جاگتے خواب ۔۔۔۔

جاگتے خواب ۔۔۔۔
جاگتے خواب ۔۔۔۔

  

پاکستان کا خواب ایک وکیل قائد اعظم محمد علی جناح نے بنایا‘قوم کو مختلف ادوار میں سیاستدانوں اور ڈکٹیٹروں نے سخت مایوس کیا بلکہ ایک ڈکٹیٹر کے دور میں پاکستان دو لخت ہو گیامگر ہم نے ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے غریب اور مفلوک الحال قوم کو بھیڑیوں کے آگے پھینک رکھا ہے جو بے دردی کے ساتھ انکا ماس نوچ رے ہیں غریب آدمی ایک آزاد ملک میں شوگر‘ آٹا‘ پیٹرول‘ پیاز‘ ٹماٹر مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے بیچارا غریب جس کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوا کی سزا نہ صرف وہ خود بھگت رہا ہے بلکہ اسکی آنے والی نسلیں بھی خود اسکے جرم کی سا پوری کریں گی.

پرائیویٹ تعلیم مافیا نے علم برائے فروخت لگا رکھے ہیں اب تو صورتحال یہ ہے کہ ماسٹرڈگری ہولڈر چنگ چی چلانے پر مجبور ہیں تاکہ پیٹ کے دوذخ کی آگ ٹھنڈی کر سکیں ہم وکلاء حضرات جو اپنے تارکین وطن بھائیوں کی امداد کے لیے قانونی جنگ لڑتے ہیں اکثر اپنے تارکین وطن نوجوانوں کی روداد سن کر غمزدہ ہو جاتے ہیں کس طرح بیچارے زندگی خطرے میں ڈال کر ان ممالک میں پناہ کے لیے آتے ہیں یا پھر قانونی طریقے سے اپنے والدین کی جمع پونجی فروخت کر کے اعلی تعلیم کے لیے یورپ یا برطانیہ پہنچے اس وقت تو یہ سلسلہ بند پڑا ہے.

باور کیا جا رہاہے کہ برطانیہ بریگزٹ کے مکمل نفاذ کے بعد دولت مشترکہ کے ممالک کے عوام کیلئے تعلیمی اداروں کے دروازے کھول دیگابرطانیہ کی معیشت کورونا وائرس کی وجہ سے تین صدیاں پیچھے چلی گئی ہے مگر یہ ممالک سنبھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر پاکستان کا کوئی تھنک ٹینک نہیں جو ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے سو سالہ منصوبے تشکیل دیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی طبقہ صرف آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے پاکستان سے بعد میں آزاد ہونیوالے ممالک وطن عزیز سے زیادہ ترقی اور معیشت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر پاکستان کی معیشت دن بدن کمزور اور عوام مایوسی کا شکار ہیں.

اب تو صورتحال یہ ہے کہ دور دور تک عوام کو روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی مگر اسکے باوجود پاکستانی عوام بدترین حالات میں بہترین کی امید اس لیے قائم رکھے ہوئے ہیں کہ خداوند کریم نے قران پاک میں اللہ کی رحمت سے مایوسی کو گناہ قرار دیا ہے دو سال قبل موجودہ حکومت کو اسٹیک ہولڈرز برسر اقتدار لائے تو تبدیلی کے دلکش نعرہ کو واقعی عوام میں بے حد پزیرائی حاصل ہوئی حتی کہ کروڑوں نوکریاں‘ روپے کی قدر میں اضافہ‘ کوئی بے گھرنہ رہے گا‘ بجلی برآمدکی جائے گی‘ ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کا رجحان کو ختم کر کے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کر دیا جائیگا حتی کہ بیرون ملک مقیم تارکین وطن ہر آسائش زندگی اور کاروبار کو چھوڑ کر پاکستان جانے کو ترجیح دیں گے.

تارکین وطن میں عمران خان کے نعروں کو زبردست پزیرائی حاصل ہوئی‘ پی ٹی آئی کی کامیابی اور ملک میں تبدیلی کیلئے تارکین وطن نے گراں قدر پارٹی فنڈنگ کی,اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصہ بعد ہی امیدوں کی جگہ مایوسی نے جگہ بنانا شروع کر دی سہانے سپنے دکھانے والوں نے عوام اور تارکین وطن کو امیدوں کے بلند ترین پہاڑ سے دھکا دیکر نیچے گرا دیا تبدیلی سرکار کی ٹیم میں چند نئے اور اکثر پرانے چہرے دوبارہ میوزیکل چیئر پر بیٹھنے میں کامیاب ہو گئے سب سے پہلا شکار تارکین وطن کو ہی بنایا گیا. اپنے بچوں یا دوست احباب کے لیے ایک موبائل گفٹ لے جانے پر بھی پابندی لگا دی گئی اور بھاری بھر کم ٹیکس عائد کر دیا گیا تو اندرون ملک 90فیصد غریب عوام کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا.

گزشتہ رمضان میں بھی ہمارے مسلمان بھائیوں نے بدترین مہنگائی کا سامنا کیا‘ بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود قیمتوں میں استحکام پیدا نہ کیا جا سکا‘ پوری دنیا حتی کہ یورپ میں بھی ماہ رمضان میں قیمتوں میں خصوصی کمی کی جاتی ہے مگر پاکستان میں اس بابرکت مہینے میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے ملک کو آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد کرانے کا اعلان کرنیوالوں نے ریکارڈ قرضے لیکر ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا حتی کہ وزیراعظم نے ٹی وی پر بیٹھ کر غریب عوام جو کورونا اور لاک ڈاؤن سے متاثر ہوئے ہیں کی امداد کیلئے فنڈ ریزنگ کی جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی. پیٹرول مافیا نے حکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا اور حکومت کو اس قدر مجبور کر دیا کہ اسی ماہ میں قیمتوں میں 25روپے لیٹرکا اضافہ کر دیا گیا، پیٹرول مافیا راتوں رات کروڑ پتی بن گئے،پاکستان ایک زرعی ملک اور گندم پیدا کرنیوالے ممالک میں چھٹے درجے پر ہے مگر حکومت رٹ کمزور ہونے کی وجہ سے گندم مافیا نے آٹے کی قیمتوں میں بے حد اضافہ کر کے غریب عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا۔

وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں فروخت اور وزیر اعظم ہاؤ س کو یونیورسٹی کا درجہ دینے والوں کی حکومت میں چینی مافیا نے پہلے چینی ایکسپورٹ کی اور قیمتوں میں بے حد اضافہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تاحال کسی مافیا کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی وزیراعظم کے دست راست جہانگیر ترین جو شوگر مافیا کے سرغنہ قرار دیے گئے ہیں ان دنوں برطانیہ میں آرام کر رہے ہیں اور بعض مافیا کے اراکین اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ماضی میں عمران خان جنہیں سب سے بڑا چور قرار دیتے تھے کے سہارے انکی حکومت قائم ہے قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا پاکستان کی قومی ائیر لائن کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی‘ وزیر ہوابازی ملک کو بدنامی سے بچانے کے لیے اندرونی طو رپر احتساب کا سلسلہ شرو ع کر سکتے تھے مگر جعلی لائسنس ہولڈروں کا انکشاف کر کے پوری دنیا میں تارکین وطن کو شرمندگی سے دوچار کر دیا گیا۔

غیر ملکی پاکستانی تارکین وطن کو طعنہ زنی کرے ہیں تارکین وطن ہر منفی بات کو برداشت کر سکتے ہیں مگر پاکستان پر حرف نہیں آنے دیتے مگر جب اپنے ہی نشیمن پر بجلیاں گرائیں تو ہم قومی مفاد اور عزت کا کیسے تحفظ کر سکتے ہیں ماسوائے شرمندگی کے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچا‘ کورونا کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونیوالوں میں تارکین وطن ہی ہیں جن سے انکا رروزگار چھن گیا‘ انکے بیوی‘ بچے اور عزیز واقارب کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں وزیر ہوا بازی نے جہاں پی آئی اے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر تارکین وطن کو براہ راست وطن جانے کی سہولت سے محروم کر دیا ہے وہاں اندرونی طو رپر پاکستان کے ہر ادارے کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے موجودہ برسر اقتدار پارٹی نے دو سال کے دوران پاکستان کو جس قدر نقصان پہنچایا اتنا شاید ہی کسی نے پہنچایا ہو۔

موجودہ پاکستان سے بہتر تو پہلے کا پاکستان تھا‘اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت ملک میں تبدیلی لانے میں کامیاب رہی ہے مگر یہ تبدیلی مثبت نہیں بلکہ منفی طو رپر مسلط کی گئی ہے مہنگائی کا جن بے قابو‘ اور معیشت زوال پذیر ہے نادیدہ قوتیں جو تبدیلی سرکار کو برسراقتدار لیکر آئیں اب انکا ضمیر بھی ضرور ملامت کرتا ہوگا پاکستانی قوم کو ڈکٹیٹروں‘ اور سیاستدانوں دونوں نے مایوس کیا اعلی تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کیلئے دھکے کھاتے نظر آ تے ہیں یا پھر ڈنکی لگا کر یورپ میں اپنا رزق تلاش کرنے کیلئے اپنی جان کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں سردست ایک بھی ایسا تارکین وطن سامنے نہیں آیا جس نے پاکستان میں خوشحالی دیکھ کر پردیس کو خیر آباد کہا ہو‘ ان سطور میں پاکستان کے اسٹیک ہولڈروں اور پالیسی ساز اداروں سے کسی سیاسی وابستگی کے بغیر تبدیلی سرکار سے قبل اور بعد میں پیدا ہونیوالے ناگوار حالات کا جائزہ لینے کی تارکین وطن اپیل کر رہے ہیں کیونکہ جو دو سال میں پاکستان کیلئے کچھ نہیں کر سکتے وہ آئنڈہ کیا کریں گے ایسا نہ ہو کہ کہیں واپسی کا راستہ بھی بند ہو جائے اور ایک خونی انقلاب پاکستان کے دروازے پر دستک دے دے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -