افغان مذاکرات کا مستقبل؟

افغان مذاکرات کا مستقبل؟
افغان مذاکرات کا مستقبل؟

  


پاکستان کے امریکہ کے ساتھ کیا مفادات وابستہ ہیں۔  اور  امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے یہ سمجھنے اور اس کا علم ہونے پر ہم پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں اپنی نیم پختہ رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ نیم پختہ کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ یہ سب کچھ جا ننے کے باوجود ہم امریکہ کی قیادت کے رویہ پر انحصار نہیں کر سکتے۔ اس لئے امریکہ کی سیاست بھی اور خاص طور پر اس کی خارجہ امور کی حکمت عملی تک ویسٹرن فلموں سے آگے نہیں بڑھی۔ جن میں ہر مسئلے کا حل ہیرو کے پستول کی نالی سے جڑا ہوا ہوتا تھا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ دنیا کا دوست ہے جس نے دنیا میں سب سے زیادہ انسانی ہلاکتوں میں اپنا بارود استعمال کیا ہے۔ براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی، گزشتہ پون صدی کے دوران امریکہ نے کوریا، ویت نام سے لے کر عراق اور افغانستان تک انسانی زندگیاں تلف کرنے میں ایک خطرناک اندوہناک اور قابل نفرت کردار ادا کیا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہٹلر کے جرمنی جیسے انسان دشمن کردار کے باوجود یہ دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار کہلاتا ہے۔

امریکہ کے کسی دوسرے کے ساتھ تعلقات انسانی معاشرے میں خوشحالی اور آزادی کے فروغ کے لئے نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے عالمی سامراجی معاشی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے آسانیاں تلاش کرنے کے لئے ہوتے ہیں اور ان تعلقات کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوتا ہے۔ روس کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد امریکہ کی افغانستان میں انسان دوستی پلک جھپکتے ہی غائب ہو گئی تھی۔ جنگ زدہ برباد اور بکھرے ہوئے افغانستان کو پھر سے جوڑنے اور ایک مہذب جمہوری معاشرہ کی تشکیل کے لئے افغانستان کو جو مدد درکار تھی۔ امریکہ نے اس پر غور کرنا بھی ضروری نہ سمجھا تھا۔ افغانستان کے مجاہدین اور بعد ازاں طالبان کے جس نظام حکومت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا نتیجہ پاکستان نے بدترین دہشت گردی کی شکل میں بھگتا۔ لیکن امریکہ کو افغانستان میں حملہ آور ہونے کا بہانہ 9/11 کے بعد ملا۔ اور یہ بھی ایک بہانہ تھا۔ اپنے خوفزدہ اور بپھرے ہوئے عوام کو ایک نیا جنگی منظر پیش کر کے امریکی جنگ بازوں نے اپنی سابقہ حکمت عملی کے نتائج پر غور کرنے کے عمل سے دور کردیا  اور ایک نئی جنگ کا نظارہ کرنے لگے۔ ریپبلکن نسل پرست قیادت نے افغانستان، عراق، لیبیا، شام کو جنگ کا میدان بنا کر امریکی عوام کی توجہ اپنی قیادت کی سامراجی پالیسیوں کی ناکامی سے ہٹا دی۔

پاکستان بھی اپنی فوجی حکومت کی بے حوصلگی کے سبب اس سامراجی حکمتِ عملی کا حصہ بن گیا، اور اس حکمت عملی کے ایک اتحادی کی حیثیت سے اپنے اردگرد یعنی اپنے خطے میں موجود ملکوں کے ساتھ نت نئی مشکلات کا شکار ہوتا گیا۔ لیکن پرویز مشرف حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پاکستان امریکی خوشنودی کے حصار سے باہر نہ نکلا، سوائے ان چند سالوں کے جب پاکستان اور امریکہ کے سیکیورٹی مفادات براہِ راست ایک دوسرے کے مقابل آ گئے۔ریمنڈ ڈیوس نے تین پاکستانی شہری موت سے ہمکنار کر دیئے۔ وہ سی آئی اے کا ایسا ایجنٹ تھا جو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں امریکی ڈرون حملوں میں تکنیکی امداد فراہم کرتا تھا۔ اس کے بعد 26 نومبر 2011 کو پاکستانی افواج سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی جنگی ہیلی کاپٹروں اور ایک بمبار جہاز نے حملہ کیا۔ جس میں چوبیس فوجی جوان شہید ہوئے۔ پاکستان کے ساتھ امریکی تضادات ریمنڈ ڈیوس واقعہ کے بعد بڑھتے رہے اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد مزید گہرے ہو گئے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس وقت پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیٹو افواج کی پاکستان کے راستے سپلائی معطل کر دی۔ 2011 کے ان واقعات کے بعد پاک امریکہ تعلقات آہستہ آہستہ خراب ہوتے گئے۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان پر ”ڈو مور“ کی گردان کا اضافہ کر دیا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی اقتصادی اور فوجی امداد میں بتدریج کمی شروع کردی۔ اگرچہ اس دور میں صدر اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک معاہدہ بھی کیا۔ لیکن پینٹاگان ایران دشمنی پر بضد رہا۔ صدر ٹرمپ نے جونہی انتخابات میں کامیابی حاصل کی انہوں نے سب سے پہلے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کیا۔

اور یہ عالمی خواہشات کے عین برعکس تھا۔ خود نیٹو کے اہم ممالک برطانیہ اور جرمنی نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی۔ لیکن ٹرمپ جو کہ عمداً اسلامی ممالک سے عناد اور اسرائیل نوازی میں حد سے گزر چکے ہیں۔ اس ردعمل سے ذرہ برابر بھی متاثر نہیں ہوئے اور اپنی ایران دشمنی پر قائم ہیں، امریکہ کی اس وقت عالمی سیاست میں افغانستان سے اپنے مفادات کے مطابق انخلا اور ایران کا گھیراؤ بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی کو امریکہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قرار دینا جہاں پاکستان کے لئے فائدہ مند ہے وہاں امریکہ کی پاکستان سے ایران کے حوالے سے عسکری ہمدردیاں بھی حاصل کرنا ہو سکتا ہے افغانستان میں طالبان جان چکے ہیں کہ اب امریکہ اس جنگ کا متحمل نہیں۔ لہٰذا اب وہ مذاکرات میں سخت رویہ اپنا سکتے ہیں۔ شاید طالبان کو راضی کرنا پاکستان کے لئے آسان ہو۔ جو کام پاکستان کی سیاسی قیادت نہیں کر سکی۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے لئے وہ آسان ہے۔ ادھر ٹرمپ نے افغانستان کو چند دنوں میں صفحہ ہستی سے مٹانے کا بیان دے کر افغانستان کے عوام کو اس نازک موقعہ پر اپنے خلاف کر لیا ہے لوگ ٹرمپ کے بارے میں ٹھیک کہتے ہیں۔ 

TRUMP IS A BULL IN CHINA SHOP.

مزید : رائے /کالم


loading...