نیا پاکستان مبارک ہو

31 جولائی 2018 (14:11)

عائشہ نور

2018 کے عام انتخابات کے نتائج قوم کے لیے خاصے حوصلہ افزاء ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کو انتخابی فتح مبارک ہو۔ اور متوقع وزیراعظم پاکستان عمران خان اگر اپنے پیش کردہ ایجنڈے پر عمل پیرا رہے تو پوری قوم کی دعائیں ان کے ساتھ رہیں گی۔ پاکستانی عوام نے یہ ثابت کردیا کہ وہ باشعور ہیں۔ پاکستان کے عوام نے چوروں اور قاتلوں کو یکسر مسترد کردیا۔ اب معاملہ ن لیگی رہنماؤں پر چھوڑنا چاہیے کہ وہ اب کون سی عدالت کا فیصلہ مانیں گے؟؟؟ کیونکہ عوام کی عدالت نے بھی ووٹ کو خاطرخواہ عزت دے دی ہے۔ توقع ہے کہ عمران خان کی جماعت مرکز , پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پاکستان تحریک انصاف وفاق کی علامت بن گئی ہے جو کہ نیک شگون ہے۔ اب عمران خان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بدعنوان سیاسی مافیا کا کڑا احتساب یقینی بنائیں۔ پاکستان کے عوام کو درپیش بحرانوں اور مسائل سے نکالیں۔ شہداء ماڈل ٹاون کے ورثاء بھی حصولِ انصاف کیلیے عمران خان سے بہت سی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ امید ہے عمران خان عوامی امنگوں پر پورا اتریں گے۔ اس کیلیے عمران خان کو ہرشعبہ زندگی میں اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ فرسودہ نظام سے نجات مل سکے۔

آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء ناکام اور شکست خوردہ لوگ ہیں۔ ایسے لوگ ذاتی سیاسی نقصان کا انتقام لینے کیلیے جمہوری عمل کی راہ میں روڑے اٹکانے سے خود بھی باز رہیں اور دوسروں کو بھی ایسی ترغیبات نہ دیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے مولانا فضل الرحمٰن کی احتجاج کی تجویز مسترد کرکے ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن جیسے سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ اب انتقامی سیاست کا راستہ اختیار نہ کریں کیونکہ یہ ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن اور تسلی بخش رہا۔ پاک فوج کے زیر نگرانی یہ انتخابات پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے۔ دھاندلی کے الزامات عائد کرنے والے امیدواران ثبوت سامنے لانے میں ناکام رہے۔ بعض حلقوں میں اگرچہ کچھ تحفظات کی بناء4 پر بعض حلقوں میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی ہورہی ہے۔ توقع ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد فریقین کے تحفظات دور ہو جائیں گے۔ مسلم لیگ ن کو انتخابی نتائج کھلے دل سے تسلیم کرنے چاہیے۔ اگر رانا ثناء اللہ , طلال چوہدری , عابد شیر علی ,خواجہ سعد رفیق ,شاہد خاقان عباسی کو شکایات ہیں تو ایسی ہی شکایات عثمان ڈار , علیم خان اور چوہدری محمد الیاس کو بھی ہیں جو کہ بالترتیب خواجہ آصف , ایاز صادق اور عابد رضا کے مدمقابل تھے۔ لہٰذا مولانا فضل الرحمٰن کے مشورے پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کسی احتجاجی تحریک کا حصہ بنتیں تو یہ قطعی طور پر درست نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی احتجاج کا حصہ بننے سے انکار اور ن لیگ قومی اسمبلی میں حلف لینے کے فیصلے پر قائم رہیں تو بہتر ہوگا۔ یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ دوسروں کو حلف نہ لینے کا جھانسا دینے والے خود اسمبلی سے باہر ہیں تو مولانا فضل الرحمٰن صاحب آپ سے کس نے اور کون ساحلف لینا تھا ویسے بھی؟؟؟ آپ اپنی منفی سوچ پر نظر ثانی کریں کیونکہ اس مرتبہ پاکستانی عوام نے ایک باشعور قوم کی طرح میرٹ اور منشور کی بنیاد پر اپنے نمائندگان چنے ہیں۔ اور جوبڑے بڑے سیاست دان انتخابات ہارے ہیں , وہ یہ تسلیم کرلیں کہ وہ اپنی ناقص کارگردگی کی بنیاد پر عوام کی طرف سے مسترد ہوئے۔ کیونکہ جب آپ پانچ سال اپنے حلقے کے عوام کو مایوسی کے علاوہ کچھ نہیں دو گے تو پھر عوام بھی انتخابات کے موقع پر آپ کو مایوس ہی کریں گے۔ 2018 کے عام انتخابات سبق آموز ہیں کہ اب عوام میں اتنا شعور ہے کہ وہ اپنے نمائندوں کو کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کریں۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو پاکستان کے بعض حلقوں کے عوام نے انتہائی غلط انتخاب بھی کر لیے ہیں۔ اس کا خمیازہ انہیں آنے والے وقت میں بھگتنا ہو گا۔ عوام کا جو بھی انتخاب ہو, بہرحال تسلیم کرنا ہی ہوتا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر ایک متوازن انتخابی عمل پوری قوم کو مبارک ہو۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزیدخبریں