پارلیمنٹ لاجز کی دکانیں تین سے چھ ہزار روپے میں لیے جانے کا انکشاف لیکن ٹھیکیداروں نے اب کیا کام شروع کردیا؟ حیران کن خبرآگئی

پارلیمنٹ لاجز کی دکانیں تین سے چھ ہزار روپے میں لیے جانے کا انکشاف لیکن ...
پارلیمنٹ لاجز کی دکانیں تین سے چھ ہزار روپے میں لیے جانے کا انکشاف لیکن ٹھیکیداروں نے اب کیا کام شروع کردیا؟ حیران کن خبرآگئی

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پارلیمنٹ لاجزکی دکانوں کے الاٹیوں سے بھتہ لئے جا نے کا انکشاف ہوا ہے۔ دکانیں ایک سال کیلئے الاٹ کی گئیں مگر بعد میں دو بارہ اوپن ٹینڈر نہیں کیاگیا۔ با اثر شخصیات دکانداروں سے رقوم وصول کرتی رہیں۔ یہ انکشاف سینٹ ہاﺅس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ روز ہوا جوچیئرپرسن کمیٹی سینیٹر کلثوم پروین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

سینیٹر محمد اعظم سواتی نے کہا کہ ایک ٹھیکیدار نے فون کے ذریعے آگاہ کیاہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں دکانوں کے ٹھیکوں کی ٹینڈرینگ کے فارم رشوت کے بغیر نہیں دیے جاتے،پارلیمنٹ لاجز کی دکانیں بااثر افراد معمولی ٹھیکوں پر لے کر آگے غریبوں کو مہنگے ٹھیکوں پر الاٹ کر دیتے ہیں جن فرموں کو کام دیا گیا ہے ان کے اصل مالکان کی فہرست کمیٹی کو فراہم کی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ دکانوں کے ٹھیکے 1998 میں 3 ہزار سے6 ہزار فی دکان دیئے گئے تھے۔ پارلیمنٹ لاجز میں 8 دکانیں ہیں،گزشتہ20 سال سےکرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا،چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ دکانیں آگے مزید ٹھیکوں پر دینے میں بااثر لوگ شامل ہیں۔

ڈی جی سروسز سی ڈی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ ٹھیکے چیک کرنا ڈپٹی ڈائریکٹر کاکام ہے،سینیٹر محمد اعظم سواتی نے کہا کہ جس کسی نے بھی کوتاہی برتی ہے ا س کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ذیلی کمیٹی نے ڈی جی سروسز اور ڈائریکٹر پارلیمنٹ لاجز کو معاملے کی انکوائری رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کر دی اور اگلے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کو بھی طلب کر لیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد