طوفانی بارشیں، کراچی میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 20ہو گئی، ایمرجنسی نافذ، بجلی کی آنکھ مچولی، میئر کی وفاق سے مدد کی اپیل

  طوفانی بارشیں، کراچی میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 20ہو گئی، ایمرجنسی ...

کراچی/لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) کراچی میں دو روز سے جاری مون سون بارشوں کے دوران مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات اور مکان کی چھت گرنے سے 6 بچوں سمیت 20 افراد جان کی بازی ہار گئے،سیلابی صورتحال کے باعث شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہر کی صورتحال سنگین ہوگئی، لوگ گھروں میں محصور ہوگئے،بجلی کی آنکھ مچولی بھی سارا دن جاری رہی،وفاقی حکومت سندھ کے عوام کی مدد کرے،میئرکراچی کی وزیراعظم سے اپیل۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں گزشتہ روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔تفصیلات کے مطابق شہر میں گزشتہ روز سے جاری بارش میں کرنٹ لگنے سے 5 بچوں سے سمیت 19 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ گلشن معمار میں مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا۔نارتھ کراچی 5 سی کے علاقے میں 9 سالہ عاصمہ، کھارادر مچھی میانی میں 30 سالہ جبار اور کالاپل ہزارہ کالونی میں 40 سالہ باغ ضمیر کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا جبکہ گلشن اقبال 13 ڈی میں 22 سالہ کامران، لیاری ہنگور آباد جونا مسجد کے قریب 36 سالہ آدم، کلفٹن بوٹ بیسن میں 30 سالہ اسماعیل اور ڈی ایچ اے خیابان تنظیم فیز 5 میں 30 سالہ شرافت علی کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گئے۔گلستان جوہر بلاک 19 میں 48 سالہ محمد رسول، پاپوش صرافہ بازار میں 19 سالہ سعد، محمودآباد میں 18 سالہ ارشاد اور ناظم آباد خاموش کالونی میں 35 سالہ عظیم کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ملیر میں کرنٹ لگنے سے 2 بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ فشریز کے قریب کرنٹ لگنے سے بھی نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ بلدیہ اتحاد ٹاؤن میں ایک خاتون اور یوسف گوٹھ میں 20 سالہ عاطف علی بھی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔نارتھ ناظم آباد بلاک ایل میں کرنٹ لگنے سے 12 سالہ عبیر اور 14 سالہ احمد عمر جان کی بازی ہار گئے، سرجانی ٹاؤن یوسف گوٹھ میں 20 سالہ عاطف علی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوا جبکہ گلشن معمار میں کچے مکان کی چھت کا ملبہ گرنے سے 6 ماہ کا بچہ جان کی بازی ہار گیا۔شہر کے مضافاتی علاقے اربن فلڈنگ کی لپیٹ میں  بارش کے بعد اسکیم 33، ناردرن بائی پاس اور سپر ہائی وے کے علاقے اربن فلڈنگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔لٹھ ڈیم اور کیرتھر کینال سے آنے والے ریلوں کا پانی شہباز گوٹھ اور سعدی گارڈن میں داخل ہوگیا ہے جس کے بعد سعدی ٹاؤن اور سکیم 33 کے دیگر علاقوں میں بھی پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے۔ پاک فوج نے کشتیوں کے ساتھ متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔کراچی میں سپرہائی وے کے ڈی اے سکیم 33 کے گرڈ سٹیشن میں بارش کا پانی داخل ہوگیا ہے جسے نکالنے کیلئے کے الیکٹرک کا عملہ اور انتظامیہ ہیوی مشینری لے کر پہنچ گئی۔شہر قائد کیتجارتی مراکز 65 سے 70 فیصد تک کھلے رہے لیکن وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہیں۔کراچی سمیت سندھ بھر میں تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ وفاقی اردو یونیورسٹی اور جامعہ کراچی کے ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کر دیئے گئے تھے۔شہر میں مسلسل بارش کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہنے پرشہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے عملے نے شکایت سننا بھی بند کردی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش کی شدت میں کمی کے بعد بجلی بحالی کے کاموں میں تیزی آئی ہے، تمام متاثرہ علاقوں میں بجلی جلد بحال کردی جائے گی۔دوسری جانب میئر کراچی وسیم اختر نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد کے عوام مشکل میں ہیں، سندھ حکومت عدم دلچسپی کے باعث ناکام ہو چکی، برساتی پانی کی نکاسی کی خراب صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت ہماری مدد کرے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شہری ادارے اور شہر کے تمام وسائل اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں خود بھی کام نہیں کر رہے اور وسائل بھی نہیں دیتے۔انہو ں نے کہا کہ سندھ حکومت کیساتھ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو مون سون کی بارشوں کی صورت میں مدد اور مشینری فراہم کی جائے گی لیکن ہماری کوئی مدد نہیں کی گئی بلکہ ایک گاڑی بھی نہیں دی گئی اوراگر مزید بارش ہوئی تو آبادیوں میں پانی بھر جائے گا، جس کیلئے فوری طور پر مشینری اور وسائل مہیا کئے جائیں تاکہ خراب صورتحال سے نمٹا جاسکے۔علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے تین روز کیلئے شدید طوفانی بارشوں نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری نئے الرٹ کے مطابق بدھ سے جمعہ تک شدید سے طوفانی نوعیت کی بارشیں ہونے کا امکان ہے۔ ہزارہ، ملاکنڈ، پشاور، مردان، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سرگودھا، فیصل آباد ڈویژنوں، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان، ملتان اور ساہیوال ڈویژنوں کیساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں بھی جمعرات اور جمعہ کو بارشیں ہو سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق شدید بارشوں سے ہزارہ، ملاکنڈ، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے جبکہ ملاکنڈ، ہزارہ، ڈویژنوں،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔ملک بھر میں جاری حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں اب تک 76افرادجاں بحق جبکہ71افراد زخمی ہوچکے، متاثرہ علاقوں میں اب تک اشیائے خوردونوش کے18.35ٹن، 727ٹنٹس،1000 مبلیں،200 پلاسٹک میٹس اور100سلیپنگ بیگز تقسیم کردیے گئے۔این ڈی ایم اے کی اعدادوشمارکے مطابق یکم جولائی سے اب تک ملک بھر میں مون سون بارشوں کی تباہ کاریوں سے مجموعی طور پر 66افراد جاں بحق، 71افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ اس دوران 163مکانات39 دکانیں، 3مساجد،3 پل اور 2 رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 20 بچے، 6 خواتین او40 مرد شامل ہیں۔این ڈی ایم اے کے اعدادوشمار کے مطابق حالیہ بارشوں کے نتیجے میں پنجاب میں 14افراد جاں بحق، 36افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ اس دوران9مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔سندھ میں 14افرادجان بحق ہوگئے،خیبر پختونخوامیں 20افراد جاں بحق، 18زخمی ہوچکے ہیں جبکہ اس دوران31 مکانات،ایک مسجد،3 پل،3پاور ہاوسز اور1 رابطہ سڑک کو نقصان پہنچا ہے۔ آزاد کشمیر میں 22افراد جاں بحق 7زخمی جبکہ 120مکانات39دکانیں،3مساجد اور2 رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے۔بلوچستان میں 10افراد جاں بحق جبکہ10افراد زخمی ہوچکے ہیں۔این ڈی ایم اے نے بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں اب تک اشیائے خوردونوش کے18.35ٹن، 727ٹنٹس، 1000مبلیں، 200پلاسٹک میٹس اور100سلیپنگ بیگز تقسیم کردیے ہیں۔

 بارش سے ہلاکتیں 

مزید : صفحہ اول


loading...