برطانیہ، مدینہ فلاحی ریاست کی نقل اور سود

برطانیہ، مدینہ فلاحی ریاست کی نقل اور سود
برطانیہ، مدینہ فلاحی ریاست کی نقل اور سود

  


وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص بھی کسی پاکستانی کی بے نامی پراپرٹی کی نشاندہی کرے گا، اسے 10فیصد رقم دی جائے گی۔ اس سے اکٹھی ہونے والی رقم احساس پروگرام میں شامل کی جائے گی۔ میں جب برطانیہ گیا تب ایک فلاحی ریاست کے تصور سے روشناس ہوا۔ اگر میں وہاں نہ جاتا تو مجھے یہ پتہ ہی نہ چلتا کہ فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے۔

یہ خوش آئند بات ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے غربت مٹانے کے لئے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس سے بہت سے لوگوں کی مالی حالت بہتر ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ”برطانیہ کو مدینہ فلاحی ریاست کی نقل“ قرار دیا۔ یاد رہے! جب ہم ’مدینہ فلاحی ریاست‘ کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہماری نظر، اس ریاست کے بسنے والوں کے ”ایمان“ کی طرف جاتی ہے، کیونکہ نبی اکرمؐ پر جب پہلی وحی ”اقراء“ نازل ہوئی تو اس کے بعد سب سے پہلا کام جو آپؐ نے شروع کیا وہ تھا ”توحید کی دعوت“۔ گویا ”دعوٹ الی اللہ“ سے آغاز کیا، جس سے صحابہ کرامؓ کی ایک ’ایمان والی“ جماعت تیار ہوئی،جس میں جلیل القدر، صحابہ کرامؓ کے نام ملتے ہیں۔ گویا اسلام کی بنیاد ہمیشہ ایمان پر ہوتی ہے، ہمیں ریاست مدینہ کا ماڈل بنانے کے لئے ایمان باللہ، ایمان رسالت اور ایمان آخرت درکار ہے۔ گویا توحید رسالت اور آخرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ”فلاحی ریاست مدینہ کی نقل“ تیار کرنا ہے۔

جب ہم ان تین باتوں پر ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کے ”لازمی عناصر“ کو بھی اپنانا ہو گا۔ گویا توحید میں کسی کو شریک نہیں کرنا ہو گا۔ رسالت میں محمد رسولؐ اللہ کا ”اسوہ حسنہؐ“ ہمارے پیش نظر ہو گا۔ حضور اکرمؐ کا ”اسوۂ حسنہ“ ہمارے لئے دنیا و آخرت میں کامیابی کی کلید ہے۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ان تمام امور سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اصل کام ان کا لاگو کرنا ہے۔ اپنی ذات سے شروع کرکے، پوری قوم، بلکہ امت مسلمہ کے لئے نمونہ بننا ہو گا۔ ریاست مدینہ میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ تو تھے ہی…… اس میں مالی امور کے حوالے سے ”قرض“ تھا ”سود“ نہیں تھا۔ ”قرض“ دینے سے قرض دینے والے کے دل کے اندر ایک خوشی اور روح کے اندر ایک سکون پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل سود دینے لینے سے مالی کی حرص بڑھتی ہے، حتیٰ کہ انسان”مال کا بندہ“ بن جاتا ہے بجائے ”اللہ کا بندہ“ بننے کے۔

”سود“ خواہ کسی شخص سے لیا جائے یا کسی ادارہ سے، قرآن کریم میں اس کی بڑی وعید آئی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کھلی جنگ کے مترادف ہے۔ عمران خان اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ قرضہ جو انہوں نے آئی ایم ایف سے، چھ ارب ڈالر لیا ہے اور وہ بھی تین سال کی قسطوں میں۔ اس پر سود بھی دینا ہے، آئندہ سود پر قرض لینے سے پرہیز کریں اور ہمیں یقین ہے کہ آپ نے یہ ”سود“ جو ”سوّر“ کی مانند ہوتا ہے اور مجبوری کی حالت میں (گویا اضطراری حالت میں) ”سوّر“ کھانا بھی جائز ہو جاتا ہے، زندگی بچانے کے لئے اور پھر پوری قوم کی زندگی کا سوال تھا۔

آئی ایم ایف کے حوالے سے ایک بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے یو این او کے بارے میں سن رکھا تھا کہ "It is like a snake without teeth"……یعنی یہ ایک ایسا سانپ ہے جس کے ”دانت“ نہیں ہیں، کیونکہ سانپ کاٹے گا نہیں تو اس کا زہر نقصان نہیں دے پائے گا، لیکن اس کے مقابلے میں آئی ایم ایف کے بارے میں Confessions of an Economic Hitman by John Peaking…… جس کا ذکر آپ اکثر اپنی تقاریر میں کرتے رہے ہیں۔ اس کا تھوڑا سا مطالعہ کرنے کے بعد یہی معلوم ہو رہا ہے کہ آئی ایم ایف ایسا سانپ ہے،جس نے دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی کُنڈلی میں لے رکھا ہے اور اس کے دانت، اسی سانپ کی طرح ہیں جو دنیا کے کئی ایک ممالک کی معیشت کو نگل چکا ہے۔…… وہ شخص ہے جو اس تمام کھیل کا حصہ رہا ہے اور اس نے یہ تمام باتیں اپنی کتاب میں (Reveal) کی ہیں۔ یہ کتاب ایک Eye Opener ہے۔ ہر معیشت دان کے لئے، بلکہ ہر پڑھے لکھے انسان کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے کہ کس طرح تمام دنیا کے انسانوں کو ”سود“ کے چنگل میں دھکیلا گیا ہے۔ یاد رہے! اس میں سے نکلنے کے لئے، صرف ”اسلامی نظامِ معیشت“ ہی اس کا حل ہے، جس میں زکوٰۃ، صدقات، عشر، وغیرہ قومی خزانے میں آئیں اور کاروبار حکومت چلایا جائے۔ ہاں البتہ ضرورت کے تحت ان کے علاوہ ”ٹیکس“ بھی عائد کئے جا سکتے ہیں۔ ایک دفعہ اس کا آغاز تو کرکے دیکھیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...