طالبان کی بجائے نیٹواور افغان فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی زیادہ ہلاکتیں ہوئیں

طالبان کی بجائے نیٹواور افغان فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی زیادہ ہلاکتیں ہوئیں

لندن(صباح نیوز)اقوام متحدہ کے مشن کا کہنا ہے کہ 2019کے پہلے 6ماہ میں طالبان اور دیگر مسلح تنظیموں سے زیادہ افغان اور نیٹو فورسز کے حملوں میں شہری ہلاک ہوئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر شہریوں کی ہلاکت باغیوں کے خلاف افغان اور نیٹو فورسز کے آپریشن، جیسے فضائی حملے اور رات کے وقت مسلح تنظیموں کے ٹھکانوں پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران ہوئیں۔واضح رہے کہ باغی زیادہ تر شہری علاقوں کو چھپنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان کا کہنا تھا کہ افغان فورسز نے رواں سال کے پہلے6ماہ میں 413اور عالمی فورسز نے314شہریوں کو ہلاک کیا جس کی کل تعداد 717ہے، اس کے بر عکس طالبان، داعش اور دیگر مسلح تنظیموں نے اتنے ہی عرصے کے دوران531شہری ہلاک کیا۔ان کا کہنا تھا کہ300سے زائد افراد کو طالبان نے براہ راست نشانہ بنایا تھا، طالبان کی جانب سے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر حملے کیے جاتے ہیں جن میں زیادہ تر سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔طالبان نے امریکا سے18سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے باوجود بھی جنگ بندی کو مسترد کردیا ہے جبکہ داعش بھی سیکیورٹی فورسز سمیت افغانستان میں اہل تشیع برادری کو نشانہ بنارہی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ پر کابل حکومت، افغان فوج یا عالمی فورسز کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔خیال رہے کہ امریکا نے2014میں افغانستان میں اپنے کمبیٹ مشن کا خاتمہ کردیا تھا تاہم وہ اب بھی مقامی فورسز کو مسلح گروہوں سے لڑنے کے لیے فضائی سمیت دیگر تعاون فراہم کر رہی ہے۔رپورٹ شائع کرنے والے اقوام متحدہ کے معاون برائے افغانستان کے انسانی حقوق کے سربراہ رچرڈ بینیٹ کا کہنا تھا کہ 'تنازع پر ہر جانب سے الگ وضاحت ملے گی کیونکہ ہر کوئی اپنی فوجی حکمت عملی کو بہتر ثابت کرے گا'۔ان کا کہنا تھا کہ عام افغانیوں کے لیے صورتحال کو عالمی انسانی حقوق کے قوانین پر عمل کرنے کے علاوہ وہاں جاری لڑائی کو کم کرکے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی تعداد میں جنوری سے جون 2019کے درمیان گزشتہ سال کے اس ہی عرصے کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہر3میں سے ایک ہلاکت زمینی لڑائی کی وجہ سے ہوئی اور پانچواں حصہ سڑک کنارے بموں کی وجہ سے پیش آیا، فضائی آپریشنز سے14فیصد ہلاکتیں ہوئیں۔

ہلاک

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...