ٹیکسوں کے باعث چمڑا منڈی میں شدید مندی، گودام بند، تاجر مزدور پریشان

  ٹیکسوں کے باعث چمڑا منڈی میں شدید مندی، گودام بند، تاجر مزدور پریشان

لاہور (سٹی رپورٹر) عید الاضحی کی آمد آمدشہر کی چمڑا منڈی میں شدید مندی کا رجحان ہے۔ حکومت کی جانب سے عائد ٹیکسوں، کھالوں کی قیمتوں میں کمی اور دیگر اخراجات میں اضافے کے بعد چمڑا منڈی کے بیشتر گودام بند ہو چکے ہیں جبکہ تاجر اور مزدور طبقے کو حالیہ ٹیکسوں اور بحران کے سبب پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ روزنامہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق حالیہ مہنگائی کے بحران سے شہر کی چمڑا مارکیٹ میں کاروبار نہ ہونے کے مترادف ہے جبکہ عیدالاضحی کے قریب آنے سے بھی کھالوں کے کاروبار پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ چمڑا منڈی کے مختلف گوداموں سے ایک کھال پر 32 فیصد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ گائے کی کھال جو تین ہزار روپے پر فروخت ہوتی تھی اب اس کی قیمت ایک ہزار روپے، اونٹ کی ایک سو روپے، بکرے کی پانچ سو روپے سے دوسو روپے اور دمبے کی کھال ایک سو روپے تک فروخت کی جارہی ہے جس کے بعد کاروبار نہ ہونے کے برابر رہو گیا ہے۔ دوسری جانب چمڑا منڈی کے صدر محمد سجاد کی انتظامی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے جس سے نہ صرف تاجر بلکہ مزدوروں کے کئی مسائل حل نہیں ہوتے جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا جارہاہے۔ اس حوالے سے روزنامہ پاکستان کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے چمڑا منڈی کے مزدور محمد عظیم، شہزاد اکرم،حنیف گل اور محمد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت نے کھالوں پر ٹیکس چار فیصد سے بڑھا کر 32 فیصد کردیا گیا ہے۔ پوری منڈی میں تاجر پریشان ہیں اور کاروبار رک گیا ہے۔ پہلے کھالیں مہنگی ہوتی تھیں اور اب ان پر لگانے والا کیمیکل کھالوں سے بھی زیادہ مہنگاہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عید الاضحی قریب ہے لیکن مارکیٹ میں نہ تو اس حوالے سے کوئی انتظامات کیے گئے ہیں اور نہ ہی کھالوں کا کوئی کاروبار ہے۔ کھالوں کو لگانے والا نمک بھی سو روپے سے بڑھ کر دو سو روپے کا ہو گیا اور باقی بجلی وغیرہ کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے اسی سبب منڈی میں موجود 50 گوداموں میں سے 28گودام بند ہو چکے ہیں کیونکہ کاروبار نہیں ہے۔آنے والے دنوں میں حالات مزید بْرے ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹ کا ایک بڑا مسئلہ یہاں کے صدر سجاد ہیں جن کی بطور صدر کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے اور نہ ہی وہ مارکیٹ کے مسائل حل کرواتے ہیں۔ پہلے یہاں کوئی نہ کوئی حکومتی نمائندہ ہمارا حال احوال پوچھنے آجا تھا مگر اب کوئی نہیں آتا۔ ہمارے بہت سے ایسے چھوٹے چھوٹے مسئلے ہیں جو حل نہیں ہوتے کیونکہ یہاں موجود انتظامیہ کی کارکردگی صفر ہے۔

 چمڑا منڈی 

مزید : صفحہ آخر


loading...