طوفانی بارشیں، کراچی میں کرنت لگنے سے 14افراد جاں بحق، ایمر جنسی نافذ

طوفانی بارشیں، کراچی میں کرنت لگنے سے 14افراد جاں بحق، ایمر جنسی نافذ

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)شہر قائدمیں دوسرے بھی جاری بارش سے کرنٹ لگنے پر 14افرادجاں بحق ہوگئے،سیلابی صورتحال کے باعث شہر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہر کی صورتحال سنگین ہوگئی، لوگ گھروں میں محصور ہوگئے،بجلی کی آنکھ مچولی بھی سارا دن جاری رہی،وفاقی حکومت سندھ کے عوام کی مدد کرے،میئرکراچی کی وزیراعظم سے اپیل۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں گزشتہ روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا، تجارتی مراکز 65 سے 70 فیصد تک کھلے رہے لیکن وقفے وقفے سے ہونے والی بارش کے باعث کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہیں۔کراچی سمیت سندھ بھر میں تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ وفاقی اردو یونیورسٹی اور جامعہ کراچی کے ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کر دیئے گئے تھے۔دوسری جانب لٹھ ڈیم سے سیلابی ریلہ آبادی کی جانب بڑھنے پرپاک فوج نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا،کمشنر کراچی نے پاک فوج سے مدد کی اپیل کی تھی۔شہر میں مسلسل بارش کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہنے پرشہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے عملے نے شکایت سننا بھی بند کردی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش کی شدت میں کمی کے بعد بجلی بحالی کے کاموں میں تیزی آئی ہے، تمام متاثرہ علاقوں میں بجلی جلد بحال کردی جائے گی۔دوسری جانب میئر کراچی وسیم اختر نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد کے عوام مشکل میں ہیں، سندھ حکومت عدم دلچسپی کے باعث ناکام ہو چکی، برساتی پانی کی نکاسی کی خراب صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت ہماری مدد کرے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شہری ادارے اور شہر کے تمام وسائل اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں خود بھی کام نہیں کر رہے اور وسائل بھی نہیں دیتے۔انہو ں نے کہا کہ سندھ حکومت کیساتھ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو مون سون کی بارشوں کی صورت میں مدد اور مشینری فراہم کی جائے گی لیکن ہماری کوئی مدد نہیں کی گئی بلکہ ایک گاڑی بھی نہیں دی گئی اوراگر مزید بارش ہوئی تو آبادیوں میں پانی بھر جائے گا، جس کیلئے فوری طور پر مشینری اور وسائل مہیا کئے جائیں تاکہ خراب صورتحال سے نمٹا جاسکے۔

بارش/ہلاکتیں 

مزید : صفحہ اول


loading...