سعودی عرب پاکستان کی مدد کے کے اپنا فرض نبھارہا ہے،ترکی عبد اللہ شعبان

    سعودی عرب پاکستان کی مدد کے کے اپنا فرض نبھارہا ہے،ترکی عبد اللہ شعبان

اسلام آباد (سہیل چودھری سے) سعودی عرب کے وزیر اطلاعات ترکی عبداللہ شعبان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کی قیادت ایک دوسرے کے بہت قریب ہے اور سعودی عرب سمجھتا ہے کہ مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونا اس کا فرض ہے، ہم پاکستان کی مدد نہیں کر رہے بلکہ اپنا فرض نبھا رہے ہیں۔ سعودی عرب کا ایران کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے نہ شیعہ سنی کا کوئی ایشو ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران کی قیادت عرب اور مسلم دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ وہ گزشتہ روز پاکستان میں سعودی سفیر نواف المالک کی رہائش گاہ پر پاکستانی میڈیا کی کلیدی شخصیات سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پر چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان مجیب الرحمن شامی، چیف ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت، نیشن رمیزہ مجید نظامی، سینیٹر ساجد میر اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ سعودی وزیر نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔ تاہم دونوں ملکوں کے مابین موجودہ مسائل ایران کی حکومت کے پیدا کردہ ہیں۔ سعودی عرب نے کبھی کسی جنگ کی خواہش نہیں کی نہ کسی جنگ میں حصہ لیا۔ 2010ء میں یمن بحران کا آغاز ہوا جس میں باغیوں نے ایران کی مدد سے یمن کی آئینی حکومت کو نکال باہر کیا۔ یمن کی آئینی حکومت کی درخواست پر سعودی عرب نے اس کی حمایت کا آغاز کیا جس کی بناء پر سعودی عرب پر بھی میزائل داغے جا رہے ہیں۔ ہمارے گھر بھی میزائلوں سے محفوظ نہیں۔ سعودی عرب کو تشویش لاحق ہے کہ اس تنازع سے باہر نکلنے کیلئے کیا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے ایران کا نیو کلیئر معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو۔ ایران کی حکومت کی پالیسیوں کی بناء پر اسے شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ایرانی کرنسی کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں بے پناہ گرچکی ہے۔ ایران پوری عرب دنیا میں مداخلت کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ حج کے موقع پر بھی ایرانی سیاست سے باز نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حاجیوں کے بھیس میں آکر حجاج کیلئے بنی ہوئی سرنگوں کو بلاک کر دیتے ہیں جس سے لاکھوں حاجیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج کے مقدس موقع پر سعودی عرب کی جانب سے کسی کو سیاست کی اجازت نہیں نہ ہم کسی کو سیاست کرنے دیں گے۔ اس حوالے سے سعودی عرب کا مؤقف پختہ ہے۔ تاہم سعودی سفیر نے واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے ان حاجیوں کا خیر مقدم کرتا ہے جس کا مقصد صرف حج کرنا ہوتا ہے۔ایسے ایرانی حجاج دیگر حاجیوں کی طرح آزادانہ نقل و حمل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قطر بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے کیونکہ وہ بھی کئی عرب ملکوں میں مداخلت کر رہا ہے تاہم سعودی عرب قطر سے آنے والے حجاج کا خیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستانیوں کا دوسرا گھرہے یہاں 30 لاکھ پاکستانی کام کرتے ہیں اس وجہ سے سعودی عرب کے لوگ پاکستانیوں کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ تاہم اب سعودیوں کو پاکستانیوں کے ساتھ اپنے روابط بڑھانے چاہئیں تاکہ پاکستان کے عوام بھی سعودیوں کو جان سکیں۔ کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے روڈ تو مکہ پراجیکٹ کے تحت پاکستان پہلا ملک ہے جس کے حاجیوں کی امیگریشن پاکستان میں ہونے کا آغاز ہوچکا ہے۔ پاکستانی حاجی اب سعودی عرب ایسے ہی جائیں گے جیسے وہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا حج کوٹہ بڑھایا اب عمرہ کوٹہ بھی بڑھائیں گے۔ حج یا عمرہ کوٹہ بڑھانے کے لئے جدہ میں نیا ایئرپورٹ زیر تعمیر ہے جس کا جلد افتتاح ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت حاجیوں کو بہتر سہولتیں دینے کیلئے نت نئے اقدامات کر رہی ہے۔ اس سال منیٰ میں حاجیوں کیلئے خصوصی فرش بچھایا گیا ہے جس سے گرمی کی شدت میں کمی ہوگی۔ اس کے علاوہ دیگر بہت سے فلاحی کام کر رہی ہے۔ کراؤن پرنس محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب میں بہت ساری ایسی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ ان اصلاحات کو متعارف کرانے میں اسلام میں کوئی پابندی نہیں تھی۔ وہ ایک سال میں دوسری مرتبہ پاکستان آئے ہیں اس موقع پر سعودی سفیر نے میڈیا اور دیگر رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مثبت اور تعمیری تعلقات کے فروغ کے لئے میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت ارو بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے بہت پوٹینشل ہے۔ انہوں نے سیاحت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آزاد کشمیر سوئٹزر لینڈ سے بھی زیادہ حسین ہے۔

سعودی وزیر اطلاعات

مزید : صفحہ اول


loading...