ہارس ٹریڈنگ کو گالیاں دینے والے آج اسی کو چاٹ رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے شفاف الیکشن کے دعوے مسترد کرتےہیں:مولانا فضل الرحمان

ہارس ٹریڈنگ کو گالیاں دینے والے آج اسی کو چاٹ رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے شفاف ...
ہارس ٹریڈنگ کو گالیاں دینے والے آج اسی کو چاٹ رہے ہیں، الیکشن کمیشن کے شفاف الیکشن کے دعوے مسترد کرتےہیں:مولانا فضل الرحمان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مولانا فضل الرحمان نے ایم ایم اے کے درمیان اختلافات کی افواہوں کی تردیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل اللہ کے فضل و کرم سے متحد ہے،الیکشن کمیشن شفاف ،شفاف کی رٹ لگانا چھوڑ دے،اسٹیبلشمنٹ نے انتخابات میں مداخلت کی، پاکستان تحریک انصاف اپنی حدود میں رہے اکثریت کا دعویٰ نہ کرے ،ہارس ٹریڈنگ کو گالیاں دینے والے آج اسی کو چاٹ رہے ہیں،تحریک انصاف دھاندلی کے نتیجے میں بڑی جماعت ضرور بنی مگر اسے اکثریت حاصل نہیں، اسے کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ وزیراعظم کی نامزدگی وزراء کے ناموں کا اعلان اور گورنرز کی تبدیلی کی بات کرے؟۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوئے،پی ٹی آئی کے پاس اکثریت نہیں ہے وہ صرف ایک بڑی پارٹی کے طور پرسامنے آئی ہے،پی ٹی آئی کی قیادت نے کہا کہ ملک کے تمام حلقوں کو کھولنے کے لئے تیارہیں،الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کوآئین کی غلط تشریح سے روکے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ  ملک بھر میں کارکن دھاندلی کے خلاف اضلاع کی سطح پر اپنا احتجاج جاری رکھیں جبکہ کل جماعتی کانفرنس میں احتجاجی مظاہروں کا شیڈول طے کیا جائے گااور عوام کو ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے گی ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل مکمل طور پر متحد ہے اور اتفاق رائے سے فیصلے ہورہے ہیں اور ہوچکے ہیں، اختلافات کی جو افواہیں پھیلائی گئیں تھیں وہ اپنی موت آپ مر چکی ہیں حقائق سے ان افواہوں کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کو عوام نے پچاس لاکھ ووٹ دیئے ہیں جو کہ دینی جماعتوں کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ، پاکستان میں دینی جماعتیں گہری جڑیں رکھتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک بھر کے تمام حلقے کھول دیئے جائیں، انگوٹھے اور مہر کے نشانات کی جانچ پڑتال کی جائے ، اسٹیبلشمنٹ نے انتخابات میں فریق کی حیثیت سے دھاندلی کا کردار ادا کیا ،الیکشن کمیشن بار بار شفاف شفاف کی رٹ نہ لگائے، ان کی شفافیت کے دعوے کو مسترد کرتے ہیں،اگر کوئی چاہتا ہے کہ دھاندلی کی تحقیقات ہوں تو آئیں تمام حلقوں کو کھول دیں اور اس وقت تک حکومتیں نہ بنائی جائیں کیونکہ نتائج کے بغیر کیسے حکومت بن سکتی ہے؟جب تک ان حلقوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کا نتیجہ سامنے نہیں آتا حکومت قائم نہ کی جائے،دھاندلی کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف ضرور بڑی پارٹی بنی ہے مگر اسے اکثریت حاصل نہیں ہے، وہ اکثریت کا غلط دعویٰ نہ کرے ،وہ کون ہوتے ہیں وزیراعظم وزراء ، اور گورنر بنانے کے دعوے کرنے والے ؟تحریک انصاف اپنی حدود میں رہے اس کے پاس اکثریت نہیں ہے ،اسے اس قسم کی اکثریت کی تشریح سے روکا جائے،اسٹیبلشمنٹ کو کھلی مداخلت کا اعتراف کرلینا چاہیے ،اسٹیبلشمنٹ کی کھلی مداخلت کی وجہ سے عوام اور ریاستی اداروں میں فاصلے پیدا ہوئے ہیں،حلف اٹھانے سے متعلق جماعت اسلامی کی تجویز سے ایم ایم اے نے اتفاق کیا ہے ،اب اس کو آل پارٹیز کانفرنس میں لے کر جائیں گے اور مشترکہ حکمت عملی کے اعلان کی کوشش کی جائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جمع ہونے کی تجویز اچھی ہے ۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /اسلام آباد