یکساں نظامِ تعلیم، گاؤں کا سکول یا ایچی سن

یکساں نظامِ تعلیم، گاؤں کا سکول یا ایچی سن
یکساں نظامِ تعلیم، گاؤں کا سکول یا ایچی سن

  


تعلیمی انصاف کی بات ایک مدت سے سن رہا ہوں۔ یہ بات کہ سب کیلئے تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع ہونے چاہئیں۔اور سب کو ایک جیسی تعلیم ملنی چاہیے۔ ویسے تو آج تک اس بات پر عمل نہیں ہو سکا اور یہ ایک نعرہ ہی بن کر رہ گیا ہے۔ جتنی بھی حکومتیں گزری ہیں ان کی سنجیدگی اتنی رہی ہے کہ وہ اسکا کوئی واضح نقشہ بھی نہیں دے پائیں۔ ممکن ہے کہ رواں حکمران ہی کچھ کر گزریں۔ یہ نعرہ لگادینا تو بہت ہی آسان ہے اور ہمارے ملک میں نعرے لگانا اس لیے بھی بہت آسان ہے کہ عوام جان رہے ہوتے ہیں کہ یہ محض نعرہ ہے ابھی رات جاتی ہے کہ بات ہوا ہو جائے گی۔ اسلیے وہ بھی ایسے تمام نعروں کو تفنن طبع کیلئے ہی لیتے ہیں اور بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہوتے۔ اور نعرہ لگانے والے کو عوام کی اس خوش طبعی کا علم ہے کہ کسی بھی طرح کی باز پرس کا کوئی امکان نہیں۔ سو ہر طرح کے نعرے بے دھڑک لگائے جاتے ہیں۔

ابھی تک حکومت عمران کا یکساں تعلیم کے کہنہ نعرے کو تعبیر دینے کا کوئی عمل تو کجا کوئی منصوبہ بھی میرے علم میں نہیں آیا۔ لیکن میں امید کرتا ہوں کہ اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی پیش رفت ضرور ہوگی۔

اب جو بات سوچنے اور کرنے کی ہے وہ اس یکسانیت یا برابری کی ہے جو لائی جائے گی۔ پاکستان میں تعلیم دو واضح دھاروں میں تقسیم ہے۔ ایک مذہبی تعلیم یا مدارس کا دھارا اور دوسرا دنیوی تعلیم یا سکولوں کا دھارا، مدارس تقریباً ایک ہی طرح کے ہیں۔ مسالک کے فرق کی وجہ سے نصاب میں یا کسی کتاب کے مندرجات میں کچھ فرق ہو سکتا ہے مگر نظام عموماً ایک جیسا ہے۔ جبکہ سکولوں میں نصاب سے لیکر نظام تک بہت سی درجہ بندیاں ہیں۔اور یہ درجہ بندیاں معاشرے کے معاشی طبقات پر مشتمل ہیں۔ مفت تعلیم اور مفت کتاب کے سرکاری سکول سے لے کر تین سو روپے ماہانہ کے نجی سکول اور پھر تین سو روپے ماہانہ فیس کے نجی سکول سے شروع ہو کر پچاس ہزار روپے ماہانہ فیس کے نجی سکول۔

عموماً جب یکساں نظامِ تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو نصابِ ہی ہدف سمجھا جاتا ہے۔یعنی یکساں نصاب پر بات ہوتی ہے۔ نصاب کا تفاوت بنیادی طورسکولوں اور مدارس کے بیچ ہے۔ مدارس کے طلبا عصری تعلیم سے دور ہیں جبکہ سکولوں کے طلبا بنیادی مذہبی تعلیم ایک بڑی حد تک اسلامیات کی کتاب کی صورت میں ابتدائی بارہ سال لازمی مضمون کے طور پر پڑھتے ہیں۔ اب مدارس کے طلباکیلئے انگریزی ،حساب اور سائنس کے مضامیں کو ابتدائی طور پر پڑھنا لازم قرار دیا جا ر ہا ہے جیسا کہ وزیر تعلیم شفقت محمود صاحب نے چند روز پہلے اسکا اعلان فرمایا ہے۔ یہ مدارس میں اصلاحات کی ابتدا ہے۔ مدارس میں بہت سی اور اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اس موضوع پر الگ سے لکھوںگا۔ انشاءاللہ۔

اب میں سکولوں کے حوالے سے یکساں نظامِ تعلیم کے نعرے کی بات کرتا ہوں جو وقتاً فوقتاً حکومتوں یا اپوزیشن کی طرف سے لگایا جاتا ہے۔ یہ نعرہ کبھی تو نظامِ تعلیم کی یکسانیت کا ہوتا ہے اور کبھی نصاب کی۔ میری رائے میں سکولوں کی حد تک یہ مسئلہ نصابِ تعلیم کا نہیں ہے بلکہ نظام تعلیم کا ہے۔ نظامِ تعلیم کو چار حصوں میں تقسیم کر لیں تو بات سمجھنے میں آسانی ہو سکتی ہے نمبر 1 نصاب نمبر2 نظام نمبر 3ماحول نمبر 4 امتحان۔

سب سے پہلے ہم نصاب کی بات کرتے ہیں۔ نصاب کیسا ہونا چاہیے ، یہ اس وقت ہمارا موضوع بحث نہیں ہے۔لیکن ایک جملے میں اگر بیان کیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ نصاب اپنے مذہب اور معاشرت کو مد نظر رکھتے ہوئے دنیا کے جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ یکساں نظامِ تعلیم کی بحث میں اگر نصاب کی بات کروں تو بلا تامل یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو نصاب اور نصابی کتب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے تیار کی ہیں وہ کسی بھی بین الاقوامی معیار پر پورا اترتی ہیں ماسوائے انگلش کے۔ موازنہ بھی تو ہم سائنس ،حساب ،جغرافیہ اور انگلش کا ہی کر سکتے ہیں۔ کسی اچھے سے اچھے یا مہنگے سے مہنگے سکول میں جو نصاب ریاضی اور سائنس کا پڑھایا جا رہا ہے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابیں معیار میں ان سے کسی طور کم نہیں ہیں۔ انگلش کا نصاب بھی کچھ ایسا برا نہیں ہے ، تاہم اسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ مشورہ بھی ابھی دیا جا سکتا ہے کہ ہر مضمون کی ایک کمیٹی بین الاقوامی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والی ہونی چاہیے جو فعال ہو اور نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کیلے تجاویز دیتی رہے۔

میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ تعلیمی نظام کو یکساں کرنے کیلئے نصاب مسئلہ نہیں ہے۔ یعنی “ طبقاتی نظامِ تعلیم کی وجہ موجودہ دور میں نصاب نہیں ہے۔

اب ہم آتے ہیں طریقہ تعلیم اور ماحول کی طرف۔طریقہ تعلیم سے مراد ہے کہ جو نصاب منتخب یا تیار کیا گیا ہے اس کی تعلیم کیسے دینی ہے؟ اسے طلبا تک کیسے پہچانا ہے ؟ نصاب کے متعین احداف کو کیسے حاصل کرنا ہے ؟۔ اور یہیں سے ہی نظام تعلیم طبقات میں تقسیم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جیسا میں نے پہلے ذکر کیا کہ تین سو روپے ماہانہ فیس سے لیکر پچاس ہزار روپے ماہانہ تک کے نجی سکول موجود ہیں۔ طریقہ تعلیم اور ماحول کا فرق فیس کے فرق سے براِہِ راست جڑا ہوا ہے۔ موضوع تفصیل طلب ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ بہت اختصار کے ساتھ بات سمجھی جا سکے۔

نصاب کے اہداف حاصل کرنے یعنی طریقہ تعلیم میں سب سے پہلا کردار استاد کا ہے۔ استاد کی تعلیمی اہلیت اپنی جگہ اہم ہے مگر اس سے بھی زیادہ اہم اسکی شخصیت ہے۔ یہ امر بہت اہم ہے کہ اس نے تعلیم کہاں سے اور کس ماحول میں حاصل کی ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ کچھ عرصہ سے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی ایک قابلِ قدر تعداد ایم فل بلکہ پی ایچ ڈی ہے۔ مگر ان سکولوں کا ماحول نہیں بدل سکا۔ طلباءکی عزتِ نفس عموماً داو¿ پر لگی رہتی ہے۔ اساتذہ کی گفتگو کا معیار بھی عموماً اطمینان بخش نہیں ہوتا۔ اور اسکا اثر براہِ راست طلباءکی شخصیت پر پڑتا ہے۔ اسی طرح لباس اور نشست و برخواست کا ذوق بھی طلبا کو متاثر کرتا ہے۔ اساتذہ کا یہ تعلیمی معیار کسی حد تک سرکاری سکولوں میں میسر ہے مگر تربیت کا فقدان ہے۔ نجی شعبہ کے نچلی سطح کے سکول بھی اس مطلوبہ تعلیم و تربیت اور شخصیت کے اساتذہ سے عموماً محروم ہیں۔ اب نظر ٹھہرتی ہے نجی شعبہ کے درمیانے اور اعلیٰ سکولوں پر۔ یہاں استاد کے لباس ، اندازِ گفتگو ، نشست و برخواست اور طور اطوار پر خصوصی نظر رکھی جاتی ہے۔ تعلیمی اور شخصی پہلوؤں کو اور اداروں کو جہاں سے تعلیم حاصل کی گئی ہو ، تعیناتی کے وقت بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اور پھر یہ سرکاری بھرتی نہیں ہے کہ جیسی بھی کارکردگی دکھائیں ، برے اخلاق کا مظاہرہ کریں ، بری زبان استعمال کریں ، بے ڈھنگ لباس پہنیں ، تنخواہ پکی ہے اور تاوقتِ ریٹائرمنٹ پکی ہے۔ ان نجی سکولوں میں تو آپ کسی بھی معیار سے نیچے گریں ، ایک آدھ وارننگ کے بعد کام سے فارغ۔ تنخواہ تو سرکاری سکولوں میں بھی اچھی ہے مگر ان اوپر والے نجی سکولوں میں بہت اچھی ہے۔

پڑھانے کا جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے اس میں جو سرکاری یا نچلی سطح کے نجی سکول ہیں وہاں بہترین استاد وہ ہے جو بچوں کو محنت سے یعنی جان مار کے موضوع کو سمجھانے کی کوشش کرے۔ یہ ہم بہ خوبی جانتے ہیں کہ ایسے استاد تعداد میں کتنے ہوتے ہیں۔ اسکے بعد بچے کو پڑھائے گئے اور عموماً لکھوائے گئے جوابات کو گھر سے صاف کاپی ہر لکھ کر لانا اور انہیں یاد کرکے آنا ہوتا ہے۔ سوال بھی مخصوص اور جواب بھی مخصوص۔ یہاں پر اعلی سطح کے نجی سکول ایک بار پھر سبقت لے جاتے ہیں۔ ان سکولوں میں کسی بھی موضوع کو بچوں کے ذہنوں پر واضح کیا جاتا ہے اور پھر اسکو یقینی بنانے کیلئے ورک شیٹس دی جاتی ہیں۔ یہ ورک شیٹس اسی موضوع کے متعلق ہوتی ہیں مگر مندرجات کلاس میں سکھائے گئے مندرجات سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس طرح بچے کو اپنا ذہن استعمال کرنا پڑتا ہے اور وہ ان دیکھے سوالات کو حل کرنے یا جواب دینے کے قابل ہو جاتا ہے اور موضوع پر اسکی گرفت بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔ یہی رٹے اور تخلیقی کاوش کا فرق ہے۔ اور یہی فرق بچے کو پر اعتماد بناتا ہے۔ اپنا ذہن استعمال کرنا سکھاتا ہے۔ اس طریقہ کو اپنانے کےلئے پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ اوپری درجے کے نجی سکولوں میں ایسی ورک شیٹس تیار کرنے کے لیے الگ سے سٹاف ہوتا ہے۔ اور یہ ورک شیٹس سال بہ سال بدلتی رہتی ہیں۔ اب تو یہ سکول اس طرح کی مشقیں اپنے طلباءکو انٹر نیٹ پر مہیا کرتے ہیں جو مذید دلچسپ اور تخلیقی ہے۔ بچے بہت شوق سے یہ مشقیں کرتے ہیں کیونکہ نمبر دے کر ، شاباش دے کر اور کجھ کھیلنے کو دے کر سسٹم انکی دلچسپی اور توجہ کو قائم رکھتا ہے۔ اس نظام پر بھی اچھی رقم مسقلاً خرچ ہوتی رہتی ہے۔

بچے کا ماحول جس میں وہ تعلیم حاصل کرتا ہے اسکے اعتماد اورشخصیت کی بنتی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سکول کی عمارت کی وسعت ، خوبصورتی اور صفائی کمرہ جماعت کی صفائی اور فرنیچر کا معیار ، اساتذہ کی شخصیت اور طلباءسے انکا برتاؤ۔ سکول میں ملنے والی سہولیات مثلاً پینے کا پانی ، صاف ستھرے ٹوائلٹس ، ملٹی میڈیا ہال ، جمناسٹک کا بندوبست ، آڈیٹوریم ، مختلف کھیلوں کی سہولیات، لائیبریری ، لیبارٹری ، کینٹین اور ریسٹ روم ، میوزک روم ، اور مسجد کی موجودگی اس کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں ، اس کے اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور سیکھنے کے جذبے کو ابھارتے ہیں۔

طریقہ تعلیم وتدریس اور ماحول پر اس قدر محنت اور اخراجات کے بعد آخری قدم ہے طلبہ میں اس نصاب کی تفہیم کو پرکھنا۔ یہ آخری عمل یعنی امتحان بھی اگر تخلیقی مشق کے طریقہ کار کے مطابق ہو تو یہ ایسے ہے جیسے ہم نے بہترین تصویر بنا کر بہترین چوکھٹے میں جڑ دی ہو۔ یہ امتحان بہت مفصل ہونا چاہیے ، خواہ مدارج کے اعتبار سے اسے سال میں دو یا تین حصوں میں لیا جائے یا پھر ایک ہی بار۔ اس کے لیے کیمبرج انٹر نیشنل اگزامینیشن کے پرچوں کو حدف بنایا جا سکتا ہے اور ان میں بہتری بھی لائی جا سکتی ہے۔

یکساں نظامِ تعلیم کو نافذ کرنے سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے گاؤں 16/11L کے سکول کو ایچیسن بنانا ہے یا پھر ایچیسن کو گاؤں 16/11L کا سکول !!!

مزید : بلاگ


loading...