وزیر اعلیٰ محمود خان ہسپتالوں، تھانے کچہریوں پر اچانک چھاپے ماریں گے

وزیر اعلیٰ محمود خان ہسپتالوں، تھانے کچہریوں پر اچانک چھاپے ماریں گے

رب ذوالجلال کا شکر ہے کہ انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات میں تاریخ پاکستان کے پہلے جنرل الیکشن بخیر و خوبی انجام پا گئے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہوا۔ انتخابات سے قبل اس امر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ان حالات میں انتخابات کا پر امن ہونا مشکل ہے، پی ٹی ایم کی تحریک اور ارکان پارلیمینٹ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پابند سلاسل ہونے کے باعث حالات خراب ہونے کا اندیشہ تھا لیکن خدا کا کرم رہا اور عام انتخابات ہر قسم کی شورش سے پاک رہے۔ اب نومنتخب ارکان صوبائی اسمبلی کی کھینچا تانی کا سلسلہ جاری ہے اور حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتیں ان اراکین کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی تو ایک دو آزاد ارکان کو توڑنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے چار ارکان اسمبلی نے اپنا الگ گروپ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ بعض دیگر ایم پی اے بھی ان کے گروپ میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔ نومنتخب آزاد اراکین میں اکثریت ان کی ہے جنہیں پی ٹی آئی نے حالیہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا تھا اور انہوں نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا، دیکھتے ہیں کہ کھینچا تانی کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ یہ تو ہے صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کی تازہ ترین صورت حال۔ بعد از الیکشن امن و امان کی صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے،بعض قبائلی علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں نے سر اٹھایا ہے جب کہ سرحد پار افغانستان میں بھی دھماکوں کا شور سنائی دے رہا ہے۔ دو تین روز قبل شمالی وزیرستان میں گشت پر مامور فوجی جوانوں پر افغانستان کی حدود سے دہشت گردوں نے حملہ کیا جبکہ بلوچستان میں آپریشن کرنے والی FC ٹیم پربھی فائرنگ کی گئی جس میں کیپٹن سمیت 10جوان شہید ہو گئے۔ یہ خبر بھی ملی ہے کہ تحصیل میرعلی میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے،دہشت گرد مکان میں چھپے ہوئے تھے،اطلاع پر فورسزنے گھیراؤ کیا تو فائرنگ شروع کردی۔ دوسری جانب افغان دارالحکومت کابل میں سابق انٹیلی جنس سربراہ کے دفتر اور شادی ہال کے قریب ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 8افراد ہلاک ہوگئے،یہ دھماکے صدراتی انتخابات کیلئے انتخابی مہم کے باقاعدہ اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی افغان دارالحکومت میں ہوئے ہیں۔ بعد ازاں یہ اطلاع آئی کہ کابل میں انتخابات میں نائب صدر کے لیے حصہ لینے والے اور خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کے دفتر پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہوگئی۔

پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کا خواہاں رہا اور یہی وجہ ہے کہ طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات میں ہمارا ملک بڑا اہم رول ادا کر رہا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ طالبان امریکہ مذاکرات پاکستان کی جدوجہد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے تو بے جا نہ ہوگا۔یہ اطلاع بھی ہے کہ افغان طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد ہی انٹرا افغان مذاکرات کا آغازہوگا، اس سلسلے میں امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بھی کہاہے کہ جب ہمارے اپنے معاہدے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے تو”ٓانٹرا افغان“ مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔پاکستان تو ان مذاکرات کے حوالے سے پر امید ہے اور شبانہ روز اسی کوشش میں ہے کہ افغانستان سے جتنی جلدی ممکن ہو امریکی افواج کا انخلاء ہو جائے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا طالبان اور امریکا میں فوجی انخلا کا معاہدہ یکم اگست کو ہوپائے گا؟ دوحہ مذاکرات میں طالبان وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر جبکہ امریکی وفد کی زلمے خلیل زاد کریں گے، آئندہ 2ہفتوں میں ملا ہیبت اللہ کے دورہ پاکستان اوروزیر اعظم و آرمی چیف سے ملاقاتوں کا بھی امکان ہے۔

خیبر پختونخوامیں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابی صورت حال سے اب تک 16 افراد جاں بحق جبکہ کم و بیش 40افراد زخمی ہو چکے ہیں 15گھر مکمل تباہ اور درجنوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔سینکڑوں مویشی بھی سیلاب کی نذر ہو گئے۔صوبائی محکمہ ریلیف بحالی و آبادکاری، خیبر پختونخوا نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، خیبر پختونخوا کو اب تک موصول شدہ مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہی سے متعلق جو اعداد و شمار اور الرٹ جاری کئے ہیں وہ خطرے کی گھنٹی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت موسمی حالا ت کے پیش نظر خاطر خواہ حفاظتی اقدامات کرے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔ گزشتہ سال بھی بارش اور سیلاب نے خاصی تباہی مچائی تھی، گزشتہ صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ صوبائی محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے بہتر بنانے کے لئے وزیر اعلیٰ محمود خان نے ہسپتالوں، تھانوں، کچہریوں اور تعلیمی اداروں سمیت دیگر سرکاری دفاتر پر اچانک چھاپے مارنے کا پروگرام ترتیب دیا ہے، وزیر اعلیٰ کو شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض افسران و اہلکار عوامی مسائل پر کان نہیں دھر رہے جس سے حکومت کی گڈ گورننس میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔گزشتہ روز ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے اچانک چھاپوں کے پلان کی منظوری دی اور اپنے سٹاف کو ہدایت کی کہ ان کے ان چھاپوں کا کسی کو پیشگی علم نہیں ہونا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ کا یہ اقدام خوش کن ہے اور اس سے کام چور سرکاری افسروں اور اہلکاروں کا قبلہ درست کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی اور صوبائی بیورو کریسی میں تناؤ کی جو صورت حال تھی اس میں بہتری آنے کی بجائے مزید ابتری پیدا ہو گئی ہے اور یہ حکومتی امور کی انجام دہی میں رکاوٹ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ روز ہفتہ وار بریفنگ کے حوالے سے ایجوکیشن کا دن تھا اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے پانچ سالوں کے لئے تعلیمی اصلاحات کے ایجنڈے اور اہداف مقرر کرنے کا بلوپرنٹ تیار کیا جا رہا ہے، پانچویں جماعت کے طلبہ کی ریاضی، انگریزی اور سائنس کے مضامین کے پوائنٹس میں 12 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اساتذہ کی قابلی کے اعتبار سے گزشتہ سال کے پچاس فیصد کے مقابلے میں 59 فیصد پرائمری اساتذہ معیار پر اترے ہیں، اسی طرح اگلے تعلیمی سال کے لئے نئے اہداف مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا گیاجو خوش آئند ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...