یوم سیاہ کا جلسہ ہو ہی گیا، اپوزیشن نے رکاوٹ عبور کرلی!

یوم سیاہ کا جلسہ ہو ہی گیا، اپوزیشن نے رکاوٹ عبور کرلی!

ہمارے ملک میں سیاست کا بھی عجیب مخمصہ ہے،نہ چلتی ہے نہ ختم ہوتی ہے۔ برسر اقتدار تحریک انصاف اور اپوزیشن کے درمیان اب تک جمہوری تعلقات کار بھی قائم نہیں ہو سکے۔اسمبلیاں بھی اپنے وجود کا احساس کھو چکی ہیں اور آئین و جمہوریت کے عمل کے مطابق کام نہیں کر رہی ہیں بلکہ اجلاس ہنگامہ آرائی کی نظر ہو جاتے ہیں، حالانکہ جس جس ملک میں بھی جمہوری نظام (اپنی اپنی طرز کا) ہے، وہاں وہاں تنازعات اور کشمکش بھی ہوتی ہے،لیکن پارلیمانی کام متاثر نہیں ہوتا یہاں ایک سال ہو گیا۔ ذرا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کام کا جائزہ لیں تو احساس ہو گا کہ قومی خزانہ سے ضیاع ہوا ہے کام نہیں ہوا۔

نئی حکومت کو ایک سال ہو چکا اور انتخابات کی تکمیل والے دن کو اپوزیشن نے یوم سیاہ اور حکمرانوں نے یوم تشکر کے طور پر منایا۔ ہر دو کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم 25 جولائی کو جو ہوا وہ خوشگوار نہیں تھا، اپوزیشن نے کوئٹہ،کراچی، لاہور،اسلام آباد اور پشاور میں جلسوں کا اعلان کیا۔ خیبرپختون خوا اور اسلام آباد سے کسی رکاوٹ کی اطلاع نہ آئی تاہم لاہور اور کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے اپنا روائتی کردار ہی دہرایا، اپوزیشن کو بوجوہ اجتماع کی اجازت نہ دی اور اس کی طرف سے جن مقامات کے لئے جلسہ کرنے کا اعلان تھا وہ تبدیل کرنے کو کہا گیا، یوں تنازعہ ہوا، تاہم وقت مقررہ پر نہ تو لاہور میں جلسہ روکا جاسکا اور نہ ہی کوئٹہ میں ایسا ہوا اور جلسے ہوگئے۔ یہ بحث بالکل عبث ہے کہ جلسے کتنے بڑے اور کتنے ناکام تھے، کیونکہ احتجاج والے تو تعداد بڑھا چڑھا کر ہی بیان کریں گے اور حکمران ناکام قرار دیں گے، لیکن اس پر غور نہیں کیا گیا کہ اپوزیشن کو اجازت نہ ملنے اورپولیس کی بھاری نفری کے باوجود جلسے تو ہو گئے اور یہی اپوزیشن کی کامیابی ہے، اس کے بعد اگر زیرحراست حضرات کو رہا کرنے اور اپوزیشن کے جلسوں کے انعقاد میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا اعلان کیا گیا ہے تو مثبت رویہ کہلانے کے باوجود تنقید کا باعث بن گیا اور محاذ آرائی کی وجہ سے فریقین ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی میں مصروف ہیں۔

اس سال محکمہ موسمیات نے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی۔ یوں بھی گرمی کی شدت سے گلیشئر پگھلنے کا بھی عمل ہو رہا ہے۔اس لئے بالائی علاقوں میں بارش اور گلیشئر کے پانیوں سے یہ اندیشہ پہلے ہی سے موجود تھا کہ ہمارے دریاؤں اور ندی نالوں میں پہلے سے زیادہ پانی آئے گا اور سیلابی خطرہ ہے۔ دوسری طرف بھارت نے کبھی بھی معاہدوں کا احترام نہیں کیا اور اس مرتبہ بھی سندھ طاس معاہدے کے تحت اس پر یہ واجب تھا کہ وہ پانی کے اخراج اور بہاؤ کے مطابق پاکستان کو اطلاع دے، لیکن بوجوہ ایسا نہیں کیا گیا،الٹا اپنے علاقوں کو محفوظ رکھنے کے لئے معاہدہ کے مطابق بغیر اطلاع دیئے فاضل پانی چھوڑ دیا گیا۔ اس سے ہمارے دریاؤں اور ندی نالوں کی سطح بلند ہوئی اور سیلاب کی کیفیت پیدا ہوگئی،جس سے ہمارے زرعی رقبے بھی متاثر ہوئے۔ یوں بھی اب تک دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے ہی کے باعث قریباً 9 قیمتی جانوں کے ضیاع کی اطلاع ہے۔ یوں یہ رحمت خود انسانی رویوں کے باعث زحمت بن گئی۔

شہروں میں ہونے والی موسلادھار بارشوں نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کے سبھی پول کھول دیئے کہ تمام تر انتظامی اعلانات کے باوجود سڑکوں، بازاروں اور گلی،محلوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہوا اور شہریوں کو آمدو رفت میں دشورریوں کا سامنا کرنا پڑا،جہاں جہاں پانی جمع یا کھڑا ہوا یہ معمول کے مقام ہیں لیکن آج تک انجینئرنگ کا کوئی ایسا کار نامہ سر انجام نہیں پایا کہ اول تو پانی کھڑا نہ ہو اور اگر ناگزیر ہو تو پھر کم سے کم وقت میں خارج بھی ہوجائے ایسا نہیں ہوا حتیٰ کہ شہر کی مرکزی اور علاقائی پارکیں تالاب بن گئی۔ پی،ایچ،اے والے یہاں سے پانی خارج نہ کرسکے۔ایسی ہی کیفیت گرین بیلٹس کی تھی ہے کہ جمع شدہ پانی سے سٹرانڈ پیدا ہوئی۔ گھاس اور پودے جل گئے۔ یوں فائدہ کی بجائے نقصان ہوا۔ بارش میں تو پی،ایچ،اے کے مالی حضرات نے کام ہی چھوڑ دیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کل لاہور آ رہے ہیں۔ معمول کے مطابق وزیراعلیٰ اور کابینہ سے مشاورت اور ملاقات ہوگی۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ لاہور میں قیام کے دوران اپوزیشن کے ایم۔ پی۔ اے حضرات کا ایک اور گروپ ان سے ملاقات کرے گا۔ اور تبادلہ خیال ہوگا، اس سے پہلے جو لوگ ملے وہ تردید بھی کرتے رہے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ اب کون کون لوگ ملتے ہیں کہ فارورڈ بلاک کے لئے مسلسل کام ہو رہا ہے۔اگرچہ اب تک ایسا ہو نہیں سکا اور مسلم لیگ (ن) والے قائم ہیں،جس کا نام آتا ہے وہ لاضاحتیں دینے لگتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...