باورچی کی ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی ،سندھ پولیس کی اپیل کی سماعت

باورچی کی ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی ،سندھ پولیس کی اپیل کی سماعت

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں محکمہ پولیس میں باورچی سے ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی کیخلاف سندھ پولیس کی اپیل کی سماعت ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے کیخلاف سروس ٹریبونل پہلے ہی سندھ پولیس کی درخواست مسترد کرچکا ہے۔منگل کوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں محکمہ پولیس باورچی سے ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی کیخلاف سندھ پولیس کی اپیل کی سماعت ہوئی۔اس موقع پر باورچی سے ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے تک پہنچنے کے معاملے پر عدالت کے دلچسپ ریمارکس سامنے آئے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس نے تین امتحانات لینے کے بعد باورچی کو ہیڈ کانسٹیبل بنایا 3ماہ بعد غلطی کا خود ہی احساس کر لیا کہ ہیڈ کانسٹیبل نہیں بنا سکتے تھے یہ تو سندھ پولیس کی ایڈیشنل نالائقی ہوئی نہ 18 سال کی سروس اور تین امتحانات پاس کرنے والے کو واپس کیوں باورچی بنانا چاہتے ہیں؟ یہ بتائیں کیا سندھ پولیس میں کوئی ہیڈ کانسٹیبل میٹرک بھی ہے؟ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ سمجھتے ہیں اے ایس آئیز میں بھی بہت سے میٹرک نہیں ہوں گے، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ایسا نہ کریں ورنہ تو بہت سے لوگوں کو نکالنا پڑ جائے گااس شخص نے تو بڑے کھانے کھلائے ہوں گے، اب ہیڈ کانسٹیبل رہنے دیں صاحب بہادر، اپنی سہولتوں کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں 3 امتحانات پاس کرنے کے بعد اب ایک اہلکار سے کیا چاہتے ہیں؟ ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے کیخلاف سروس ٹریبونل پہلے ہی سندھ پولیس کی درخواست مسترد کرچکا ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...