”میں نے تو یہ کہا تھا کہ ۔۔۔“ ہارس ٹریڈنگ پر تنقید کا نشانہ بناتے وقت آبدیدہ ہونے والے جاوید میانداد کے نئے بیان نے سوشل میڈیا پر ”آگ“ لگا دی، ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا

”میں نے تو یہ کہا تھا کہ ۔۔۔“ ہارس ٹریڈنگ پر تنقید کا نشانہ بناتے وقت آبدیدہ ...
”میں نے تو یہ کہا تھا کہ ۔۔۔“ ہارس ٹریڈنگ پر تنقید کا نشانہ بناتے وقت آبدیدہ ہونے والے جاوید میانداد کے نئے بیان نے سوشل میڈیا پر ”آگ“ لگا دی، ایسی بات کہہ دی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) جاوید میانداد نے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں کی خریدو فروخت کے معاملے پر اپنے بیان سے ’یوٹرن‘ لے لیا ہے۔

گزشتہ روز جاوید میانداد کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ منتخب نمائندوں کو مخاطب کرکے کہہ رہے تھے کہ ’عوام نے تمہیں ووٹ دیا ہے، تم عوام کا ضمیر کیوں بیچ رہے ہو؟‘اس دوران جاوید میانداد آبدیدہ بھی ہوگئے تھے لیکن اب سابق کرکٹر نے اپنے بیان پر ایک اور وضاحتی ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل فیس بک پیج سے جاوید میانداد کا ویڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے جو کل بیان دیا تھا، اس کا غلط مطلب نکالا گیا اور توڑ موڑ کر پیش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میرا مطلب یہ تھا کہ ایک آدمی نے ’نئے پاکستان‘ کا نعرہ لگایا ہے اور وہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں اسے موقع دینے کی بجائے اس کے خلاف جوڑ توڑ کیا جارہا ہے۔

سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ یہ چیزیں نہیں ہونی چاہئیں، جو اکثریت میں آ جاتا ہے اس سے تو ایڈجسٹمنٹ کی بات ہوتی ہے، میرا مقصد ہرگز کسی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ میں نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کیلئے ویڈیو جاری کی تھی۔

جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ میں عمران خان کے ساتھ 20 سال سے ہوں اور میں ان کی ضمانت دیتا ہوں کہ وہ ایک سچا اور صاف آدمی ہے لہٰذا میرے نام سے کوئی بات منسلک نہ کی جائے، میری تحریک انصاف یا کسی جماعت سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل جو باتیں کیں تھیں وہ میری اپنی رائے تھی، میں آج کہتا ہوں کہ ایک آدمی جس کو آزمایا ہی نہیں ہے تو میں کیسے اس کے خلاف بات کروں گا، وہ میرا کپتان رہا ہے۔

یاد رہے کہ جاوید میانداد کے بیان کا سوشل میڈیا پر کافی چرچا ہوا ہے اور کئی لوگوں نے اس بیان کو بنیاد بناکر ایک سیاسی جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔قومی ٹیم کے سابق کپتان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان کا کسی پارٹی سے تعلق نہیں ، عام انتخابات میں عمران خان کو اکثریت ملی ہے تو حکومت انہی کو بنانی چاہیے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /کھیل