ٹرمپ کی ثالثی....چہ معنی دارد؟

ٹرمپ کی ثالثی....چہ معنی دارد؟
 ٹرمپ کی ثالثی....چہ معنی دارد؟

  


کیا مسئلہ کشمیر ایک ایسی گلی ہے، جس میں دروازہ نہیں ہے؟کیا اس گلی سے راستہ نکالنا ہی اصل چیلنج ہے؟

جو لوگ کشمیر کی اندرونی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے امریکہ پر انحصار کا خبط سوار ہے جبکہ خود کشمیر میں جاری تحریک آزادی ایک تحریک کم اور ہجوم زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ حریت کانفرنس طالبان قیادت کی طرح ذاتی انا کی شکار ہے اور اگر واقعی ایسا ہے تو حریت کا مستقبل کتنا تابناک ہوسکتا ہے، اس کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

ان حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کشمیریوں کی نئی نسل میں قیادت کا بحران ہے۔ یٰسین ملک کے علاوہ کوئی اور ایسا لیڈر نہیں ہے جو بلا خوف و خطر بھارتی استبداد کو چیلنج کرسکے وگرنہ باقی کی قیادت، ماسوائے گیلانی صاحب کے، کرپشن کے سکینڈلوں سے بھری ہوئی ہے اور ہر وقت حکومت کے ساتھ سمجھوتے کے لئے تیار نظر آتی ہے۔

گیلانی صاحب سے متعلق ایک اور بات یہ کہی جا رہی ہے کہ وہ 89برس کے ہو چکے ہیں، 34برس سے انہیں دل کا عارضہ ہے اور گزشتہ 15برس سے وہ گردوں کی بیماری کا بھی شکار ہیں جبکہ وہ خود گزشتہ دس برس سے نظربند ہیں اور یوں مزاحمت موومنٹ کے نام پر وہاں کچھ خاص نہیں ہورہا ہے۔ جو کوئی مزاحمت پر آمادہ ہوتا ہے اسے مقدمات میں الجھا کر زنداں میں ڈال دیا جاتا ہے

کیا کانگریس کیا بی جے پی، بھارتی سیاسی قیادت گزشتہ چالیس برسوں سے جموں کو کشمیر ویلی سے الگ کرکے ایک نیا صوبہ بنانے کے جتن کررہی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں پچاس سے ساٹھ اخبار انگریزی کے اور لگ بھگ دو سو اخبار اردو زبان میں شائع ہوتے ہیں مگر ان کی اکثریت پر ریاستی کنٹرول ہے۔ بی جے پی نے وادی میں جتنا کام کیا ہے وہ اگلے انتخابات میں وہاں دو سے تین نشستیں جیت کر تاریخ رقم کرسکتی ہے۔ تقسیم کے وقت سیالکوٹ سے جو ہندو فیملیاں جموں جا بسی تھیں آج ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جنھیں مستقل شہری کا درجہ دے کر ان کے ووٹ لینے کی سعی کی جا رہی ہے۔

جموں و کشمیر پارلیمنٹ میں کشمیریوں کی نشستیں 46ہیں اور اگر بی جے پی دو تین نشستیں جیت جاتی ہے تو اس کی تعداد 44سے بڑھ کر اکثریت میں بدل سکتی ہے جس کے بعد وہ آرٹیکل 370میں ترمیم کرکے ویلی کے خودمختار سٹیٹس کو بدلنے کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔

واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ بی جے پی کشمیر میں اسرائیل کی طرز پر نسلی صفائی میں مصروف ہے اور وہاں منظم دہشت گردی کی جا رہی ہے، ننھی آصفہ کا واقعہ سب کے سامنے ہے۔ ایسے واقعات کے بعد مقامی آبادی سے ان نوجوانوں کو اٹھالیا جاتا ہے جن کے بارے میں شک ہوتاہے کہ وہ تحریک آزادی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کررکھا ہے اور جموں میں مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک پلاننگ کے ذریعے ہندو اکثریتی علاقوں میں بدلتی جا رہی ہے۔

وہاں موجود مندروں میں ہونے والے سالانہ میلوں کی پورے بھارت میں تشہیر کی جاتی ہے اور ہندوؤں کو جموں کے سفر کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور منصوبہ یہ ہے کہ وہاں تل برابر جگہ بھی نہ بچے جہاں ہندو موجود نہ ہو۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندو فوجیوں کی جانب سے ان ایمبولینسوں پر گولیاں برسائی جاتی ہیں جن میں تحریک آزادی میں شریک زخمی نوجوانوں کو ہسپتال لے جایا جارہا ہوتا ہے۔ جس طرح اسرائیل نے امریکی اشیرباد سے فلسطینی علاقوں کو قبضے میں لے لیا ہے اسی طرز پر بھارت اسرائیل اور امریکہ کی مدد سے جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کرتا جا رہا ہے۔

اس صورت حال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نریندر مودی سے منصوب کرکے ثالثی کی پیشکش کا گہرا جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ اس ثالثی کی کیا نوعیت ہوگی؟ کیا بیت المقدس کی طرح امریکہ یہاں بھی بھارتی تسلط کو جائز قرار دینے کی کوئی سازش تو نہیں کرے گا؟

اس لئے ٹرمپ کی جانب سے ’ثالثی‘ کی پیشکش پر تالیا ں پیٹنے کی بجائے اس بات پر غور کیا جائے کہ بھارت جس طرح مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو ملیا میٹ کرنے پر تلا ہوا ہے، اگر اس منصوبے میں کامیاب ہوگیا تو کیا ٹرمپ کی ثالثی پاکستان کے فائدہ مند ہوگی؟

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

مزید : رائے /کالم


loading...