکی نے الزام عائد کیا کہ اس کو قتل کی دھمکی دے کر شادی کے لئے مجبور کیا گیا۔ صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب لڑکی نے برطانیہ میں اپنے بوائے فرینڈ سے رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہ کیا جس نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا جس کے باعث بنگلہ دیش میں موجود برطانوی ہائی کمیشن نے بنگلہ دیش پولیس تک شکایت کی۔ اطلاع ملتے ہی مسلح پولیس نے لڑکی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا اور والدین کو گرفتار کرلیا۔ والدین کو جیل کی سزا ملنے کے بعد لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ جانتی ہے کہ اس کے بعد اسے تحفظ کا سوال رہے گا مگر ان بدصورت مونسٹرز کی جیل سے میرا دل ٹھنڈا ہوگیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ