اگر مسلمان مغربی ممالک میں یہ کام کریں تو لوگ انہیں زیادہ اچھا سمجھیں گے۔۔۔ سائنسدانوں نے آخر کار تعصب کا حل ڈھونڈ نکالا

اگر مسلمان مغربی ممالک میں یہ کام کریں تو لوگ انہیں زیادہ اچھا سمجھیں گے۔۔۔ ...
اگر مسلمان مغربی ممالک میں یہ کام کریں تو لوگ انہیں زیادہ اچھا سمجھیں گے۔۔۔ سائنسدانوں نے آخر کار تعصب کا حل ڈھونڈ نکالا

  


برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) حالیہ سالوں میں مشرق وسطیٰ میں بدامنی کی جو لہر اٹھی اس کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں ان ممالک کے پناہ گزینوں نے یورپی ممالک کا رخ کیا۔ صرف ایک جرمنی میں 15لاکھ سے زائد پناہ گزین پہنچے۔ پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد آنے پر یورپی ممالک کے مقامی باشندوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور ان پناہ گزینوں کے خلاف منافرت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ تاہم اب ایک سماجی تجربے (Social experiment)میں کچھ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں کہ اس منافرت پر قابو پانے کا ایک طریقہ بھی مل گیا ہے۔ ویب سائٹ inverse.com کے مطابق یہ تجربہ جرمنی کے مختلف شہروں کے ریلوے سٹیشنز پر 7ہزار 142افراد پر کیا گیا۔

اس تجربے میں ایک خاتون مختلف روپ دھار کر کسی ریلوے سٹیشن پر جاتی اور وہاں اپنا مالٹوں سے بھرا بیگ اس طرح الٹا دیتی جیسے اس کے ہاتھ سے گر گیا ہو او رپھر وہ خاتون اور کچھ فاصلے پر موجود ماہرین بغور مشاہدہ کرتے کہ اس خاتون کی مدد کے حوالے سے جرمن شہری کیا رویہ اپناتے ہیں۔ یہ خاتون کبھی حجاب پہنے مسلمان پناہ گزین بن کر جاتی، کبھی حجاب کے بغیر، کبھی حجاب کے بغیر مسیحی علامت صلیب پہن کر اور کبھی مقامی جرمن شہری کے حلیے میں ریلوے سٹیشنز پر جاتی ہے اور مالٹے گراتی۔

نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ جب اس خاتون نے مقامی جرمن بن کر یہ کام کیا تو 78.3فیصد بار اس کی مدد کی گئی اور جب یہ پناہ گزین خاتون بن کر گئی تو 71.3فیصد بار اس کی مدد کی گئی۔ اس میں ایک تجربہ یہ بھی تھا کہ یہ خاتون پناہ گزین بن کر جاتی اور اس کے ساتھ ایک مقامی جرمن شہری کے حلیے میں ایک مرد بھی موجود ہوتا جو اس کے سامنے اپنا کافی کا خالی کپ ریلوے سٹیشن پر پھینک دیتا۔ یہ خاتون اسے نصیحت کرتی کہ ہمیں اس طرح گندگی نہیں پھیلانی چاہیے، جس پر وہ مرد اپنا پھینکا ہوا کچرا اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈالتا اور وہاں سے چلا جاتا اور اس کے بعد یہ خاتون اپنے مالٹے گرا دیتی۔

نتائج کے مطابق جتنی بار اس خاتون نے اس مرد کو نصیحت کرنے کے بعد مالٹے گرائے، اس کی مدد 12فیصد زیادہ کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے پناہ گزینوں کے خلاف منافرت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر پناہ گزین اپنے ماحول کو اپنا لیں اور مقامی لوگوں کو احساس دلائیں کہ وہ ان کے ملک اور ماحول کی پروا کرتے ہیں تو ان کے خلاف منافرت میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...