تاریخ میں پہلی مرتبہ روس میں پاکستان کے لیے ایسا کام کر دیا گیا کہ جان کر ہر پاکستانی خوشی سے جھوم اٹھے گا

تاریخ میں پہلی مرتبہ روس میں پاکستان کے لیے ایسا کام کر دیا گیا کہ جان کر ہر ...
تاریخ میں پہلی مرتبہ روس میں پاکستان کے لیے ایسا کام کر دیا گیا کہ جان کر ہر پاکستانی خوشی سے جھوم اٹھے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سینٹ پیٹرزبرگ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) روس کی بحریہ کی سالانہ پریڈ میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والے پاکستانی بحری بیڑے نے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا جبکہ اس موقع پر پی این ایس اصلت پر پروقار تقریب میں پاک روس دوستی کا کیک کاٹاگیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز روس کے صدر والادیمیر پیوٹن نے اپنے صدارتی بحری جہاز پر نیواریورسے بالٹکس تک وسیع و عریض سمندری حدود ہونیوالی روسی بحریہ کی پریڈ کا معائنہ کیا۔ روسی بحریہ کی جانب سے بھی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا۔بحری پریڈ میں روس کے 40جنگی طیاروں، 8ہیلی کاپٹروں اور جنگی بحری بیڑوں اور آبدوزوں نے حصہ لیا۔

پریڈ کے دوران بحری فوجی طاقت، جدید ترین ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا جائزہ لیتے ہوئے روسی صدرنے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہماری بحریہ طاقتور اور بہت مضبوط ہے ہماری بحریہ کے جوان 300 سالوں سے طاقت اور جوانمردی سے ملک کا دفاع کر ہے ہیں۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے ساحل پرلوگوں کی کثیر تعداد پریڈ کو دیکھ کر تالیاں بجاتی رہی جبکہ پاکستانی بحری بیڑہ بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔

گزشتہ شام پی این ایس اصلت پر ہونیوالی تقریب کی صدارت روس میں تعینات پاکستانی سفیر قاضی محمد خلیل آ نے کی جبکہ مہمان خصوصی سینٹ پیٹرزبرگ کے نائب گورنرسرگئی این موووچن اورایڈمرل کلیم شوکت وائس چیف آف نیول سٹاف، کمانڈرآف نیول بیس سینٹ پیٹرزبرگ تھے جبکہ میزبانی کے فرائض ملٹری اتاشی بریگیڈئیرمحمد عرفان خان اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان ایمبیسی کے اعزازی قونصل جنرل ڈاکٹر عبدالرو¿ف رند نے سرانجام دیئے۔

پاکستانی سفیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بے حد خوشی ہے کہ پاک روس تعلقات اور دوستی میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستانی بحری بیڑے کو خصوصی طورپر روس کے نیوی ڈے میں مدعوکرنااس دوستی کی زندہ مثال ہے۔ ہم روس کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں روس اور پاکستان ایک دوسرے کیساتھ باہمی تعاون سے آگے بڑھتے رہیں گے۔ نائب گورنر سینٹ پیٹرزبرگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک روس کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی