پاکستانی مصنوعات کے تحفظ کا قانون 18 سال سے فائلوں میں بند

پاکستانی مصنوعات کے تحفظ کا قانون 18 سال سے فائلوں میں بند

کراچی(این این آئی)پاکستانی مصنوعات کے تحفظ کا قانون 18 سال سے فائلوں میں بند ہو کر رہ گیا۔ذرائع کے مطابق جیو گرافیکل انڈیکیشن لا کا مسودہ ابھی تک کابینہ میں پیش نہیں ہوسکا، قانون نہ ہونے سے پاکستان اپنی مصنوعات کا حق ملکیت ثابت نہیں کر سکتا، ملکیت ثابت نہ ہونے سے پاکستان کو عالمی منڈی میں اشیاء کی اصل قیمت نہیں ملتی۔ذرائع کے مطابق مصنوعات میں پاکستانی چاول، کینو، آم، آلات جراحی، اجرک اور دیگر شامل ہیں۔ بین الاقوامی برانڈز پاکستانی مصنوعات کو اپنے نام سے فروخت کر رہے ہیں۔ قانون یورپی مارکیٹ میں چاولوں اور دیگر اشیاء کی تجارت کے لیے بھی لازم ہے، قانون نہ ہونے سے یورپ میں بھارتی باسمتی چاول کو زیادہ ترجیح مل رہی ہے۔وفاقی سیکرٹری تجارت کے مطابق مسودہ کابینہ کمیٹی کو بھجوا چکے، وہی کابینہ میں لے کر جائے گی، قانون بننے سے پاکستانی مصنوعات کی رجسٹریشن کا طریقہ کار مرتب کیا جائے گا۔ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی ری پیکیجنگ اور ری ڈیزائں نگ نہیں ہوسکے گی، پاکستانی مصنوعات کسی اور نام سے زیادہ قیمت پر بھی فروخت نہیں ہوسکیں گی۔ 

فائلیں بند

مزید : صفحہ آخر


loading...