کشمیری عوام کو فتح کی نوید،کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام کے مطابق یہ صدی آزادی کشمیر کی ہے

کشمیری عوام کو فتح کی نوید،کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام کے مطابق یہ صدی ...

ملتان سے شوکت اشفاق

پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آزادی کی نوید سنائی ہے،لیکن وقت کا تعین بہت زیادہ کردیا ہے یعنی رواں صدی میں جس کا مطلب مزید 81سال میں یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے،خیر کشمیری اب اتنا صبر کرتے ہیں یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا لیکن سید فخر امام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے کشمیر پر ثالثی کے حوالے سے بیان کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی بالکل خاموش ہیں مگر بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا موقف اس کے بالکل برعکس ہے،بھارتی وزیر اعظم کو اپنے لوگوں کو قائل کرنا بڑا چیلنج ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ نریندر مودی کتنی وسعت رکھتے ہیں تاہم اس حوالے سے حریت رہنماؤں اور آزادکشمیر قیادت کا بہت مثبت ردعمل سامنے آیا ہے جس کو سامنے رکھتے ہوئے امریکا سمیت اہم ممالک کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بند کرانے کا کہیں گے اور بھارت کے تجارتی پارٹنرز سے اس حوالے سے بات کریں گے کہ بھارت اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی دے،مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا فوجی قبضے کا علاقہ ہے یہی وجہ ہے کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ وہ کوئی نہ کوئی طالع آزمائی کرتا رہتا ہے لیکن ہم پوری طرح الرٹ ہیں اور ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے۔سید فخر امام نے پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں کہا کہ امریکہ افغانستان سے باعزت انخلاء چاہتا ہے جس میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے،اب اس حوالے سے پاکستان کو راستہ ملا ہے تو معاشی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ اب یہ معاشی فوائد کب حاصل ہوتے ہیں اس کیلئے اچھے وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔

دوسری طرف وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کو کامیاب قرار دیااور انکشاف کیا ہے کہ کچھ طاقتیں پاکستان اور افغانستان میں امن نہیں چاہتیں یہ قوتیں جلد بے نقاب ہوں گی جبکہ کچھ لوگوں کو مثبت اقدامات ہضم نہیں ہورہے اور بعض عناصر امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں،حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستانی اقدامات سے نہ صرف خطے کا فائدہ ہوگا بلکہ پوری دنیا اس سے مستفید ہوگی۔اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے موقعہ پروزیر خارجہ نے جان کا نذرانہ پیش کرنے پر پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا اور بتایا کہ ہم امریکہ سے کچھ مانگنے نہیں گئے تھے،قبل ازیں ہم سے ہی ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا رہا لیکن اب ہم نے امریکہ سمیت ساری دنیا کو امن دشمن قوتوں کے بارے میں آگاہ کردیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ سمیت روس،چین اور یورپی یونین پاکستان کے موقف کی تائید کررہے ہیں رویوں اور نظریات میں تبدیلی آرہی ہے قبل ازیں پاکستان کو افغانستان کے حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا تھا اور کچھ طاقتیں پاکستان اور افغانستان میں امن نہیں چاہتیں مگر اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں،طالبان مذاکرات کے لئے تیار ہو چکے ہیں افغان صدر اشرف غنی کے اس حوالے سے تحفظات دور کردئیے گئے ہیں۔وزیر خارجہ نے پاکستانی افواج کو دنیا کی بہترین فوج اور اسے پاکستان کے تحفظ کی ضمانت قرار دیا اور پاک فوج کے دس جوانوں کو جام شہادت نوش کرنے پر خراج عقیدت پیش کیا۔قبل ازیں مخدوم شاہ محمود قریشی نے ولایت آباد میں غلہ گودام کے مقام پر 20کروڑ روپے کی لاگت سے جدید زچہ بچہ ہسپتال قائم کرنے کا سنگ بنیاد رکھا جبکہ رنگیلا پور سوئی گیس روڈ کی تعمیر کا افتتاح بھی کیا۔

چولستان اور اس سے ملحقہ علاقے ٹڈی دل کے حملے کی لپیٹ میں آ چکے ہیں،جہاں قدرتی آفت نے نہ صرف فصلوں اور درختوں کو ہڑپ کرلیا ہے بلکہ اب دریائے سندھ کراس کرکے راجن پور اور دوسرے علاقوں کی طرف بھی آنے کی اطلاع ملی ہے،مذکورہ ٹڈی دل بھارتی راجھستان کے راستے چولستان داخل ہوا لیکن روایت کے عین مطابق پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ سوئی رہی جس سے یہ ٹڈی دل نہ صرف آگے بڑھتا گیا بلکہ اس کی میں اضافہ بھی ہوتا جارہا ہے اور اب صورت حال رحیم یار خان اور اردگرد کے علاقوں میں خاصی دگرگوں ہے لیکن انتظامیہ ابھی تک اس کا کوئی معقول سدباب تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔حالانکہ اس قدرتی آفت سے نبرد آزما ہونے کیلئے پنجاب حکومت کے پاس نہ صرف ہر سال فنڈ ہوتے ہیں بلکہ ہوائی سپرے کیلئے دس چھوٹے جہاز بھی سرکاری کاغذوں میں موجود ہیں جن کی دیکھ بھال کے فنڈز بھی سالانہ کی بنیاد پر جاری ہوتے ہیں لیکن معلوم ہوا ہے کہ ان دس جہازوں میں سے صرف دو اس وقت تھوڑا بہت کام دے سکتے ہیں جبکہ باقی آٹھ کی موت واقع ہوچکی ہے،ٹڈی دل پر قابو پانے کے لئے پنجاب حکومت کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے نہ صرف غریب کاشتکاروں کا نقصان ہورہا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے حوالے سے ڈاکٹر وسیم سرور سلطانی نے انکشاف کیا کہ ضلع ملتان کی 9فیصد،ڈیرہ غازی خان کی 5فیصد، وہاڑی کی 13فیصد اور جلال پور پیروالہ کی 18فیصد آبادی ہیپاٹائٹس کا شکار ہے جو سی کیٹگری ہے اور جو کالا یرقان کہلاتی ہے اور اس حوالے سے مناسب آگاہی نہ ہونے سے یہ مرض بڑھتا جارہا ہے۔جس کی بنیادی وجہ حکومت کا اس حوالے سے مثبت اقدامات نہ اٹھانا ہے،اس وقت ضروری ہے کہ اس مرض کی تشخیص کیلئے سکریننگ کیمپ لگائے جائیں اور حکومت اس حوالے سے علاج معالجہ پر توجہ دے تاکہ اس موذی مرض پر قابو پایا جاسکے۔صرف نشتر ہسپتال میں اس مرض کے 2500سے زیادہ مریض رجسٹرڈ ہیں جو خطرے کی علامت ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...