”زندگی بدل دینے والی تحریریں“

”زندگی بدل دینے والی تحریریں“
”زندگی بدل دینے والی تحریریں“

  


اگلے روز مجھے الحاج محمد حسین گوہر نے اپنی ایک کتاب ”زندگی بدل دینے والی تحریریں“عطا کی جو اقوال زریں کے انتخاب کا ایک منفرد مجموعہ ہے۔ 400صفحات پر مشتمل کتاب بلا تفریق  ہر عمر کے قاری کے لئے  معلومات کا ایک خزانہ ہے۔ الحاج محمد حسین گوہر ایک طویل عرصے تک سعودی عرب میں مقیم رہے ہیں، وہ حرم کعبہ میں صفائی کی ڈیوٹی پر متعین رہے، انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر تبرکات کا ایک میوزیم بھی”خوشبوئے حرمین“ کے نام سے قائم کیا ہوا ہے، جو  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ خلفائے راشدین، اولیائے کرام اور دیگر متبرک اور اسلامی شخصیات کے زیر استعمال رہنے والی اشیاء پر مشتمل ہے جو نہ صرف قابل دید، بلکہ روح پروربھی ہیں۔  ہر اتوار کو صبح چھ بجے سے دوپہر بارہ بجے تک یہ میوزیم پبلک کے لئے  کھولتے ہیں۔”زندگی بدل دینے والی تحریریں“   معلومات کا ایک بے بہا خزانہ ہے۔ کتاب کا ہر صفحہ نہ صرف قابل مطالعہ ہے، بلکہ اصلاح احوال سے عبارت ہے کہ کتاب میں دینی، اسلامی اقوال کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے مشاہیر کے اقوال بھی شامل ہیں جن کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ عاشورہ محرم کے حوالے سے تحریر ہے کہ دس محرم کو چاند، ستارے، زمین اور جنت بنی۔ اس دن فرعون غرق ہوا، اس دن زمین پرپہلی بارش ہوئی، اس دن حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹائی گئی، اس دن حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے اس دن دو جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام دنیا میں تشریف لائے،اسی دن قیامت ہوگی۔

یوم آزادی اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ  کے حوالے سے لکھا گیا ہے ان کی تاریخ پیدائش 25دسمبر ہے اور تاریخ وفات 11ستمبر اور یوم آزادی 14اگست۔ ان سب تاریخوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان کا دن ایک ہی ہوگا جیسا کہ سال رواں میں یہ ساری تاریخیں بدھ کے روز ہوں گی۔ ایک صحابی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا کہ میں خیرات کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے اندازہ نہیں کہ کون حقدار ہے اور کون نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اس کو بھی خیرات دو جو حقدار ہے اور اسکو بھی دو جو حقدار نہیں ہے۔ اللہ پاک آپ کو بھی وہ دے گا جس کے آپ حقدار ہیں اور وہ بھی دے گا جس کے آپ حقدار نہیں۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ دنیا میں بہت سی کتابیں ہیں لیکن غلاف صرف قرآن پاک پر چڑھایا جاتا ہے، دنیا میں لاتعداد عمارتیں ہیں لیکن ڈھانپا صرف اللہ کے گھر کو ہی جاتا ہے۔

خوش نصیب کے عنوان سے لکھا گیا ہے کہ ایک دن بیماری نے دولت سے کہا کہ تم کتنی خوش نصیب ہوکہ ہر کوئی تمہیں پانے کی کوشش کرتا ہے اور میں کتنی بدنصیب ہوں کہ ہر شخص مجھ سے دور بھاگتا ہے۔ دولت نے جواب دیا کہ خوش نصیب توتم ہو جسے پا کر لوگ اپنے رب کو یاد کرتے ہیں۔ ماں کی اہمیت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ  جب ماں اپنی اولاد کے لئے  دعا کرتی ہے تو زمین اور آسمان کے درمیان کے سارے پردے اٹھ جاتے ہیں اور رب کریم وہ ”دعا“ سنتا ہے۔ ایک جگہ خدا  اور بھائی کی محبت کچھ یوں تحریر ہے اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں خداوند کریم سے محبت کرتا ہوں اور اپنے بھائی سے نفرت تو وہ جھوٹا ہے کیونکہ جب وہ آنکھوں سے نظر آنے والے انسان سے برا سلوک کررہا ہے تو نادیدہ خدا سے محبت کس طرح کر سکتا ہے۔ اصل میں مخلوق کی محبت ہی خدا کی محبت ہے کتاب میں خانہ کعبہ کے چار کونوں کی تفصیل بھی تحریر ہے۔ کونے کو عربی زبان میں رکن کہتے ہیں۔ رکن حجر اسود، رکن عراقی، رکن شامی اور رکن یمنی۔ 

مزید : رائے /کالم


loading...