اب ایک اور ٹاسک فورس!

اب ایک اور ٹاسک فورس!

وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں سمگلنگ کی روک تھام پر غور کیا گیا،اس اجلاس میں وفاقی وزیر علی زیدی کے علاوہ چاروں آئی جیز پولیس نے بھی شرکت کی۔ یہ اجلاس غالباً ایف اے ٹی ایف کی کڑی شرائط کے حوالے سے طلب کیا گیا اور مختلف راستوں سے سمگلنگ کی وارداتوں کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ اس سلسلے میں نئی پالیسی بنائی جائے گی۔اس کے ساتھ ہی خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ اجلاس میں سمگلنگ کی روک تھام کے لئے ٹاسک فورس بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا،جو تمام متعلقہ اداروں کے تعاون اور ان کے درمیان روابط کے ذریعے اس جرم کو روکنے کے اقدامات کرے گی۔وزیر داخلہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے فیصلے کا یوں تو خیرمقدم کیا جائے گا کہ سمگلنگ کی بیخ کنی کی طرف توجہ دی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے ٹاسک فورس کا قیام ایک سوالیہ نشان ہے۔وزیراعظم اداروں کو ٹھیک کرنے اور ان سے درست کام لینے کا اعلان کرتے ہیں اور اس حکومت کے کار پر دازوں کی طرف سے سابقہ حکومت کی طرف سے بنائی جانے والی کمپنیوں اور کمیٹیوں کو ہدفِ تنقید بنایا جاتا ر ہا ہے،لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران یہ حکومت ٹاسک فورس کے نام پر ہر شعبہ اور محکمہ کے لئے کمپنی یا کمیٹی جیسا ادارہ بناتی چلی جا رہی ہے۔اب اگر ایسی ٹاسک فورسز کی تفصیل جمع کی جائے تو تعداد جان کر حیرت ہو گی وزارت داخلہ کے ماتحت محکمے موجود ہیں،سمگلنگ کی روک تھام کے لئے صرف اینٹی سمگلنگ ہی کا شعبہ نہیں،بلکہ کسٹمز، ایکسائز اور متعدد دوسرے محکموں کو بھی اختیارات حاصل ہیں،ضرورت ان کی کارکردگی بڑھانے اور ان سب کے درمیان بہتر روابط کی ہے،سادگی کا مظاہرہ کرنے والی حکومت ٹاسک فورسوں کے ذریعے اخراجات کیوں بڑھا رہی ہے؟

مزید : رائے /اداریہ


loading...