میری ڈائری کے چند اوراق (11)

میری ڈائری کے چند اوراق (11)
میری ڈائری کے چند اوراق (11)

  


2مئی 1990ء

جنرل فرحت برکی بتا رہے تھے کہ 1991ء میں اس ٹینک کے دو نمونے چین میں تیار کئے جائیں گے…… 1993ء  میں تین ٹینک پاکستان میں اور تین چین میں بنائے جائیں گے…… اور 1995ء میں اس کی فُل پروڈکشن شروع ہو جائے گی۔ اسلم بیگ مجھے ہر ہفتے پوچھتے ہیں کہ کیا پراگرس ہے۔ چین نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 100% ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے کو تیار ہے، لیکن مسئلہ ہمارے ”ہضم“ کرنے کا ہے۔

M113 AL نام کی بکتر بند گاڑی (APC) کا پروڈکشن پلان مندرجہ ذیل ہے:

1۔ 1990ء= 150 گاڑیاں 

2۔1991ء= 300 گاڑیاں 

3۔1992ء= 325گاڑیاں 

لیکن یہ تعداد بہت کم ہے۔ ہماری آرمی کو اس قسم کی 3000بکتر بند گاڑیوں کی ضرورت ہے۔ اس لئے ہم جلدی کر رہے ہیں۔ ہم مرگلہ انڈسٹریز لمیٹڈ (MIL) کو پرائیویٹ سیکٹر میں لا رہے ہیں تاکہ یہ صنعت ہماری ضروریات پوری کرنے میں مدد دے۔

ہم نے اورلی کن (Orlikan) گن 003 سے اپ گریڈ کرکے 005 کر لی ہے۔ لیکن چونکہ اس کی جلد فراہمی کی ضرورت تھی اس لئے ہم نے 003 کی ایک بڑی کھیپ منگوالی تھی۔ اب اس کو خود اپنے ہاں اَپ گریڈ کر رہے ہیں۔ یہ دنیا کی مشہور و معروف طیارہ شکن توپوں میں سے ایک ہے۔ اس کی قیمت البتہ ہمیں اس لئے کم پڑ رہی ہے کہ ہمارے ہاں لیبر سستی ہے۔ہم 35ایم ایم کو 40% کم قیمت پر اپنے ہاں مینو فیکچر کررہے ہیں۔

ایران کی ضروریات کے پیشِ نظر ہم نے ”پاک ایران دفاعی بورڈ“ تشکیل دے دیا ہے جس کا نام ”والفجر بورڈ“ ہے۔ اس کے ماہانہ اجلاس ہو رہے ہیں جن میں پروڈکشن وغیرہ کے مسائل حل کئے جا رہے ہیں۔ جنرل طارق DG کمبٹ ڈویلپمنٹ اس بورڈ کے کوآرڈی نیٹر ہیں۔ اس پروڈکشن کو درج ذیل تین مقامات پر پروڈیوس کیا جا رہا ہے:

1۔ والفجر II = ہیوی ری بلڈ فیکٹری

2۔ والفجر III = پاکستان آرڈننس فیکٹری

3۔ والفجر IV =  EMEورکشاپس

………………

3مئی 1990ء

ایرانی وفد کے باقی لوگ تو POF واہ چلے گئے اور مجھے مسٹر اصغر تورکان کے ہمراہ 503 ورکشاپ (راولپنڈی) اور وزارت دفاع اور وزارت دفاعی پیداوار (راولپنڈی) میں جانا پڑا۔

آقائے اصغر تورکان ایران کی ایک نامور شخصیت ہیں اور اکبر تورکان کے چھوٹے بھائی ہیں جو آج کل ایران کے وزیرِ دفاع ہیں …… میں ان کو ساتھ لے کر 0830 بجے 503 ورکشاپ پہنچا۔ بریگیڈیئر سلیم، آفیسر کمانڈنگ ورکشاپ نے خوش آمدید کہا اور ایک گھنٹے تک ورکشاپ کے مختلف حصے دکھائے۔ پونے دس بجے ڈائریکٹر جنرل EME، جنرل جاوید ہاشمی کے پاس گئے۔ وہ ورکشاپ میں آئے ہوئے تھے۔ ہم نے ورکشاپ میں تمام اقسام کے ہیلی کاپٹروں کی ترمیم اور مرمت کے مختلف مراحل دیکھے اور آخر میں وہ جوتے بنتے بھی دیکھے جو  بارودی سرنگوں سے (ایک حد تک) تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان کو Anti Mine Shoes کہا جاتا ہے اور یہ فائبر گلاس سے بنائے جاتے ہیں۔ سیاچن کے لئے ایک بکس نما کیبن بھی دیکھا جو یخ پروف تھا۔ مسٹر تورکان نے ہیلی کاپٹر کی کینوپی کی ماؤلڈنگ (Moulding) میں خاص طور پر دلچسپی لی کہ اس کو کس طرح تیار کیا جاتا ہے، کس طرح ماؤلڈ میں رکھا جاتا ہے اور پھر کس طرح ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ ایران کی یہ صنعت خاصی ترقی یافتہ ہے اس لئے آقائے تورکان اس کے تکنیکی مسائل پر گفتگو کرتے رہے۔ پاکستان نے حال ہی میں یہ ورکشاپ (برائے کینوپی) قائم کی ہے۔ اس کی مشینری کے بیشتر حصے پرزے فرانس سے درآمد کئے گئے ہیں۔

جنرل ہاشمی نے جن دیگر امور پر بات چیت کی وہ یہ تھے:

٭ پاکستان اور ایران کو باہم مل کر ایک ”ہمہ کاری“ ہیلی کاپٹر بنانا چاہیے۔ تورکان نے کہا کہ ایران کے پاس شاہِ ایران کے زمانے کا 214-ST ہیلی کاپٹر بنانے کا لائسنس ہے۔ جب انقلابِ ایران آ گیا تھا تو یہ لائسنس ختم ہو گیا تھا۔ تورکان نے تجویز دی کہ پاکستان اگر فرانس سے اس ہیلی کاپٹرلائسنس کی تجدید کرا سکے تو دونوں ملکوں کے لئے بہتر ہو گا۔ تورکان اس مسئلے پر بڑے پُرجوش انداز میں گفتگو کرتے رہے لیکن جنرل ہاشمی نے زیادہ انہماک کا مظاہرہ نہ کیا۔ میں نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو پنجابی میں کہنے لگے (سانوں اس لائسنس وچ کوئی دلچسپی نہیں، تورکان ایویں ماری جا ریا اے)

٭ ایران نے اپنی فضائیہ کے بعض طیاروں کے فاضل پرزہ جات (Spares) کا تقاضا کیا تھا اور ہم بطور تھرڈ پارٹی اس کے لئے تیار تھے یعنی اپنے لئے منگوا کر ایران کو دینے پر رضامند تھے۔ ہم نے ان پرزوں کی ایک طویل فہرست بنا کر (بمعہ قیمت) ایرانیوں کو دے دی تھی اور کہا تھا کہ ان کے علاوہ بھی اگر مزید Spares درکار ہوں تو ہمیں ان کی لسٹ دے دیں، ہم ان کو منگوا دیں گے۔ تورکان نے جواباً کہا: ”اس سلسلے میں ہم جلد ایک ٹیم پاکستان بھیجیں گے“۔

ورکشاپ سے نکل کر ہم تقریباً 12بجے وزارتِ دفاعی پیداوار میں آ گئے۔ وہاں ائر وائس مارشل مقصود  نے خیر مقدم کیا۔ ان کے ساتھ بریگیڈیئر بشیر الدین اور ایک ونگ کمانڈر بھی تھے(جن کا نام اب ذہن سے نکل گیا ہے)…… مسئلہ تھا ہمارے C-130 کی اوورہالنگ کا۔ تورکان نے کہا کہ ایران PIA سے اپنے بوئنگ 707، 727 اور 747 کی اوورہالنگ کروا رہا ہے اور 33ڈالر فی نفر فی گھنٹہ ادا کررہا ہے۔ تورکان نے پیشکش کی کہ ایران، پاکستان سے C-130 کی اوورہالنگ کے لئے 25 ڈالر فی گھنٹہ چارج کرے گا۔AVM مقصود نے تورکان سے کہا کہ ہمیں ہر طیارے کی یک مشت لاگت بتا دی جائے۔ تورکان نے جواب دیا کہ ایسا ممکن نہیں۔ البتہ دو ایرانی انجینئر، جلد پاکستان بھیجے جائیں گے جو موقع پر آکر C-130 کا معائنہ کرکے اس کی مرمت اور لاگت کا تخمینہ دیں گے…… ایک انجینئر طیارے کے انجن کا ہو گا  اور دوسرا اس کی باڈی کا…… باڈی کے لئے کم سے کم 8000 گھنٹے اور انجن کے لئے 2000گھنٹے کی پرواز کے بعد مرمت ایک معمول ہے۔ اس سے زیادہ دیر ہو گی اور زیادہ پروازی وقفہ ہو گا تو زیادہ چارج کیا جائے گا۔ پاکستان نے کہا کہ ماہ جون نزدیک ہے اور ہمارا بجٹ آ رہا ہے۔ لہٰذا ہم چاہیں گے کہ یہ تخمینہ (Estimate) ہمیں جلد مل جائے اور معاہدے بھی جلد دستخط ہو جائیں۔ تورکان نے کہا کہ وہ آئندہ 3ہفتوں تک یہ کام کر دیں گے اور ساتھ ہی ایک آفیسر بھی بھیج دیں گے جو معاہدے پر دستخط کر دے گا۔

تورکان نے کہا کہ ہم نے گزشتہ ماہ 180واں C-130 اوورہال کرکے اپنی فوج کے حوالے کیا ہے۔ پاکستان نے تورکان کو پیرو اور ہانگ کانگ سے کئے گئے ایسے ہی معاہدوں کی ایک نقل فراہم کر دی تاکہ وہ معاہدے کی متعلقہ شقوں کو جلد مکمل کرکے بھیج دیں۔ 

رات کو ساڑھے آٹھ بجے وزیر دفاع کرنل غلام سرور چیمہ نے ایرانی وفد کو سگنل میس میں ڈنر دیا جس میں پورا ”والفجر بورڈ“ بھی مدعو تھا۔ مسٹر کیانی مجھے ایک طرف لے گئے اور ہم نے اکیلے بیٹھ کر جنرل صبیح (چیئرمین POF) کے ساتھ 120ایم ایم گن اور APFSD شاٹس (گولے) اور کابائڈ پاؤڈر کے پلانٹ کی خریداری پر بات کی۔ جنرل صبیح نے کہا کہ جب بھی ایران کی طرف سے خط ملا فوراً مطلوبہ معلومات اور معاہدہ کی تفصیلات مکمل کر لی جائیں گی۔

میرے ساتھ آقائے رجبی اور آقائے موسوی بیٹھے تھے۔دونوں جنرل آفیسرز ہیں اور وزارتِ دفاع کے ایڈیشنل سیکرٹری (جاوید صاحب) بھی تھے۔ جیسا کہ کھانے کی میز پر اکثر ہوتا ہے، غیر دفاعی موضوعات پر زیادہ ”گپ شپ“ ہوتی ہے۔دفاع جیسے خشک موضوع کو کھانے کی ”تر“ میز پر ڈسکس کرنا عمومی روائت نہیں۔ چنانچہ جاوید نے فارسی ادب، تاریخ اور تمدن کے بارے میں گفتگو کا آغاز کیا اور پھر یہ سلسلہ دراز اور دلچسپ ہوتا گیا۔

جنرل موسوی کا تعلق سگنل کور سے ہے۔ شکل  و صورت سے یہ شخص ”تماتڑ ساتھ“ لگتا تھا لیکن جب اس نے زبان کھولی تو پتہ چلا کہ اپنے شعبے میں یدِ طولیٰ رکھتا ہے۔ سگنل (Signals) ایک سرتاسرٹیکنیکل شعبہ ہے اور مجھے اس کی کوئی زیادہ سُن گُن نہیں تھی لیکن پھر بھی تادیر سلسلہ ء بحث چلتا رہا اور کچھ دال دلیا ہو ہی گیا۔ میں نے جنرل موسوی کو یاد دلایاکہ 1969ء میں جب پاکستان آرمی نے کراچی میں 6ماہ کا دوسرا ’ملٹری پرشین کورس‘ چلایا تھا تو اس میں ایران کے شہنشاہی دور کے تین آفیسرز ہمارے انسٹرکٹر تھے۔ ان میں ایک کا نام میجر پرتوی تھا اور ان کا تعلق شعبہء مخابرات (Signals) سے تھا۔ وہ جب بھی کلاس میں آتے، موضوع کوئی بھی ہوتا، اپنی کور کی باتیں بیچ میں لے آتے تھے۔

میں نے جب موسوی سے پرتوی کا ذکر کیا تو وہ پہلے تو ٹال گئے لیکن جب میں نے ان کا حلیہ بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ ہمارے بہترین اساتذہ میں سے تھے اور ہر اتوار ریس کورس جا کر جواء کھیلنے کے زبردست شوقین تھے۔ کبھی کبھی کلاس میں آتے اور ”آقایان! صبح بخیر“ کہنے کے بعد بڑے سنجیدہ ہو جاتے تو ہمیں اندازہ ہو جاتا کہ موصوف ہار کر آئے ہیں۔ آدھے پیریڈ تک منہ لٹکائے درس و تدریس میں مشغول رہتے۔

اپنی ایک گرل فرینڈ کے عاشقِ زار تھے اور اس کے خطوط بلیک بورڈ پر لکھ کر ہمیں بتاتے کہ اس کا انگریزی میں ترجمہ کرو۔ بعض باتیں ناگفتنی اور نانوشتنی بھی ہوتی تھیں لیکن میجر پرتوی کو پروا نہیں ہوتی تھی، بلکہ انگریزی ترجمے کی ”منہ پھٹ صداقت“ کا برملا اعتراف کرتے۔ یوں پڑھائی بھی جاری رہتی اور دل لگی بھی۔ میں چونکہ کلاس کا جونیئر موسٹ (سیکنڈ لیفٹیننٹ) سٹوڈنٹ تھا اس لئے میرے ترجمے کو خصوصی اہمیت دیا کرتے اور ساری کلاس کو سنایا کرتے کہ: ”توجہ بفر مائید آقایان…… سروان دوم جیلانی چہ فرمائند“(حضرات! دیکھیں جناب سیکنڈ لیفٹیننٹ جیلانی کیا فرماتے ہیں!)…… میں نے جب یہ ساری باتیں جنرل موسوی کو بتائیں تو معاً بول اٹھے: ”شاہ کے زوال کے بعد اس کو ریٹائرڈ کر دیا گیا تھا“۔

مزید : رائے /کالم


loading...