وی سی گومل یونیورسٹی چوہدری سرور کی مدت ملازمت میں توسیع مستحسن اقدام ہے،یونیورسٹی ایسوسی ایشنز

وی سی گومل یونیورسٹی چوہدری سرور کی مدت ملازمت میں توسیع مستحسن اقدام ...

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)گومل یونیورسٹی اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور گومل یونیورسٹی آفیسر ایسوسی ایشن اور جملہ ملازمین نے گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان'وزیراعلیٰ محمود خان ، سیکرٹری ایچ ای ڈی اور دیگر تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا۔جنہوں نے چوہدری محمد سرور کی تین سالہ خدمات کے صلے میں ان کو مزید مدت کیلئے توسیع دی۔ واضح رہے کہ وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے تین سالہ پہلے جب وائس چانسلرگومل یونیورسٹی کی پوزیشن کو سنبھالا تو یونیورسٹی میں نہ تو ملازمین کی تنخواہیں تھیں 'نہ ان کو دینے کے لاﺅنسز ،نہ پنشنرز کی پنشن، اور نہ ہی کوئی پراجیکٹ اور طلباءکی تعداد بھی چار ہزار تک محدود ہو چکی تھی یونیورسٹی کا بجٹ بد ترین خسارے کا شکار تھا۔ ان تمام مسائل کو وائس چانسلرنے نہ صرف چیلنج سمجھ کر قبول کیا بلکہ آج یونیورسٹی میں طلباءکی تعداد 12ہزار سے تجاوز کر گئی تیرہ ہزار طلباءجو کہ فاصلاتی نظام تعلیم میں ہیں اس کے علاوہ ہیں، یونیورسٹی میں کروڑوں روپے کا ترقی پراجیکٹ مکمل ہونے کے مراحل میں ہے اور ہمارے نوجوان اساتذہ کروڑوں روپے کے ریسرچ پراجیکیٹس مقابلے میں جیت کر لے آئے ہیں جو کہ پاکستان کی ٹاپ کی تین یونیورسٹیوں کے برابر ہے۔ یونیورسٹی میں سونامی پراجیکٹ کے تحت پلانٹیشن ہو یا زیتون اور مختلف اقسام کے پھلوں کے باغ ہوں جس سے اربوںروپے کی آمدنی اگلے تین سالوں میں متوقع ہے یونیورسٹی میں لگا یا چکے ہیں' وائس چانسلر کی کاوشوں سے وائلڈ لائف پارک کا قیام'آم+لیموں+جامن اور امرودکا 350کنال کا باغ'بوٹینیکل گارڈن کا بنانا'تمام یونیورسٹی میں پکے نالے اور مین گیٹ پر بیوٹیفیکیشن کروانابھی وائس چانسلر کی کاوشوں کی مرہون منت ہے ۔وائس چانسلر کا ایک اور اہم ترین اقدام سات نئے انسٹیٹیوشنز اورسات نئے ڈیپارٹمنٹس کا قیام اور اجرائ'چارنئے ڈیپارٹمنٹس جس میں پشتو،سرائیکی، انیٹرنیشنل ریلیشن، اور پاکستان سٹڈیز کا قیام بھی شامل ہے۔ 1992کے بعد یونیورسٹی کیلئے سٹچیوٹس کو گورنر سے منظور کروانا، سمسٹر اور امتحانات رولز کو باڈیز سے منظور کروا کر ان کے مرہون منت ہے۔پوری یونیورسٹی کا محفوظ سیکیورٹی دینے کیلئے ایک گیٹ پر کر دیا ہے اور ٹانک کیمپس جو کہ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویڑن کا حصہ ہے اس پسماندہ ضلع میں ٹانک کیمپس نہ صرف شروع کیا بلکہ دوپچھلے دو سالوں میں کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔پاک آرمی کے تعاون سے نہ صرف مختلف سیمینار کروائے گئے۔ بلکہ سٹیٹ آف دی آر ٹ جم ، بین الاقوامی معیار کا سپورٹس کمپلیکس، سیکیورٹی کیلئے اسلحہ اور بسوں کی مرمت بھی کروانے میںکامیاب ہوچکے ہیں۔ جس پر ہم پاک آرمی کے بھی بہت مشکور اور شکر گزار ہیں۔ یونیورسٹی میں ملازمین سے لے کر اساتذہ تک کو قانون اور ضابطہ کا پابند بنایا گیا اور بائیومیٹرک سسٹم کو متعارف کروایا گیا۔ جنسی ہراساں کے کیسوں سے لے کر غیر حاضری تک اور غیر حاضری سے لے کرکرپشن تک میں ملوث اہلکاروںکو سخت سے سخت سزائیں دلوائی گئیں۔ گورنر کے 10نکاتی ڈائریکٹو کو سنڈیکیٹ سے اس کی اصل شکل میں لاگو کروایا گیا۔ طلباءکیلئے تمام رولز ریگولیشن اور رہائش کو آسان بنایاگیا۔فی میل طلباءکیلئے علیحدہ جم پاک آرمی کے تعاون سے بنایا گیا۔یونیورسٹی میں جنسی ہراساں کیس کی بیخ کنی کی گئی۔ ہم امید کرتے ہیں اگر صوبائی حکومت ،ملکی اداروں کا تعاون وائس چانسلر کیساتھ شامل حال رہا تو انشاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ گومل یونیورسٹی کا شمار پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہو گا اور ہر پروفیسر کے پاس ذاتی کروڑوں روپے کے پراجیکیٹس ہوں گے اور آئندہ تین سالوں میں طلبائ کی یہ تعداد 25ہزار تک تجاوز ہو جائیگی اور وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر سرور کی سوچ کے مطابق شیخ بدین کی پہاڑیوں میں سمر کیمپ اور کوٹلہ جام بھکر میں یونیورسٹی کا ایک اور کیمپس ہو گا اور پاک آرمی کے تعاون سے گومل یونیورسٹی کا ایک کیمپس وانا میں بھی تعمیر کیا جائے گا۔ ایک دفعہ پھر گومل یونیورسٹی کے ملازمین ، افسران اور اساتذہ صوبائی حکومت ، گورنر خیبرپختونخوا ، وزیراعلیٰ اور دیگر اداروں کے مشکور ہیں کہ انہوں نے یونیورسٹی کو ایک نئے جذبے کے ساتھ ایک نئی روح پھونکی۔

گومل یونیورسٹی

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...