اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 2

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 2

  

میرے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ شاید میرا ہزاروں برس تک زندہ رہنا لوگوں کے لئے ایک درج عبرت ہو کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان قوموں کو تباہ و برباد ہوتے دیکھا ہے جنہوں نے اللہ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے سے انحراف کیا۔ میں نے نیکی اور سچائی کی خاطر اللہ کے برگزیدہ بندوں کو تخت و تاج چھوڑتے اور سولی چڑھتے بھی دیکھا ہے اور دنیا پرست لالچی بندوں کو تخت و تاج کی خاطر اپنے بھائیوں کا خون کرتے تھی دیکھا ہے۔ 

میں نے سینا ، دجلہ اور فرات کی وادی کے عقوبت خانوں میں اللہ کا نام بلند کرنے والوں کے عزم و ہمت کو بھی دیکھا اور مصرویونان کے نخلستانوں اور کازواں سراؤں میں چاندنی راتوں کو بیٹھ کر داستان گوؤں سے گزری تہذیبوں کے عبرت انگیز افسانے بھی سنے اور میرا صدیوں کا سفر جاری رہا۔ 

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 1 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں پہلی بار اپنی طویل ترین زندگی کی داستان رقم کر رہا ہوں۔ یہ داستان خون آشام محلاتی سازشوں ، ہلاکت آفریں محبتوں ، منصوبوں ، قہر بار عداوتوں ، خون ریز رقابتوں ، شعلہ صفت حسن کی حشر سامانیوں ، عدیم النطیر قربانیوں الم انگیز عبرتوں اور انسانی تاریخ کی لہو میں ڈوبی ہوئی بھیانک جنگوں اور قوموں کے عروج اور زوال کے سچے واقعات کی عکاسی کرے گی۔ اس لئے کہ میں تاریخ کے تمام انقلابات اور تہذیب کے ارتقاء و زوال کا عینی شاہد ہوں ۔ آج جب کراچی میں بیٹھ کر انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھ پر یہ افسوسناک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تاریخ کے بعض واقعات کو مورخین نے یکسر بدل ڈالا ہے اور بعض واقعات کو غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا ہے۔ 

لیکن میں آپ کو چھ ہزار برس سے لے کر آج تک تاریخ اور تہذیب کے ہر اس دور کے سچے اور من و عن واقعات سناؤں گا۔ جس دور میں میں خود موجود تھا اور میں نے اپنی آنکھوں سے تلواروں کو بے نیام ہوتے ، سروں کو کٹتے ، آدھی رات کے اندھیروں میں بادشاہوں کے سینوں میں خنجر اترتے اور شہزادیوں کو خواب گاہوں سے فرار ہوتے دیکھا ہے۔ 

میں اس سچی داستان کا ایک ایک ورق ، ایک ایک لفظ آپ کو سناؤں گا۔ میں آپ کو مصر و یونان اور بابل و نینوا اور دجلہ و فرات کے شاہی محلوں میں اپنے ساتھ لے چلوں گا اور آپ اپنی آنکھوں سے ان واقعات کو وقوع پذیر ہوتے دیکھیں گے جنہیں بعد میں آنے والے مورخوں نے مسخ کر دیا۔ 

بارش شروع ہوگئی ہے۔ کھڑکی میں سے سمندر کی جو ہواآرہی ہے۔ اب اس میں ساحل کی گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی مہک بھی شامل ہوگئی ہے۔ موسلا دھار بارش نے سمندر کے ہیجانی سینے پر دھند کی ایک باریک چادر بھیلا دی ہے میں چائے کا آخری گھونٹ پی کی کھڑکی سے باہر سمندر کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ سورج بادلوں کے پیچھے ہی پیچھے سفر کرتا ہوا مغرب کی طرف کافی جھک گیا ہے اور دن کی روشنی شام کی ہلکی سیاہی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ 

مجھے صرف اپنے لباس ، بجلی اور گیس کے معمولی سے بل اور شہر میں آنے جانے کے اخراجات کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرا کھانے پینے کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یونہی چائے کی خوشبو کے لئے کسی وقت چائے پی لیتا ہوں۔ شہر میں لوگوں کے درمیان ہوتا ہوں تو ان کو دکھانے کے لئے کھانا کھا لیتا ہوں۔ ورنہ مجھے نہ بھولگتی ہے نہ پیاس تنگ کرتی ہے کچھ کھا پی لوں تو ٹھیک ہے۔ مہینوں کچھ نہ کھاؤں پیوں توکوئی فرق نہیں پڑتا۔ 

آپ کو یہ ساری باتیں عجیب لگیں گی لیکن جب آپ میری زندگی کی طلسم ہوش ربا کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھ جائیں گے تو آپ کو بھی میری طرح یہ ساری باتیں میرے زندگی کا حصہ محسوس ہونے لگیں گی۔ 

میں کراچی شہر کے ایک خاص حلقے میں جڑی بوٹیوں کے تاجر کے طور پر مشہور ہوں۔ میں ہفتے میں دو تین دن سمندر کے قریب پھیلے ہوئے رتیلے ویران اور اونچی نیچی سنگلاخ ٹیکریوں میں گھوم پھر کر جڑی بوٹیاں تلاش کرتا ہوں اور پھر انہیں شہر لے جا کر فروخت کر دیتا ہوں ۔ یہ کام مجھے اپنے والد سے ورثے میں ملا تھا۔ میرا باپ فراعنہ مصر کے شاہی خاندان کا سب سے بڑا شہزادہ بھی تھا اور جڑی بوٹیوں کا ماہر بھی تھا۔ وہ مجھے آج سے ہزاروں سال قبل شاہی رتھ پر بٹھا کر نیل کے کنارے جنگلوں میں لے جاتا اور قیمتی جڑی بوٹیاں اکٹھی کیا کرتا تھا۔ وہ مجھے ہر بوٹی کے خواص بتاتا اور شاہی محل میں لا کر ان کی ادویات تیار کرتا۔ وہ شاہی محل میں طبیب شہزادہ اخناطون کے نام سے مشہور تھا۔ اس وقت جس فرعون کی حکمرانی تھی اس کا نام کفروتی تھا اور میرے باپ شہزادہ اخناطون کا بڑا بھائی تھا۔ اس کی موت کے بعد میرے باپ کو اور پھر مجھے مصر کے تخت کا وارث بننا تھا۔ مگر میرے باپ نے شاہی محل کی ایک ادنیٰ کنیز سے بیاہ کر لیا تھا جو میری ماں تھی اور فرعون کفروتی کو یہ ہرگز گوارہ نہ تھا کہ اس کی موت کے بعد مصر کے تخت کی وراثت ایک ادنیٰ کنیز کی اولاد میں منتقل ہو۔ پھر کیا ہوا؟ میرا شہزادہ باپ فرعون مصر بننے کی بجائے ایک رات پر اسرار حالات میں کیوں مرگیا؟ میرں ماں کو کس نے ہلاک کیا اور میں اپنے معدے میں زہر ہلا ہل کا سیال لئے شاہی محل سے کیوں بھاگا؟

یہ میری داستان عبرت کا حرف آغاز ہے۔ 

میں اپنی زندگی کی سچی اور ناقابل یقین کہانی اس پر اسرار چاندنی رات سے شروع کرت ہوں جب میرے والد کی میت کو فراعنہ مصر کے شاہی قبرستان میں دفن کیا جا رہا تھا۔ میری والدہ کی قبر شاہی قبرستان کے عقب میں کنیزوں اور غلاموں کے قبرستان میں تھی۔ اس لئے کہ میری والدہ کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں تھا اور وہ ایک کنیز تھی۔ اگرچہ میرے والد کی خواہش یہی تھی کہ اسے میرے والدہ کے پہلو میں غلاموں کے قبرستان میں دفن کیا جائے مگر فرعون کفروتی کے حکم سے میرے باپ کو شاہی خاندان کے ایک اہرام میں دفن کر دیا گیا کیونکہ وہ ایک شہزادہ تھا۔ اس رات چاند کا رنگ زرد تھا اور وہ دارلحکومت ایتھنز کے مشرقی آسمان پر صحرائی ٹیلوں پر جھکا ہوا تھا۔ میرے والد کی حنوط شدہ میت لکڑی کے تابوت میں بند اہرام کے اندر ایک چبوترے پر پڑی تھی اور قبر تیار کی جا رہی تھی۔ صرف دو ایک شہزادے اور دربار کے چند درباری اور کاہن اعظم قہران وہاں موجودتھا۔ 

یہ ایک پر اسرار تدفین تھی ۔ اگرچہ یہ بات کسی کے آگے کھلی نہیں تھی مگروہاں موجود ہر شخص جانتا تھا کہ میرے باپ شہزادہ اخناطون کو کھانے میں ایک ایسا زہر دے کر ہلاک کیا گیا ہے جس کے بعد کے اثرات جسم پر بالکل ظاہر نہیں ہوتے اور انسان چند ثانیوں میں ہمیشہ کی نیند سو جاتا ہے ۔ جس وقت میرا باپ مر رہا تھا تو میں اس کے پاس موجود تھا ۔ اس نے دم توڑتے ہوئے کہا تھا۔ 

بیٹا عاطون مجھے بھی تمہاری ماں کی طرح زہر دے کر ہلاک کیا جا رہا ہے۔ اب میرا فرعون بھائی تمہارن جان کا دشمن ہوگا۔ تم اپنی بیوی کو لے کر اس سنگدل شہر سے جس قدر دور جا سکو چلے جانا ۔‘‘ 

اور پھر اس کی روح پرواز کی گئی تھی۔ میرے باپ کے تابوت کے اوپر اس کی ممی کا تابوت بنا کر لٹا دیا گیا تھا۔ اس کے چہرے پر اس قدر رنگ روغن کیا گیا تھا کہ وہ پہچانا نہیں جاتاتھا۔ تابوت کو قبر میں اتار دیا گیا۔ پھر سب لوگ واپس چل پڑے۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میرے باپ مجھ سے بڑی محبت تھی۔ اس نے بڑی شفقت اور محبت کے ساتھ مجھے جڑی بوٹیوں کا علم سکھایا تھا۔ وہ کبھی کبھی چاندنی راتوں میں مجھے ساتھ لے کر دریائے نیل کے کنارے گھنے نرسوں کے قریب ٹہلنے نکل جاتا تھا اور مجھے اسوریہ اور نوبیہ تہذیبوں سے متعلق حیرت انگیز کہانیاں سنا یا کرتاتھا۔ وہ بہت دانا اور نیک دل انسان تھا۔ شاید جڑی بوٹیوں کے علم نے اس کے دل و دماغ میں فطرت کے اسرار کھول دیے تھے۔ وہ مجھے کہا کرتا تھا۔ 

’’میرے بیٹے پہلے روح بیمارہوتی ہے ۔ اس کے بعد جسم بیمار ہوتا ہے۔ ہم جس کی بیماری جڑی بوٹیوں سے دور کر سکتے ہیں مگر روح کی بیماری کا علاج پاکیزہ فکر اور دوسروں کا بھلا سوچنے سے ہوتا ہے۔ اپنے خیالوں کو پاکیزہ رکھنا۔ کسی کو اپنے آپ سے کمترمت سمجھنا۔ حسد اور جھوٹ کو اپنے قریب بھی نہ بھٹکنے دینا۔ راتوں کو کبھی کبھی آکر دریائے نیل کے کنارے ستاروں کا مشاہدہ کیا کرنا اس سے تمہارا ذہن روشن ہوگا۔ ‘‘

میں سر جھکائے اہرام سے باہر نکل رہا تھا اور مجھے اپنے باپ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ کاہن اعظم پجاریوں کے جلو میں دونوں بازو اپنے سینے پر رکھے میرے قریب سے گزرا تو مجھے دیکھ کر رک گیا۔ اس کا چہرہ ہلکی زرد چاندنی میں سنو لائے ہوئے پتھر کی طرح لگ رہا تھا ، کہنے لگا۔ 

عاطون تمہیں اب اپنے باپ کی روایات کو نبھانا ہوگا۔ رب شمس عظیم فرعون کفروتی نہیں چاہتا کہ تم اپنی بیوی کے کمتر حیثیت رشتہ داروں کے پاس جا کر ان کا علاج کرو۔ ‘‘ 

میں نے جواب دیا۔ 

’’کاہن اعظم قہرون میرے باپ کی روایت یہی ہے کہ میں اپنے سے کسی کو کمتر نہ سمجھوں۔ میں اس روایت کو ضرور نبھاؤں گا۔ ‘‘ 

کاہن اعظم قہرون نے ایک قہر بھری نگاہ مجھ پر ڈالی اور اپنی نخوت بھری گردن اٹھائے پجاریوں کے اہرام سے باہر نکل گیا۔ 

قدیم ترین مصر کے نئے دارلحکومت ایتھنز کے قریب و جوار میں یہ پہلا بہت بڑا اہرام تھا جو میرے تایا فرعون کفروتی نے خود اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے تعمیر کروایا تھا۔ اس سے پہلے کہ فرعانہ نے مصر کے قدیم دارلحکومت لکر کے قریب کچھ اہرام بنوائے تھے۔ نئے اہرام کے باہر شاہی گورستان تھا جہاں فرعون کے دور و نزدیک کے رشتہ دار اور شہزادیوں اور شہزادوں کی اولادوں کو دفن کیا جاتا تھا۔ شاہی گورستان کے عقب میں وہ قبرستان تھا جہاں شاہی غلاموں اورکنیزوں کو دفنا دیا جاتا تھا۔ اسی قبرستان میں میری والدہ کی قبر تھی۔ میں اپنے عظیم باپ کو سپرد اہرام کرنے کے بعد والدہ کی قبر پر آگیا۔ غلاموں اور کنیزوں کی دوسری قروں کی طرح میری والدہ کی قبر بھی بے نام و نشان تھی۔ میرے باپ نے اس پر ایک کتبہ لگوانے کی درخواست کی تھی مگر اس کے بڑے بھائی فرعون کفروتی نے اسے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ غلاموں اور کنیزوں کی قبروں پر کتبے نہیں لگوائے جاتے۔ 

صرف سیاہ انگور کی ایک بیل تھی جو میرے والدہ کی نشانی تھی۔ میں اپنی والدہ کی قبر پر کچھ دیر بیٹھا آنسو بہاتا رہا۔ پھر بوجھل دل کے ساتھ اٹھا اور قبرستان سے باہر آگیا۔ میرا رتھ بان باہر کھڑا میرا انتظار کر رہا تھا۔ میں رتھ میں سوار ہو گیا اور وہ وہ رتھ کو لے کر شاہی محل کی طرف روانہ ہوا۔ 

میری بیوی سمارا محل میں نہیں تھی۔ وہ میرے والد کی روح کے لئے دعا کرنے رب شمس میں گئی ہوئی تھی۔ میں نے سیاہ انگوروں کا تھوڑا سا مشروب پیا اور محل کی کھڑکی میں آکر نیچے شاہی پائیں باغ میں دیکھنے لگا۔ چاندنی رات میں فرعون مصر کے شاہی محل کا پائیں باغ ایک پر اسرار آسیبی باغ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ دریائے نیل کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آرہی تھی جس میں دریا میں اگے ہوئے نرسلوں اور کنول کے پھولوں کی نا معلوم سی مہک تھی ۔ میں نے کھڑکی کے آگے پردہ کر دیا اور اپنا سرخ لبادہ اتار کر پلنگ پر لیٹ گیا۔ شمع وان کی روشنی خوابگاہ کی کنیز نے مدہم کر رکھی تھی۔ سرخ باغات کا بھاری پردہ ہٹا اور میری خوبصورت بیوی سمارا داخل ہوئی ۔ اس کا حسین چہرہ اداس تھا اور اس کی سانولی پیشانی پر پجاری کے ہاتھ کی لگی ہوئی زاعفران کی لکیر نظر آرہی تھی۔ وہ یرے قریب آئی اور میرے کندے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔ 

’’میں نے رب شمس کے حضور تمہارے والد کی روح کے سکون کے لئے دعا مانگی ہے۔‘‘ 

میں نے سمارا کی سیاہ پژ مردہ آنکھوں کی طرف دیکھا اور کہا۔ 

’’سمارا رب شمس میرے باپ کی روح کی تسکین کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ ‘‘ 

سمارا نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ 

’’ عاطون ! تمہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔‘‘

میں نے شمع دان میں جلتی ہوئی موم بنتی پر نظریں جماتے ہوئے کہا۔ 

’’ سمارا ! میرے دل میں کیا ہے تم نہیں جانتیں ۔‘‘ 

سمارا کے ریشمی لباس میں سے عود و لوبان کی خوشبو آرہی تھی۔ میں نے اپنی بیوی کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے نرم ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے لیتے ہوئے کہا۔ 

’’سماراً ایسا لگتا ہے کہ اب اس محل میں سوائے تمہارے میرا کوئی نہیں رہا۔ ‘‘ 

میری وفا شعار بیوی مجھے تسلی دیتی رہی لیکن میں اچھی طرح جانتا تھا کہ اب شاہی محل میں میرے خلاف ایک خونی سازش کا آغاز ہوگا کہ کیونکہ فرعون کی کوئی اولاد نہیں تھی اور اس کی موت کے بعد میں ہی شاہی تخت کا وارث تھا۔ مگر فرعون کفروتی مصر کا تخت ایک کنیز کے بیٹے کے حوالے نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے ہی سازش کر کے میرے ماں کو اور پھر میرے باپ کر مروایا تھا اور اب اس کی نظریں مجھ پر تھیں۔ اگر وہ مجھے اپنے راستے سے ہٹا دے تو اس کی موت کے بعد مصر کا تخت اس کے دوسرے چھوٹے بھائی کے بیٹے کے پاس جاتا ۔۔۔ اور یہی وہ چاہتا تھا۔ (جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 3 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار