پاکستان میں جس طرح جرگے منعقد کئے جاتے ہیں وہ آئین سے بھی متصادم ہیں،سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی

پاکستان میں جس طرح جرگے منعقد کئے جاتے ہیں وہ آئین سے بھی متصادم ہیں،سپریم ...
پاکستان میں جس طرح جرگے منعقد کئے جاتے ہیں وہ آئین سے بھی متصادم ہیں،سپریم کورٹ نے 6 ہفتوں میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیرقانونی جرگوں سے متعلق کیس میں چاروں صوبائی اورگلگت بلتستان حکومت سے جرگوں سے متعلق پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستان میں جس طرح جرگے منعقد کئے جاتے ہیں وہ آئین سے بھی متصادم ہیں، حکومت پاکستان کے جوعالمی معاہدے ہیں ان کے مطابق جرگے غیرقانونی ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں غیرقانونی جرگوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،قائم مقام چیف جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی،ایڈووکیٹ جنرہ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں غیرقانونی جرگے کا کوئی کیس نہیں ہے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کبھی کبھی پنجاب سے بھی جرگے کے کیس آجاتے ہیں، جرگے اور پنچائتیں آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام نہیں کرتے، عدالت کی ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے،عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستان میں جس طرح جرگے منعقد کئے جاتے ہیں وہ آئین سے بھی متصادم ہیں، حکومت پاکستان کے جوعالمی معاہدے ہیں ان کےمطابق جرگے غیرقانونی ہیں۔عدالت نے چاروں صوبائی اورگلگت بلتستان حکومت سے جرگوں سے متعلق پیشرفت رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ چاروں صوبے اورجی بی حکومت 6 ہفتوں میں پیشرفت رپورٹ پیش کریں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...