عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر36

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر36
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر36

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عیسائیوں کی معاہدہ شکنی کا بعض خاندانوں پر یہ اثر پڑا کہ بوسنیا اور سربیا کے بہت سے عیسائی گھرانے خود بخود حلقہ بگوشِ اسلام ہونے لگے۔ سلطان نے ۱۰ نومبر 1444 ء کے بعد چند ہی دنوں میں اپنی سلطنت کا دائرہِ کار پہلے سے بھی زیادہ وسیع کرلیا۔ بوسنیا کی فتح کے بعد عثمانی فوجیں ایک طرح سے فارغ ہوچکی تھیں۔ سلطان نے بوسنیا میں چند دن آرام کی غرض سے قیام کیا ۔ اس قیام کے دوران اس نے شہر میں جگہ جگہ ترک باشندوں کو آباد ہونے کے مشورے دیے۔ بوسنیا میں موجود سلطانی فوج نے صلیبی افواج کی طرح کوئی بے اصولی نہ دکھائی۔ نہ ہی بے جا کسی کو قتل کیا گیا ۔ اور نہ ہی کسی سپاہی نے شہریوں کے گھروں میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر35پرھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قاسم بھی بوسنیا میں موجودتھا ۔ آج اس شہر کو فتح ہوئے دوسرا روز تھا ۔ پہلے روز قاسم اس لشکر میں شامل تھا جو بوسنیا کے شاہی محل پر حملہ آور ہوا تھا ۔ یہاں شاہی خاندان کے بعض نوجوانوں نے قاسم اور اس کے ساتھیوں کو روکنے کوشش کی تھی۔ لیکن وہ سب مارے گئے تھے۔ کل جب قاسم یلغار کرتا ہوا محل میں داخل ہوا تھا ۔ تو اسے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ بوسنیائی محل کی شاہی خواتین مختلف تلواریں اور بھالے لیے ینی چری کے سپاہیوں کو بے حد پریشان کیے ہوئے تھیں، خواتین محل کی مختلف راہداریوں میں جھتے بناکر لڑ رہی تھیں۔ قاسم نے اپنے سپاہیو ں کو عورتوں کا قتل کرنے سے روک دیا ۔ اور خود بآوازِ بلند بوسنیائی شہزادی سے مخاطب ہوا:۔

’’معزز شہزادی!..........آپ کے پورے ملک نے ہمارے سلطان کی اطاعت قبول کر لی ہے ۔ آپ کی لڑائی اس وقت بالکل بے مقصد ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ آپ ہتھیار پھینک کر ہماری تلواروں سے امان حاصل کرلیں۔‘‘

لیکن شہزادی نے شیرنی کی طرح دھاڑتے ہوئے کہا:۔

’’ہم خود کو مسلمانوں کے حوالے کرنے سے پہلے مرجانا پسند کرتی ہیں۔ ہم نے سنا ہے کہ مسلمان سپاہی درندوں سے کم نہیں۔‘‘

’’آپ نے غلط سنا ہے معزز شہزادی ! آپ کے پورے شہر میں کوئی مسلمان سپاہی کسی شہری کے گھر میں داخل نہیں ہوا۔ ہم کسی کو غلام بنانے کے لیے جنگ نہیں کرتے ہماری تلواریں حق اور صداقت کا فیصلہ صادر کرتی ہیں۔‘‘

بوسنیائی شہزادی جس کا چہرہ کسی شعلے کی طرح روشن تھا ، قاسم کی باتوں سے متأثر ہوتی ہوئی دکھائی دینے لگی۔ لیکن پھر بھی اس نے پورے رعب کے ساتھ کہا:۔

’’ٹھیک ہے! اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر ہمارے لیے راستہ چھوڑ دو ۔ ہم محل سے نکل کر خود شہر میں پناہ لے لیں گے........تم لوگ ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ۔‘‘

قاسم نے اپنے سپاہیوں کو ایک طرف ہٹادیا ۔ بوسنیائی شہزادی اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لیے شاہی خواتین کے ہمراہ پورے جاہ وجلال کے ساتھ محل سے نکل گئی۔ قاسم نے ان کا تعاقب کرنا مناسب نہ سمجھا اور محل کی چالیس پچاس خواتین جو کہ سب کی سب شاہی خاندان پر مشتمل تھیں، چند لمحوں بعد سپاہیوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔

آج قاسم ینی چری دستوں کے ہمراہ شہر میں گشت کرتے ہوئے اسی شہزادی کے بارے میں سوچ رہاتھا کہ خدا جانے وہ آفت کی پر کالہ محل سے نکل کر کون سے گھر میں داخل ہوئی ہوگی ۔ سلطانی افواج کو اہل بوسنیا کے ساتھ لڑنے کی زیادہ نوبت نہ آئی تھی۔ صرف شاہی محل میں معمولی سی مزاحمت ہوئی تھی جس پرقاسم نے جلد ہی قابو پالیا تھا ۔ اس وقت قاسم تین چار سواروں کے ہمراہ شاہی محل کی قریبی گلیوں میں سے گزر رہا تھا ۔ بوسنیا کے لو گ ابھی تک فاتح لشکر سے سہمے ہوئے تھے ۔ اور اکا دکا لوگ اپنے گھروں سے نکلنے کی ہمت کر رہے تھے۔قاسم ایک گھر کے قریب سے گزرا تو ٹھٹک کر رک گیا ۔ مکان کے اندر سے کسی عورت کے چیخنے چلانے اور کراہنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ قاسم نے حیر و استعجاب کے ساتھ اپنے ساتھی سواروں کی جانب دیکھا۔ اور پھر تھوڑی دیر کچھ سوچنے کے بعد گھوڑے سے نیچے اتر آیا۔ اس کے ساتھ بھی اس کی تقلید میں اپنے اپنے گھوڑوں سے نیچے اتر آئے۔ وہ محتاط قدموں سے دروازے کی جانب بڑھا او ر پھر اپنی تلوار نکال کر اس کے دستے سے دروازے پر دستک دی ۔ وہ تھوڑی دیر وہیں کھڑا ہوکر انتظار کرتا رہا۔ روتی ہوئی عورت کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی۔ بالآخر قاسم اپنے دونوں ساتھیوں کو دروازے پر کھڑا کر کے اور باقی دو کو اپنے ہمراہ چلنے کا اشارہ کرکے مکان کے اندر داخل ہوگیا ۔ یہ ایک چھوٹا سا مکان تھا ۔ جس کے اندرونی کمرے سے ایک عورت کے کراہنے کی آواز مسلسل برآمد ہورہی تھی۔ قاسم ننگی تلوار لیے احتیاط سے کمرے کی جانب بڑھا۔ اور کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا ۔ لیکن یہ دیکھ کر وہ فوراً الٹے قدموں باہر نکل آیا کہ کمرے میں ایک جوان العمر عورت دردِ زہ سے چلا رہی تھی۔ اس کا بچہ ہونے والاتھا ۔ اور گھر میں اس کی مدد کے لیے کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا ۔ قاسم شش و پنج میں مبتلا ہوگیا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔ معاً اسے کوئی خیال آیا اور وہ تیز تیز قدم اٹھا تا ہوا مکان سے باہر نکلتا چلا گیا ۔ وہ دراصل اڑوس پڑوس سے کسی خاتون کا بندو بست کرنے کے لیے نکلا تھا ۔ کسی ایسی خاتون کا بندو بست جو ایک زچگی میں مبتلا عورت کی مدد کرسکے ۔ اس نے قریب ہی ایک مکان کے دروازے پر دستک دی۔ اور پھر بے چینی سے کسی کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ چند لمحے بعد مکان کے اندر قدموں کی آواز سنائی دی۔ اور پھر کسی نے دروازے کے پیچھے سے ہی ڈری ڈری آواز میں سوال کیا :۔

’’کون؟؟‘‘

یہ ایک بوڑھی مردانہ آواز تھی۔ قاسم نے سوچا مفتوحہ قوم کے لوگ کس قدر ہراساں اور خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ سلطانی لشکر نے بوسنیا میں کسی کی جان و مال کو ضرر نہیں پہنچایا ۔ لیکن پھر بھی شہر کے لوگ گھروں کے دروازے بند کر کے اندر سہمے بیٹھے تھے۔ قاسم نے بوڑھے آدمی کی آواز سنی تو کہا:۔

’’دیکھیئے ! میں سلطانی لشکر کا سالار ہوں ..........آپ کے پڑوس میں ایک خاتون زچگی کے عمل میں مبتلا ہے ۔ اور دردِ زہ سے چلا رہی ہے۔ ایسی عالم میں کسی عورت کو اس کے پاس ہونا چاہیے ۔ لیکن وہ اکیلی ہے ۔ اگر کچھ دیر تک اس کے مدد کو کوئی نہ پہنچا تو وہ یقیناًمرجائے گی.............کیا آپ کے گھر میں کوئی ایسی خاتون ہے جو اس بے چاری کی مدد کرسکے۔‘‘

قاسم کی بات سن کر بوڑھا شخص خاموش ہوگیا ۔ کچھ دیر خاموشی رہی اور پھر دروازہ کھل گیا ۔ یہ ایک ضعیف العمر یورپی باشندہ تھا ۔ اس کی آنکھوں میں حیرت بھی تھی اور خوف بھی بوڑھے شخص نے قاسم کو سر سے پاؤں تک بغور دیکھا۔ اور پھر کہا:۔

’’آپ غالباً .........یہ ساتھ والے گھر کی بات کر رہے ہیں۔ آپ ٹھہریے میں اپنی بیٹی سے بات کرتا ہوں۔‘‘

بوڑھے نے اتنا کہا اور اندر چلا گیا۔ قاسم کو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بوڑھے کا خوف دور ہوچکا تھا ۔ کیونکہ وہ جاتے ہوئے اپنے پیچھے مکان کا دروازہ کھلا چھوڑ گیا تھا ۔ یقیناًاسے اس کی بیٹی کو اپنی پڑوسن کے ہونے والے بچے کی خبر رہی ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ بوڑھے کو قاسم کی بات پر فوراً یقین آگیا۔ اور اس کا ڈر جاتا رہا۔ قاسم یہی کچھ سوچ رہا تھا کہ اسے بوڑھے کے ہمراہ دو عورتیں آتی ہوئی دکھائی دیں۔ ان عورتوں نے اپنے چہروں اور جسم کو بڑی بڑی چادروں کے ذریعے چھپا رکھا تھا ۔ قاسم نے عورتوں کو آتے دیکھا تو ان کے احترام میں سچے مسلمان کی طرح نظریں جھکا لیں ۔ اب قاسم کی پریشانی دور ہوچکی تھی۔ بوڑھا شخص اپنے ساتھ دونوں عورتوں کو لیے ہوئے تیزی کے ساتھ پڑوس کے مکان میں داخل ہوگیا ۔ قاسم نے بوڑھے کر روک کر کہا:۔

’’دیکھیے ! اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تأمل اور بلا خوف و خطر آ پ ہم سے کہہ دیجیے ۔ ہم یہیں دروازے پر کھڑے عملِ زچگی مکمل ہونے تک آپ کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ ‘‘

بوڑھے شخص کی آنکھوں میں حیرت نظر آئی ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ فاتح قوم کے سپاہی تو ایسے نہیں ہوتے اسے اپنی گزشتہ زندگی میں یاد آیا کہ رومن کلیسا کے فاتحین جو ان کے ہم مذہب عیسائی بھائی تھے، جب ایک فاتح کی حیثیت سے اس کے شہر میں داخل ہوئے تھے تو انہوں نے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی۔ گھروں کو لوٹ لیا تھا ۔ نوجوان لڑکیوں کو اٹھا کر لے گئے تھے۔ بوڑھوں او ربچوں کو قتل کر دیا تھا ۔ اور فصلوں کو آگ لگا دی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج یہ مسلمان بھی فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے کسی شہری کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ اور نہ ہی کسی کو ذرہ بھر نقصان پہنچایا تھا ۔ بوڑھا شخص اب حیرت کی بجائے محبت بھری نظروں سے قاسم کو دیکھنے لگا تھا ۔اس نے مکان میں داخل ہونے سے پہلے قاسم سے پوچھا:۔

’’بیٹا ! ایک بات پوچھوں ، برا تو نہیں مناؤ گے ؟‘‘

اس اثناء میں بوڑھے شخص کے ساتھ آنے والی عورتیں مکان میں داخل ہوچکی تھیں۔ صرف بوڑھا ہی دروازے پر کھڑا قاسم سے بات کر رہا تھا ۔ قاسم نے بوڑھے شخص کی بات سن کر خندہ پیشانی سے جواب دیا:۔

’’جی جی ! پوچھیے! میں آپ کی کسی بات کا برا نہیں مناؤں گا۔‘‘

’’دیکھو بیٹھا ! تم جانتے ہو کہ ہم عیسائی ہیں۔ اور ہمارے نجات دہندہ کا نام یسوع مسیح ؑ ہے۔ جو خدا کا بیٹا بھی ہے اور رسول بھی ۔ میں نے سنا ہے کہ تم مسلمانوں کا بھی ایک نبی ہے.............میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ تمہارا نبی خدا وند کا کیا لگتا ہے؟‘‘

قاسم کے لیے بوڑھے کا سوال انتہائی دلچسپ اور غیر متوقع تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔

’’ہمارے نبی کا نام نامی محمد الر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے۔ آپ صرف اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ وحدہٗ لاشریک ہے وہ ہر قسم کی ضروریات اور احتیاجات سے بے پرواہ ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے او ر نہ وہ کسی کی اولاد ۔ اور کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کی ہمسری کا دعویٰ کرسکے۔‘‘

بوڑھے شخص کے ماتھے پر حیرت کی شکنیں نمودار ہوئیں۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک پیدا ہونے لگی ۔ بالکل ویسی چمک جیسی کسی کھوئی ہوئی چیز کے مل جانے پر ہوتی ہے۔ اس نے تیز تیز لہجے میں قاسم سے کہا:۔

’’آپ ضرور یہیں ٹھہریے گا! میں اندر جاتا ہوں ۔ اگر ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو ظاہر ہے آپ سے ہی کہنا پڑے گا ۔ بوڑھا شخص اندر جانے کے لیے مڑا لیکن پھر اچانک ٹھٹک کر رک گیا ۔ اس نے چند لمحے کے لیے کچھ سوچا اور مڑ کر قاسم سے کہا:۔

’’آپ لوگ باہر کیوں ٹھہرتے ہیں ۔اندر آجائیے۔ تھوڑی ہی دیر کی تو بات ہے میں آپ کو صحن میں چارپائی ڈال دیتا ہوں۔ بوڑھے نے اتنا کہا اور پھر قاسم کا جواب سنے بغیر اندر چلا گیا۔(جاری ہے)

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر37 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح