ایک نئی جنگ کی تیاری

ایک نئی جنگ کی تیاری
ایک نئی جنگ کی تیاری

  


آج کل ہر طرف مذاکرات، مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں۔ وہ طالبان جنہیں ختم کرنے کے لئے امریکہ نے جنگ شروع کی تھی، وہی طالبان جنہیں پتھر کے زمانے تک پہچانے کا اعلان کر کے امریکی یہاں نازل ہوئے تھے آج انہی کے ساتھ امن مذاکرات کئے جا رہے ہیں۔ان کے ساتھ میز پر بیٹھ کر مذاکرات کرنا تاریخی وقوعہ ہے۔مذاکرات کے ذریعے کبھی قیام امن کا فیصلہ نہیں ہوا۔ امن کا فیصلہ ہمیشہ میدانِ جنگ میں ہوتا ہے۔ طاقتور کا قلم ہی امن معاہدے کی جو شرائط تحریر کرتا ہے، وہی مانی جاتی ہیں۔ جنگ عظیم اول کو دیکھ لیجئے معاہدہ ورسائی کیسے ہوا تھا۔ فرانس اور جرمنی کے درمیان، ایک فاتح دوسرا مفتوح، فرانس نے جرمن وفد کے ساتھ ایک ٹرین کے ڈبے میں بیٹھ کر جنگ کے بعد معاہدہ امن پر دستخط کرائے تھے۔ فرانسیسی حکام نے معاہدے کا مسودہ جرمن وفد کے سامنے رکھا اور کہا کہ اس میں ایک بھی لفظ تبدیل کئے بغیر اس پر دستخط ہوں گے، جرمن وفد کو ایسا کرنا پڑا، کیونکہ وہ جنگ میں شکست کھا چکے تھے پھر فرانس نے ٹرین کا یہ ڈبہ پیرس کے میوزیم میں اپنی فتح کی یادگار کے طور پر محفوظ کر لیا تھا۔ پھر دوسری جنگ عظیم ہوئی ہٹلر نے فرانس پر فتح پائی معاہدہ امن کیابالکل اسی انداز میں جس طرح جنگ عظیم اول کے بعد فرانس نے جرمنوں سے دستخط کرائے تھے۔ جرمن وفد نے اسی ٹرین کے ڈبے میں بیٹھ کر معاہدہ امن پر فرانسس سے دستخط کرائے اور ٹرین کا یہ ڈبہ واپس جرمنی لے گئے اور جرمن قوم کو بتایا کہ ان کی جنگ عظیم اول میں شکست کی علامت کو فتح کے نشان میں بدل کر واپس لے آئے ہیں جرمن قوم ایسی ہی باتوں کے باعث ہٹلر کی دیوانی ہوئی تھی۔ امریکہ، جاپان تعلقات کا فیصلہ تو ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ہوا تھا جب امریکہ نے دو ایٹم بم گرا کر جاپانی وار مشین کی کمر توڑ کر رکھدی تھی پھر جاپانیوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور ان پر اپنی برتری لکھ دی۔

افغان امن معاہدہ تو گزرے 18 سالوں کے دوران افغانستان کے پہاڑوں،میدانوں،صحراؤں اور وادیوں میں لکھا جا چکا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان حیثیت کا تعین ہو چکا ہے۔ امریکہ جنگ ہار چکا ہے۔ طالبان اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے سرخرو ہو چکے ہیں، اب دوحا میں تو صرف کاغذی کاروائی ہونا باقی ہے۔ کشمیر میں سات دہائیوں سے امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔ مسئلہ کشمیر مذاکرات اور ثالثیوں کے ذریعے کبھی حل نہیں ہو گا۔ امریکی صدر نے ہمیں ثالثی کا کہا تو ہم نے خوشی سے اچھلنا شروع کر دیا۔ یہ قضیہ سلامتی کونسل کی قراردادوں سے بھی حل نہیں ہوگا۔ اس کا فیصلہ کشمیری ایسے ہی کریں گے،جس طرح افغان طالبان کر رہے ہیں۔

جنگ، امریکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ نے جنگ کے ذریعے ہی اپنی معیشت کو ترقی دی ہے مضبوط معیشت اور عسکریت کے ذریعے دنیا پر اپنی دھاک بٹھائی اور اپنی خارجہ پالیسی کے ذریعے سپر طاقت کی پوزیشن حاصل کی۔ امریکہ طاقت، اسلحے کی طاقت، معاشی قوت اور سفارتکاری کے ذریعے پوری دنیا پر اپنی مرضی نافذ کرتا ہے۔ افغانستان میں امن معاہدہ کر کے یہاں سے نکلنا چاہتا ہے وہ 18 سالوں سے یہاں اپنی عسکری طاقت منوانے اور خطے میں اپنی خارجہ پالیسی نافذ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس لئے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ایک نیا میدانِ جنگ ترتیب دے رہا ہے۔ یہاں امن معاہدے کے ذریعے جنگ ختم کر کے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے نئے جنرل فرینک میکنزی آجکل مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ اس جنرل کے فوجی مشرق وسطیٰ، افریقہ اور مغربی ایشیا میں امریکی مفادات کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ آجکل خطے میں ایران اپنا اثرو رسوخ بڑھا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں تیل کی تجارت اس کی دھمکیوں کی زد میں ہے۔ ایران نے برطانوی آئل ٹینکر پر حملہ کر کے اپنا عسکری بازو دکھا بھی دیا ہے متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر قبضہ کر کے واضح پیغام بھی دے دیا گیا ہے کہ ان کے مفادات خطرے میں ہیں۔تصادم، جنگ امریکہ کے مفاد میں ہے،کیونکہ اس طرح اس کے اسلحے کی طلب پیدا ہوتی ہے۔ وہ اسلحہ بیچ کر اپنی معاشی سرگرمیاں تیز کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کا قیام تصادم کا بیج ہے، جس سے چھوٹے بڑے تصادم مسلسل جنم لیتے رہتے ہیں۔ اسرائیل کی ترقی اور حفاظت، امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ مذہبی طور پر بھی صیہونی امریکی اسرائیل کے ساتھ موافقت رکھتے ہیں۔ اس لئے اس کی تائید اور حمایت کے لئے سرگرداں رہتے ہیں۔ عرب اسرائیل مستقل تضاد اور عناد کے بعد، امریکہ نے خطے میں عرب و عجم کی تفریق بھی پیدا کر دی ہے۔

سعودی عرب نے ملٹری الائنس بھی تشکیل دیا۔ 22/23 سنی عرب ممالک پر مشتمل یہ فوجی اتحاد بڑھتے ہوئے ایرانی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تھا اور ہے۔ معلوم نہیں یہ کس کا تخیل تھا، لیکن اسکی تشکیل سے امریکی اسلحے کی خریدو فروخت کا بازار گرم ہی نہیں ہوا، بلکہ دھکتی ہوئی بھٹی چل پڑی۔ پھر قطر کے خلاف سعودی ناکہ بندی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ امریکہ نے ایران کے ساتھ کئے گئے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر کے ایران کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا ہے ایسا لگتا ہے کہ امریکہ، ایران جنگ ہوئی کہ ہوئی۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ امریکہ ایران کے خلاف کبھی جنگ نہیں کرے گا۔ وہ ایران کو عربوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ آبنائے ہرمز سے ہونے والی تیل کی تجارت کا سب سے بڑا خریدار چین ہے، یعنی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز زیادہ تر ایشائی ممالک کے لئے تیل لے کر جاتے ہیں۔ خلیج سے روزانہ 17.5 ملین بیرل تیل برآمد کیا جاتا ہے اس کا 80 فیصد ایشیا کی طرف جاتا ہے۔

اس تیل کا سب سے بڑا صارف چین ہے۔ اس لئے اگر خلیج میں بالعموم اور آبنائے ہرمز میں بالخصوص کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے تو چینی معیشت بھی متاثر ہو گی۔ امریکہ نے بتدریج خلیج کے درآمدی تیل پر انحصار کم کر لیا ہے۔اس لئے اب اگر خطے میں جنگ ہوتی ہے اور تیل کی تجارت متاثر ہوتی ہے اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو امریکہ کی نسبت چین زیادہ متاثر ہو گا، لیکن جنگ سے حاصل ہونے والے فوائد(اسلحہ کی خریدو فروخت کی صورت میں) امریکہ کی جھولی میں گریں گے۔ گویا خلیج کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ممکنہ جنگ سے امریکہ مستفید ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے جنگی مشن ختم کرنے کی جلدی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئیو کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ ستمبر 2019ء تک افغان امن معاہدے کی تکمیل چاہتی ہے۔ گویا ایک جنگ بند کرنے کی جلدی ہے،تاکہ دوسری جنگ شروع کی جا سکے۔

مزید : رائے /کالم


loading...