امریکہ صدارتی انتخابی مہم سے پہلے افغانستان سے نکلنے کا خواہاں

امریکہ صدارتی انتخابی مہم سے پہلے افغانستان سے نکلنے کا خواہاں

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ2020ء کے صدارتی الیکشن سے پہلے افغانستان سے امریکی فوجیوں کا بڑا حصہ واپس بُلانا چاہتے ہیں،صدر ٹرمپ کی اِس سلسلے میں واضح ہدایت ہے کہ نہ ختم ہونے والی جنگوں کو ختم کر دیا جائے اور افغانستان میں فوجی کم کر دیئے جائیں، واشنگٹن کے اکنامک کلب میں خطاب کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ افغانوں کے لئے امریکہ کا سادہ سا پیغام یہ ہے ”ہم چاہتے ہیں کہ افغان اپنا ملک واپس حاصل کر لیں“۔اُن کاکہنا تھا کہ فوجوں کا انخلا صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں ہے،بلکہ یورپ اور دُنیا بھر کے ممالک نے افغانستان میں ہمارے ساتھ افواج بھیجی تھیں اِس لئے وہ سب بھی اپنی فوجوں کا انخلا چاہتے ہیں، ہمیں امید ہے کہ افغانستان میں اب لڑاکا افواج کی موجودگی زیادہ ضروری نہیں رہی،اُن کا اشارہ اس جانب تھا کہ افغانستان میں تربیتی مقاصد کے لئے تھوڑی بہت فوج جو باقی رہ جائے گی، وہ بھی آرمی آپریشنز میں حصہ نہیں لے گی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکی انتظامیہ کو مسئلہ افغانستان کے سیاسی حل کے لئے قائل کر لیا ہے،پاکستان کا امن و استحکام افغان امن سے وابستہ ہے وہاں ایسی آماجگاہیں ہیں، جہاں سے پاکستان میں کارروائیاں کی جاتی ہیں۔پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کر کے ثابت کیا وہ جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کرنا جانتے ہیں،یہ ایوان اُن کی قربانی کو سلام اور لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتا ہے، ماضی میں افغانستان میں تمام قباحتوں کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرایا جاتارہا، تاہم تحریک انصاف کی حکومت سنبھالنے کے بعد سوچ تبدیل ہوئی۔امریکہ سمجھتا تھا افغان عمل فوجی حل سے حاصل کریں گے،مگر وزیراعظم عمران خان نے سیاسی حل کی طرف قائل کیا۔

صدر ٹرمپ نے تو عین اس وقت بھی جب سیاسی حل اور مذاکرات کی باتیں ہو رہی تھیں یہ کہنا ضروری سمجھا تھا کہ اگر ایک کروڑ افغان مار دیئے جائیں تو افغان مسئلہ ایک ہفتے میں حل ہو جائے گا، لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے یہ بات اٹھارہ سال میں اُن سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کہی تھی، مختلف صدور اپنے اپنے ادوار میں افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھاتے گھٹاتے رہے،ایک زمانے میں تو ایک لاکھ35 ہزار فوجی بھی افغانستان میں مقیم رہے تھے۔یہ صدر اوباما کا دور تھا اور وہ بھی چاہتے تھے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپس بُلایا جائے،لیکن جب عملاً اس اقدام کا وقت آیا تو اُنہیں اپنے کمانڈروں کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہوا اور اُن کا یہ مطالبہ سامنے آیا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کی بجائے بڑھائی جائے،اِس معاملے پر صدر اوباما کی اپنے کمانڈروں سے طول طویل ملاقاتیں اور مباحثے ہوئے،جن کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جنگ کے کامیاب اختتام کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھائی جائے اور مطلوبہ مقاصد حاصل ہو جانے کے بعد پھر بتدریج یہ تعداد کم کر دی جائے،چنانچہ ایسا ہی ہوا،بڑے طویل عرصے تک افغانستان میں ایک لاکھ سے زیادہ فوجی موجود رہے،البتہ یہ سوال آج بھی پوچھا جاتاہے کہ کیا فوجیوں کی تعداد بڑھا کر امریکہ نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے،اس دوران پرانے کمانڈر ریٹائر ہوتے اور نئے آتے رہے،فوجی دستوں کے تبادلے بھی ہوئے،یعنی زیادہ عرصے سے افغانستان میں مقیم فوجی واپس چلے جاتے اور اُن کی جگہ تازہ دم دستے آ جاتے،اس طرح اوباما کے آٹھ سال گزر گئے،لیکن مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے۔

صدر ٹرمپ بھی اپنی انتخابی مہم میں یہ اعلان کرتے رہے تھے کہ وہ صدر بن کر فوج واپس بُلا لیں گے، لیکن اقتدار سنبھال کر اُن کا ارادہ بدل گیا اور انہوں نے مزید فوجی افغانستان بھیج دیئے اور یہ اعلان بھی کیا کہ ہم فوجوں کی واپسی کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دے سکتے،انہوں نے برملا یہ بھی کہا کہ ہم افغان مسئلے کا فوجی حل نکالیں گے،لیکن افغانستان کی سنگلاخ حقیقتیں جب اُن کے سامنے آئیں تو انہوں نے بھی اپنی اِس رائے سے رجوع کر لیا۔شاہ محمود قریشی تو کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے اُنہیں اِس طرف مائل کیا ہے، لیکن افغانستان سے فوجیں واپس بُلانے کا اعلان تو صدر ٹرمپ کوئی ایک سال پہلے سے وقتاً فوقتاً کر رہے ہیں، اس وقت تو ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، یہ ممکن ہے کہ عمران خان کے تازہ دلائل نے اُن کی رائے کو اِس ضمن میں پختہ تر کر دیا ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ فوجوں کی واپسی عملاً کب شروع ہو گی، بظاہر یہ معاملہ اب اس بات پر اٹکا ہوا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات شروع ہو جائیں اور طالبان الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کر دیں۔ افغانستان کے انتخابات کی مہم کا آغاز ہی تشدد کے بڑے واقعہ سے ہوا ہے،اِس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انتخابی مہم پُرامن نہیں ہوگی تاہم طالبان یہ واضح کر چکے ہیں کہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز اُس وقت تک نہیں ہو گا جب تک امریکہ فوجوں کی واپسی کے شیڈول کا اعلان نہیں کرتا،پاکستان طالبان کو اپنے ہاں مذاکرات کی دعوت کے لئے بُلا کر اس معاملے پرگفتگو کرنا چاہتا ہے تاہم یہ واضح ہے کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتارہے گا اور ان میں اونچ نیچ بھی ہوتی رہے گی، یہ مذاکرات شاید طول بھی کھینچیں،امریکہ اگر اپنے صدارتی انتخابات کی مہم سے پہلے فوجیں بُلانا چاہتا ہے تو یہ اگلے برس ہی ہوگا، کیونکہ یہی وہ وقت ہو گا جب انتخابی مہم شروع ہو گی۔

اب اِس بات میں تو شبہ نہیں رہا کہ صدر ٹرمپ کی ایک کروڑ افغانوں کو مار دینے کی دھمکیاں اپنی جگہ، لیکن امریکی فورسز کے حساب میں اب کوئی بڑی فوجی کامیابی لکھی جانے والی نہیں ہے،یہ جو کچھ بھی ہے ایک ایسے فریق کی ناکامیوں پر پردہ پوشی کی حکمت عملی ہے، جس نے اٹھارہ سالہ جنگ میں افغانستان میں کوئی ایسی کامیابی حاصل نہیں کی، جس کا فخر کے ساتھ ذکر کیا جاسکے، تباہی و بربادی البتہ بے حساب پھیلا دی گئی، جدید ترین جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں سے لیس دُنیا کی سب سے بڑی وار مشین اگر اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا شمار کرے تو ناکامیوں کا پلڑا ہی جھکا ہوا ملے گا،دوسری جانب طالبان آج بھی پہلے کی طرح تازہ دم ہیں اُنہیں اگر یہ خبر کر دی جائے کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور اس مقصد کے لئے سجی ہوئی بساط لپیٹ دی گئی ہے تو وہ ماتھے پر کوئی بل ڈالے بغیر وہاں سے اُٹھ جائیں گے اور اگلے ہی دن افغانستان میں اپنی موجودگی کا احساس بھی دِلا دیں گے،اِس لئے یہ امریکہ کی ضرورت ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔یہ جو ایک کروڑ بندے مارنے کی بات ہے یہ اگر جنگ کے شروع میں اٹھارہ سال پہلے ہوتی تو شاید کوئی اسے توجہ سے سنتا اب تو دُنیا اسے ایک لطیفے سے زیادہ اہمیت نہیں دے گی،اِس لئے امریکہ اگر مذاکرات کی کامیابی چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے پاکستان کی امداد کا بھی طلب گار ہے تو سیدھے سبھاؤ مذاکرات کی کامیابی کے لئے راستہ ہموار کرے اور اپنی فوجیں واپس لے جانے کا شیڈول بنائے،اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ نہ ختم ہونے والی جنگ مزید کتنا عرصہ چلے گی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...