حکومت کو جانوروں کی برآمد روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت

حکومت کو جانوروں کی برآمد روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت

پشاور(سٹی رپورٹر)پشاور ہائی کورٹ نے عیدالاضحی تک قربانی کے جانوروں کی افغانستان برآمد کرنے کیلئے پرمٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکومت کو جانوروں کی برآمد کو روکنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت کر دی عدالت نے اگلی پیشی پر حکومت سے جواب مانگ لیا کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس ابراہیم خان اور جسٹس لعل جان خٹک نے کی درخواست گزار اشفاق خلیل کے وکیل یاسرخٹک نے عدالت کو بتایا کہ عید الضحی قریب آنے پر مال مویشیوں کا افغانستان سمگل کرنے کا کاروبار عروج پرپہنچ جاتا ہے اورضلع خیبر کے مختلف راستوں سے افغانستان غیرقانونی طریقے سے مویشی سمگل کیے جاتے ہیں جسکے باعث یہاں پر قربانی کے جانوروں کی کمی واقع ہو جاتی ہے اوربیوپاری قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیتے ہیں،رٹ کے مطابق گزشتہ سال بھی عید سے قبل منڈیوں میں جانور ختم ہو گئے تھے اور قربانی کے جانوروں کی قیمت غریب کی دسترس سے باہر ہو گئی تھیں، اگر یہی سلسلہ اس بار بھی جاری رہا تو لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ لوگوں کی قوت خرید ختم ہو رہی ہے اور زیادہ تر لوگ اس مذہبی فریضے سے محروم ہو جاتے ہیں عدالت سے افغانستان مویشی برآمد کرنے کے پرمٹ منسوخ کرنے کی بھی استدعا کی جسٹس ابراہیم خان نے کہا کہ اگر پرمٹ ہے پھر تو روک نہیں سکتے جس پر یاسرخٹک نے عدالت کو بتایا کہ افغانستان نے چھوٹے جانور روک دیئے ہیں اگر افغانستان روک سکتا ہے تو ہم بھی عید تک بڑے جانوروں کی برآمد روک سکتے ہیں صرف عید تک روک دیں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پرمٹ کی آڑ میں سمگلنگ بھی عروج پر ہے جس پر جسٹس ابراہیم نے کہا کہ جانوروں کی برآمد کون روک سکتا جس پر یاسرخٹک نے کہا کہ اگر عدالت حکم کرے تو رک سکتا ہے ابتدائی دلائل کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے عید تک افغانستان مویشی برآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی عدالت نے حکومت کو نئے پرمٹ جاری کرنے بھی پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکومت کو عدالتی احکامات کو یقینی بنانے اور اگلی پیشی پر جواب طلب کرلیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...