پاکپتن اراضی کیس، نوازشریف کا ابتدئی بیان قلمبند، سوالنامہ حوالے 

    پاکپتن اراضی کیس، نوازشریف کا ابتدئی بیان قلمبند، سوالنامہ حوالے 

لاہور(این این آئی،صباح نیوز)محکمہ اینٹی کرپشن کی تین رکنی ٹیم نے پاکپتن اراضی الاٹمنٹ کیس میں کوٹ لکھپت جیل جا کر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا ابتدائی بیان قلمبند کرلیا، سابق وزیر اعظم سے ایک گھنٹہ تحقیقات کی گئیں جبکہ انہیں سوالنامہ بھی دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر غضنفر طفیل، راشد مقبول اور انسپکٹر زاہد خان پر مشتمل محکمہ اینٹی کرپشن ساہیوال ریجن کی تین رکنی تحقیقاتی ٹیم سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سے تحقیقات کیلئے کوٹ لکھپت جیل پہنچی۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے 1985کے کاغذات نواز شریف کے سامنے رکھے جس پر نواز شریف نے کہا کہ یہ34سال پرانے کاغذات ہیں مجھے کچھ یاد نہیں۔ اینٹی کرپشن افسران کی ٹیم نے سوال کیا کیا الاٹمنٹ کیلئے اخبار میں اشتہار دیا گیا تھا، زمین کن بنیادوں پر الاٹ کی گئی اور کن کن افسران کو الاٹمنٹ کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔جس پر نواز شریف نے دوبارہ جواب دیا کہ یہ بہت پرانا کیس ہے مجھے اس کی تفصیلات یاد نہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے سوال کیا کن بنیادوں پر دیوان قطب کو زمین الاٹ کی گئی۔ جس پر نواز شریف نے کہا ہمیشہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کیا، کبھی اختیارات سے تجاوز نہیں کیا، پاکستان کی خدمت کی ہے۔ نواز شریف نے محکمہ اینٹی کرپشن کی ٹیم سے کہا کہ وہ اپنی قانونی ٹیم کی مشاورت کے بعد مزید جوابات دیں گے۔دوسری جانبقومی احتساب بیور و (نیب) لاہور کی جانب سے چودھری شوگر ملز کیس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سے جیل میں تحقیقات کرنے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز کو بھی جلد طلب کئے جانے کا امکان ہے۔علاوہ ازیں نیب کی جانب سے مریم نواز ان کے بھائیوں حسن نواز، حسین نواز اور کزن عبدالعزیز شریف کو بھی اسی کیس میں آج 31جولائی کیلئے طلبی کے نوٹسز جاری کر رکھے ہیں۔ذرائع کے مطابق طلب کیے گئے تمام افراد چوہدری شوگر مل میں شیئر ہولڈرز ہیں اورنیب چوہدری شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہاہے۔

پاکپتن اراضی کیس

مزید : صفحہ اول


loading...