کراچی والوں کی خیر

کراچی والوں کی خیر
کراچی والوں کی خیر

  


کیا زمانہ آ گیا ہے اب حکمران عوام کو تسلی کے دو حرف کہنے سے بھی گئے، مَیں نے تو آج تک نہیں سنا کہ کسی وزیر اعلیٰ نے وہ کہا ہو جو سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے، یعنی وقت سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیئے اور عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ کراچی کو بارش کے پانی سے نہیں بچا سکتے۔ عوام کو مشکلات کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ بھلا ایسے بھی کوئی وزیر اعلیٰ کہتا ہے۔ گلاس آدھا ہو تو اسے آدھا بھرا ہوا بھی کہہ سکتے ہیں اور آدھا خالی بھی۔ جو آدھا بھرا ہوا کہے وہ رجائی آدمی ہوگا اور جو آدھا خالی کہے گا قنوطی ہوگا۔ ارے صاحب آپ صوبے کے حاکم اعلیٰ ہیں، پُرعزم رہیں اور عوام کو حوصلہ دلائیں کہ حکومت مون سون کے موسم میں عوام کی بھرپور مدد کرے گی۔

آپ نے تو پہلے ہی سے شکست مان لی اور حوصلہ ہار گئے۔ صوبے کا حکمران جب ایسا بیان دے گا تو نیچے کام کرنے والی سرکاری مشینری کے تمام کل پرزے سکھ کا سانس لیں گے، چلو اب کوئی باز پرس نہیں ہو گی، کیونکہ حاکم وقت نے کہہ دیا ہے کہ بارشوں کے بعد کام نہیں ہو سکتا۔ کراچی کے عوام کی عجیب حالت ہے، ان پر مسلط تمام سرکاری ادارے بے حوصلہ اور بے کار نظر آتے ہیں۔ کراچی میونسپل کارپوریشن کے میئر علیحدہ رونا روتے ہیں، بلدیات کے وزیر سعید غنی اپنی بے بسی کا رونا روتے ہیں اور اب صوبے کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، اگر حکومت اور سرکاری ادارے بے بسی کا اظہار کریں تو کیا آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے…… ایک زمانے سے کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی اور بھتہ خوری تھی، آج بدترین مسئلہ گندگی ہے۔ شہر گندگی سے اٹا ہوا ہے، تمام نالے بند ہو چکے ہیں، نکاسیء آب اور گندگی کو صاف کرنے کا کوئی مربوط نظام نہیں، صوبائی حکومت سے لے کر میونسپلٹی تک ہر کوئی فنڈز کی عدم دستیابی کا رونا رو رہا ہے، مگر عملاً کچھ کرنے کو تیار نہیں۔

گرمیوں میں بارش تو ایک لطف اٹھانے کا موسم ہے، مگر ہائے کراچی والے، بارش کا سن کر ان پر خوف طاری ہو جاتا ہے۔اوپر سے محکمہ موسمیات والے بڑے ظالم ہیں، طوفانی بارشوں کی خبر دیتے ہیں ایک زمانے میں تو صرف کچی آبادیوں والے بارش سے ڈرتے تھے اب تو کراچی کے عوام بھی ڈرنے لگے ہیں۔ بارش ہو گی تو پہلے سے موجود ندی نالے ایسے ابلیں گے کہ جل تھل ہو جائے گا۔ جہاں وزیر اعلیٰ یہ کہہ دیں کہ بارش کے پانی کو روکنا ممکن نہیں، وہاں اور کیا کسر رہ جاتی ہے۔ ایک طرف یہ افتاد اور دوسری طرف عید الاضحیٰ سر پر کھڑی ہے۔ جب قربانی کے جانوروں کی آلائشیں ٹھکانے لگانے کا کوئی بندوبست بھی نہیں ہوگا تو ایشیا کا یہ بڑا شہر اور ملک کا معاشی حب ایک تعفن زدہ شہر بن جائے گا، پھر کراچی کے سارے ذمہ داران ایک دوسرے کو الزام دیں گے، برا بھلا کہیں گے، صوبے کی حکومت سیدھا وفاقی حکومت پر تیر چلائے گی کہ اس نے فنڈز روک رکھے ہیں، اس لئے کراچی مسائل کا گڑھ بن گیا ہے۔

پی ٹی آئی والے سندھ حکومت پر تبرا کریں گے اور ایم کیو ایم والے بھی اپنے میئر کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے اس بات کا رونا روئیں گے کہ وزارتِ بلدیات نے کارپوریشن کو فنڈز نہیں دیئے اس لئے میئر کیا کرے۔ کراچی میں عوام کو متاثر کرنے کے لئے گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے، تاثر بھی اس طرح کہ ان کا چاہے کوئی مسئلہ بھی حل نہ ہو،لیکن یہ ضرور نظر آئے کہ عوام کے سارے نمائندے ان کے لئے ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔ جب فکس اِٹ کے عالمگیر خان کو گرفتار کیا گیا تو سندھ کے وزیر بلدیات بہت گرجے برسے۔ سعید غنی اس لئے نہیں لال پیلے ہوئے کہ ان پر الزامات کیوں لگائے گئے، بلکہ اس لئے غصے میں تھے کہ عالمگیر خان نے جواب پی ٹی آئی کے ایم این اے بھی ہیں،صفائی اور نکاسی آب نہ ہونے پر احتجاج کیوں کیا، ان کی تصویر گٹر پر کیوں لگائی۔ ان کی اس بات کا پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے جواب یہ دیا کہ وہ ایک لاکھ تصویریں وزیراعلیٰ و وزیر بلدیات کی بنوا کر شہر ہی نہیں،بلکہ پورے سندھ کے گٹروں اور اُبلتے گٹروں پر لگائیں گے۔ سو اب اہل کراچی کو ایسے تماشے تو دیکھنے کو ضرور ملیں گے، لیکن وہ یہ توقع نہ کریں کہ ان کا کوئی مسئلہ بھی حل ہوگا۔

عقل حیران ہے کہ سندھ میں بالعموم اور کراچی میں بالخصوص گورننس کیسے عنقا ہو گئی۔ مَیں سوچ رہا ہوں کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار یہ بیان دیتے کہ بارش کے پانی کا نکاس نہیں ہو سکتا، ہمارے پاس اس کے انتظامات نہیں تو ”نااہل نا اہل“کے نعروں سے پوری فضا گونج اٹھنی تھی۔ وہ تو لاہور میں شدید بارش کے بعد خود گاڑی ڈرائیو کر کے سڑکوں پر نکل آئے تھے اور انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ سڑکوں پر کھڑا پانی چوبیس گھنٹے میں صاف کیا جائے۔کوئی حکمران ایسی بات کر ہی نہیں سکتا جو بے بسی کے زمرے میں آئے، لیکن سندھ میں پہلے وڈے سائیں قائم علی شاہ نے رنگ جمائے رکھا اور اب چھوٹے سائیں مراد علی شاہ میڈیا پر آ کر ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو مایوسی اور نا کامی کا پتہ دیتی ہیں۔

قصہ یہ ہے کہ کراچی میں ایک عجیب سی کھچڑی پک چکی ہے۔ سندھ میں حکومت پیپلزپارٹی کی ہے،لیکن کراچی کی نمائندگی اس کے پاس نہیں، سب سے بڑی نمائندگی تحریک انصاف کے پاس ہے۔ کراچی کے لئے وزیر اعظم عمران خان بھی ایک میگا پیکیج دینا چاہتے ہیں۔ بہت سے ترقیاتی منصوبے تو گورنر سندھ عمران اسماعیل کی زیر نگرانی شروع کئے جا رہے ہیں۔ سندھ حکومت کو یہ شکوہ ہے کہ وفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے فنڈز بھی روک رکھے ہیں، جس سے سندھ میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ سندھ حکومت گویا یہ تاثر دے رہی ہے کہ وفاقی حکومت نے اسے اربوں روپے سے محروم کر کے اسے روز مرہ کے اخراجات پورے کرنے تک محدود کر دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے اس کے پاس فنڈز ہی دستیاب نہیں۔ اب اس میں کتنا سچ ہے۔ کتنا جھوٹ،اس کا نتارا تو کسی آڈٹ رپورٹ میں ہی ہو سکتا ہے، تاہم اس کے جواب میں میئر کراچی وسیم اختر کا موقف بھی یہی ہے کہ سندھ حکومت بلدیہ کراچی کو فنڈز نہیں دے رہی۔ جس کے باعث صحت و صفائی کی صورتِ حال ناگفتہ بہ ہو چکی ہے، کیونکہ کراچی کا کچرا اور گند صاف کرنے کے لئے نئی مشینری اور نئی افرادی قوت درکار ہے،مگر اس کے پاس بجٹ نہیں ہے کہ ایسا کر سکے۔

کراچی کے مسائل پر لڑائی تو تسلسل کے ساتھ ہو رہی ہے۔ فریقین ایک دوسرے کے خلاف ہر حد کراس کرنے کو تیار ہیں، حالانکہ جس طرح کراچی کے مسائل ایک پہاڑ بنتے جا رہے ہیں، وہاں پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور عام استعمال کے پانی کی عدم دستیابی عوام کو نفسیاتی مریض بنا چکی ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد ٹینکر مافیا سے پانی خرید نہیں سکتی، اسے مفت پانی چاہئے، جو اس کا حق بھی ہے۔ ایک طرف کراچی کے عوام پانی نہ ہونے سے پریشان رہتے ہیں اور دوسری طرف بارش کا پانی سیلاب کی شکل اختیار کر کے ان کے لئے تباہی کا سامان کرتا ہے۔ سیاسی اختلافات اور پوائنٹ سکورنگ چھوڑ کر کراچی میں پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، پاک سرزمین پارٹی اور جماعت اسلامی کو ایک جگہ مل بیٹھنا چاہئے۔ بڑھتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کر کے ملک کے سب سے بڑے شہر کی کروڑوں افراد پر مشتمل آبادی کو ریلیف دینا چاہئے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ کراچی میں اب اس الزام میں گرفتاریاں ہو رہی ہیں کہ عوام کے مسائل کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟ فکس اِٹ اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تصادم بھی ہوا۔ سب سے بڑی ذمہ داری پیپلزپارٹی پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ سندھ میں اس کی حکومت بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو بے بسی کا اظہار کرنے کی بجائے ایک کپتان کے طور پر آگے آنا چاہئے۔ ضروری نہیں کہ سپریم کورٹ ہی دوبارہ مداخلت کرے تو کراچی میں صفائی کی صورت حال بہتر ہو۔ میئر کراچی اور محکمہ بلدیات سندھ کو مل کر اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔ کہیں مون سون کی بارشوں میں کراچی کی صورت حال اتنی نہ بگڑ جائے کہ عوام بے چارگی کے عالم میں ردِبلا کے لئے اذانیں دینے پر مجبور ہو جائیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...