چیئر مین، ڈپتی چیئر مین سینیٹ کے خلا عدم اعتماد کی تحریکیں، ایوان بالا میں کل میدان لگے گا، سینیٹرز ڈرانے، دھمکانے پر وفاداریاں تبدیل نہ کریں بلاول فاداری ایمنا کا حصہ،فضل الرحمن، تحریک ناکام ہو گی: شبلی فراز

چیئر مین، ڈپتی چیئر مین سینیٹ کے خلا عدم اعتماد کی تحریکیں، ایوان بالا میں ...

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)سینیٹ کا اہم اجلاس کل جمعرات کو ہو گا،جس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قراردادوں پر خفیہ رائے شماری کرائی جائے گی،اجلاس کی صدارت صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کی جانب سے نامزد پریزائیڈنگ آفیسر سینیٹر محمد علی سیف کریں گے،چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی قرارداد منظور جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف حکومت کی عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ ہو گی،ذرائع کے مطابق حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کا اہم مشاورتی اجلاس آج بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا، جس کی صدارت سینیٹ میں قائدایوان شبلی فراز کریں گے،اجلاس میں کل ہونے والے سینیٹ اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جائے گی، دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں بھی اپنے سینیٹرز کو متحرک رکھنے کیلئے مسلسل اجلاس کررہی ہے،گزشتہ رات  اپوزیشن راہنماؤں نے سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ دیا  اپوزیشن راہنماؤں نے عشائیہ سے خطاب میں اراکین سینیٹ کو تلقین کی کہ آپ کو ڈرایا اور دھمکایا جائیگا لیکن وفاداریاں تبدیل نہیں کرنی۔عشائیے سے خطاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پارلیمان کا وقار قومی اسمبلی میں نظر نہیں آتا، سینیٹ میں پارلیمان کا وقار بحال کریں گے اور حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ منتخب کروائیں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے، دباؤ ہوتا ہے لیکن آپ سب جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سینیٹ میں ہم حکومت کا مقابلہ کریں گے، قانون سازی بھی کریں گے اور قانون سازی کرکے قومی اسمبلی والوں کو احساس بھی دلوائیں گے۔ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے متعلق اپوزیشن اکابرین کے فیصلے کو سراہتا ہوں۔ حاصل بزنجو کو چیئرمین نامزد کرکے ایک بار پھر چھوٹے صوبے کو موقع دیا جا رہا ہے۔ حاصل بزنجو سے متعلق فیصلہ سے صوبے کے درمیاں ہم آہنگی بڑھے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن کی بھاری اکثریت ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے اپنے ارکان پر اعتماد کرکے چیئرمین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ارکان کا جمہوری حق ہے کہ وہ کس کو چیئرمین نامزد کرنا چاہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام ارکان سے توقع ہے کہ اعتماد پر پورا اتریں گے۔ وفاداری اور اعتماد ہمارے ایمان کا حصہ ہے،ہم نے تمام ارکان پر اعتماد کرکے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔آج بدھ کو اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ایک بار پھراپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت ہو گا، جس میں یکم اگست کو ہونے والے اجلاس کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت   کوششوں کے باوجود ابھی تک اپوزیشن کے سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی،تاہم حتمی فیصلہ کل کی خفیہ ووٹنگ میں ہو گا پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مولانا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت متحد ہے، ہمارا کوئی رکن فروخت نہیں ہوگا، چیئر مین سینٹ کو ہٹانے کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا فیصلہ حتمی ہے، پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ضمیر نہیں بے ضمیری ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میرا خیال ہے ماضی میں ایک دفعہ دو تین سینیٹرز فروخت ہوئے تھے مگر اس وقت سب متحد ہیں۔ قبل ازیں  پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی صدارت سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے کی، شیری رحمان کے مطابق اجلاس میں 52ارکان سینیٹ نے شرکت کی۔اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے معاملے پر تفصیلی طور پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں چیرمین سینیٹ کو ہٹانے اور ووٹنگ کے طریقے کار پر مشاورت مکمل کرلی گئی۔دریں اثناپوزیشن جماعتوں کے چیئر مین سینیٹ کے امیدوار سینیٹرمیر حاصل بزنجو نے امید ظاہر کی ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں چیئر مین سینیٹ کے خلاف 60ووٹ آئیں گے چیئر مین سینیٹ کی تبدیلی کے بعد بلوچستان حکومت کے خلاف عدم اعتماد لانے کی گنجائش موجود ہے، قومی اسمبلی میں کم لیکن پی ٹی آئی کے پاس اکثریت ہے اگر اختر مینگل ہمت کریں تو وہاں بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے،  نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میر حاصل بزنجو نے کہا کہ سینیٹ میں تحریک عدم اعتماد کو کامیاب یا ناکام کر نے کیلئے 53ووٹ درکار ہوتے ہیں اس وقت اپوزیشن کے 66 ووٹ ہیں،جن میں سے 60ووٹ ہمیں ملیں گے، مگر جماعت اسلامی کیا کرتی ہے اب تک اسکا فیصلہ نہیں ہوا،بی این پی کے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی سے ملاقات ہوئی ہے امید ہے وہ ہمارا ساتھ دیں گے،انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ میر ی اور شبلی فراز کی ملاقات میں دونوں جانب سے چیئر مین و ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی بات ہوئی ہے،  انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اگست میں حکومت کے استعفیٰ دینے اور اکتوبر میں لانگ مارچ کے حوالے سے بات کی ہے  اے پی سی میں حکومت گرانے کی بات ہوئی تھی لیکن شہاز شریف اور بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت کووقت دینا چاہیے تاکہ جمہوری نظام چلتا رہے ہم لولی لنگڑی جمہوریت کو ختم کر کے کوئی اور نظام نہیں لانا چاہتے حکومت گرانے یا اسکے خلاف کوئی تحریک چلانے کے حوالے سے  مشترکہ اپوزیشن نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ ملک کو درست سمت میں لیجانے، گڈ گورننس، غلط  ف فہمیوں ں کے خاتمے کے لئے سیاسی جماعتوں،عدلیہ، فوج، میڈیا کے درمیان ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ ہونا چاہیے جس میں تما م ادارے ایک دوسرے سے بات کریں اور اپنے خیالات سے آگاہ کریں اور ملک کو آگے لیجانے کے لئے مشترکہ حکمت عملی مرتب کریں ،ایک سوال کے جواب میں حاصل بزنجو نے کہا کہ چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتمادکی کامیابی کے بعد بلوچستان میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی گنجائش موجود ہے صوبائی حکومت میں اختلافات پہلے سے ہی موجود ہیں ہمیں حکومت کے خلاف کامیابی مل سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ صادق سنجرانی سے کوئی اختلاف نہیں وہ اقلیت کے چیئر مین اور سافٹ ٹارگٹ تھے جب میں بیمار ہوا تو سینیٹ کی جانب سے طبی اخراجات ادا کرنے میں صادق سنجرانی نے کردار ادا کیا انہوں نے کہا کہ سینیٹ قانون ساز ادارہ ہے اس میں تبدیلی سے کسی صوبے کو فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا چیئر مین سینیٹ کی تبدیلی سے عام آدمی کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑیگا،انہوں نے کہا کہ سیاست میں محتاط ہوں لیکن اپنی صحت کے بارے میں احتیاط نہیں کرتا چیئر مین سینیٹ بن کر محتاط ہونا کافی مشکل کام ہوگا،ایک سوال کے جواب میں میر حاصل بزنجو نے کہا کہ صادق سنجرانی کے انتخاب کے وقت نواز شریف نے رضا ربانی کا نام تجویز کیا تھا لیکن آصف زرداری نہیں مانے ہماری جنگ صادق سنجرانی نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ ہے دوسری طرف سینٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد پر ہم پر امید اورپر اعتماد ہیں، الیکشن ضرور جیتیں گے، اپوزیشن کے بھی چند اراکین جو سمجھدار اور باوقار ہیں وہ ہمیں ووٹ دیں گے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کا ایک دن میں دو دو دفعہ اجلاس کرنا سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس ہاؤس کا ماحول جو پیدا ہوا ہے امید ہے کہ وہ عارضی ہوگا۔انہوں نے کہاکہ روز روز کے اکھٹے ہونے سے ایسا لگتا ہے کہ ان کے اراکین انکو ووٹ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی وجہ یہی ہے کہ یہ طریقہ کار درست نہیں کل کو کوئی اور اٹھ کر عدم اعتماد کردیگا۔انہوں نے کہاکہ ہم سب سیاسی لوگ ہے ہمیں مل بیٹھ کر اداروں کے بارے میں سوچنا چاہیے۔

میدان لگے گا

مزید : صفحہ اول


loading...