وزیر اعطم کا روٹی کی قیمت بڑھنے کا نوٹس، کراچی میں بارشوں سے جانی و مالی نقصانات پر اظہار تشویش

  وزیر اعطم کا روٹی کی قیمت بڑھنے کا نوٹس، کراچی میں بارشوں سے جانی و مالی ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،صباح نیوز،این این آئی) وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے روٹی اور نان کی کا قیمتوں میں اضافہ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخر اسکی وجوہات کیا ہیں؟۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے ملک میں روٹی اور نان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ آخر قیمتوں کے بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں؟۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کی کراچی کی صورتحال، اسلام آباد ماسٹر پلان، احتساب اور تحائف فنڈز پر توجہ مرکوز رہی، وہ ایک بار پھر احتساب کے عمل کو مزید موثر اور سخت بنانے کیلئے پرعزم دکھائی دیے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد سے مجرموں جیسا ہی سلوک ہونا چاہئے۔ انہوں نے خصوصی ہدایات جاری کیں کہ اسلام آباد کے پوش علاقوں میں بلند عمارات کو ترجیح دی جائے، سیکٹر جی سکس جیسے مرکزی علاقے میں ہائی رائز بلڈنگز اور شاپنگ سنٹر بنائے جائیں، پوش سیکٹر کے دیگر علاقوں میں زمین کا مناسب استعمال کیا جائے جبکہ باقی اراضی کو کھلا چھوڑا جائے۔وزیراعظم نے کہاکہ سلمز میں بلڈنگ کے بعد باقی اراضی کا کمرشل استعمال کیا جانا چاہیے،اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں بھی اپارٹمنٹس بنانے کا پلان ترتیب دیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں غریبوں کو گھروں کی سہولت فراہم کرنے میں بہت سنجیدہ ہوں۔وزیراعظم نے کراچی میں بارشوں کی وجہ سے نقصانات پر اظہار تشویش کیا اور کہا کہ سندھ حکومت کو اربوں روپے دئیے لیکن عوام کو سہولیات نہیں ملیں، کراچی میں سیوریج اور صفائی کا نظام نہ ہونے سے عوام کی زندگی اجیرن ہے۔نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔اجلاس میں عمران ناصر کو ایم ڈی پاسکو تعینات کرنے، وزارت تعلیم کے 12 محکمے وزارت انسانی حقوق کو منتقل کرنے اور فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے رانا عبدالجبار کو چیف ایگزیکٹو متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ تعینات کرنے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ریگولیشن اور سروس کے محکمے الگ کرنے کی منظوری بھی دی۔وفاقی کابینہ نے عارف احمد خان کو چیئرمین ٹریڈ ڈویلپمینٹ اتھارٹی تعینات کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے،کابینہ نے تحائف اور انٹرٹینمنٹ کی مد میں 4 لاکھ روپے کی حد کا بل واپس لے لیا۔اجلاس میں ای پی ونگ کو وزارت اطلاعات کے کنٹرول سے نکالنے پر طویل بحث ہوئی۔ وزرا کے مابین مباحثہ ای پی ونگ کو وزارت اطلاعات سے وزرات خارجہ کے حوالے کرنے پر ہواشاہ محمود، فواد چودھری، شیریں مزاری اور شفقت محمود نے ای پی ونگ وزارت خارجہ کے حوالے کرنے کی حمایت کی۔ جبکہ وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے اپنے ماتحت ڈیپارٹمنٹ کا بھرپور دفاع کیا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا گیا جبکہ شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں شہید پاک فوج کے جوانوں کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی۔بعدازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا 52واں اجلاس ہوا،وفاقی کابینہ اجلاس میں مختلف امور زیر بحث آئے اور ان کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات اور راولپنڈی میں طیارہ حادثے کے شہداء کیلئے فاتحہ کی گئی۔ انہوں نے بتایاکہ وزیراعظم کی زیرقیادت کابینہ اجلاس میں اہم امور کی منظوری دی گئی،قیدیوں کی حالت زار سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ڈیٹا اکٹھا کرکے حقائق سامنے لائے جائیں اور جیل ریفارم ایجنڈا کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔معاون خصوصی نے کہاکہ مستحق اور نادار  قیدیوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومتوں کیساتھ ملکر جیل اور قیدیوں کے متعلق معاملات کو حتمی شکل دینگے۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ نے ماڈل کورٹس کے قیام پر چیف جسٹس کی کاوشوں کوسراہا،عام شہریوں کی زندگی میں بہتری لانے کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔انہوں نے بتایاکہ وزیر اعظم نے ہدایت کی تمام وزا رتیں عام آدمی کو سہولیات کی فراہمی کیلئے تجاویز دیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ہر اجلاس میں عوامی فلاح کے منصوبوں پر پیشرفت سے متعلق بات ہو۔معاون خصوصی نے کہاکہ نیشنل سیفٹی روڈ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے،نیشنل سیفٹی کا مقصد ہائی وے پر ہونیوالے حادثات میں کمی لانا ہے۔معاون خصوصی نے کہاکہ کابینہ نے قومی کمیشن برائے اطفال کے قیام کی منظوری دی۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ نے مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے سربراہان کے تقرر کی منظوری دی۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ نے رولز آف بزنس کے شیڈول 2 میں تبدیلی کی منظوری دی۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ریگولیشن اور سروس کے محکمے الگ کرنے کی منظوری دی گئی ہے،سول ایوی ایشن میں سروسز اور ریگولیشن کے شعبوں کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ایئرپورٹ میں موجود سہولیات کے معیار کو بہتر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ کے کوڈ آف کنڈکٹ کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ کابینہ نے دادو میں سیپکو اہلکار سے بدسلوکی کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو طلب کیا ہے۔ معاون خصوصی نے کہاکہ کابینہ نے کراچی میں حالیہ بارشوں سے ہونیوالی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے،کراچی اور حیدرآباد میں حالیہ بارشوں سے گڈ گورننس کا راگ الاپنے والے بے نقاب ہوئے۔ معاون خصوصی کے مطابق وفاقی کابینہ نے بارشوں سے شہریوں کے جانی اور مالی نقصان کے ازالے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ نے ٹیکس گوشواروں کے متعلق اطمینان کا اظہار کیا ہے،چیئرمین ایف بی آر کی کاوشیں مثبت سمت میں گامزن ہیں۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ پی ایم پورٹل میں ساڑھے 7لاکھ شکایات کا ازالہ کیا جاچکا ہے،پورٹل میں موجود بقایا شکایات کا تعلق زیادہ تر سندھ سے ہے،کابینہ کو پاکستان میں جاری غربت سروے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیراعظم نے معذور افراد کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے ہدایات دی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ معذور افراد کی سہولت کیلئے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ معاون خصوصی کے مطابق کابینہ نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کے قیام کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ راولپنڈی،اسلام آباد کی سوسائٹیوں کو  تمام سہولیات کی فراہمی کے بعد این او سی جاری کیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد  ماسٹر پلا ن  سے متعلق قائم کمیشن نے سہولیات  کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ صاف پانی کے حوالے سے کابینہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اجلاس میں صحت انصاف کارڈز کی تقسیم کو مانیٹر کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور طالبان کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے ایجنڈے میں کوئی چیز شامل نہیں تھی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کسی صحافی اور نہ ہی کسی میڈیا ورکر کو نقصان پہنچانا چاہتی،جو شخص خود کسی وہم کا شکار ہے اس کا حکیم لقمان کے پاس بھی کوئی علاج نہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن کے چہرے داغ دار نہیں ان کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہاکہ صحافی کو صحافت کرنی ہے سیاستدان کو سیاست کرنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کابینہ میں اکثریت کا جو فیصلہ ہوتا ہے وہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کابینہ کا ہر وزیر اپنی وزارت کا جوابدہ ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ عرفان صدیقی کے حوالے سے تفصیلی بات کر چکے ہیں،عرفان صدیقی اب صحافی نہیں بلکہ سیاستدان ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جس کے ساتھ ناانصافی ہو گی حکومت اس کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان عرفان صدیقی کو پکڑوانے والوں میں نہیں بلکہ چھڑوانے والوں میں سے ہے،قانون سب کے لیے یکساں ہے۔

وفاقی کابینہ

مزید : صفحہ اول


loading...