احتساب کی قربانی

احتساب کی قربانی
 احتساب کی قربانی

  

قربانی کا لغوی معنی، قریب ہونا اور قرب حاصل کرناہے، آدمی قربانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا اُسے راضی کرنے کے لئے جانور قربان کرتا ہے اِس لئے اس کو قربانی کہتے ہیں۔ عیدالاضحی مسلمانوں کا وہ عظیم مذہبی تہوار ہے جو سنت ِ ابراہیمی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اُمت مسلمہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے جذبہ اطاعت خداوندی کی یاد اور راہِ خدا میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے عزم و حوصلہ کا اعادہ کرتے ہوئے مناتی ہے۔ دُنیا بھر کے مسلمان 10ذوالحج کے دن بارگاہِ الٰہی میں قربانی کے جانور ذبح کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے، جس طرح پہلی اُمتوں پر روزے فرض کئے گئے اسی طرح پہلی اُمتیں قربانی بھی کرتی تھیں، اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو آزماتا ہے، انبیاء کرام کو بھی آزمایا گیا اسی طرح خالق حقیقی نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی متعدد مرتبہ آزمایا، کبھی دین ِ حق کی اشاعت و تبلیغ کے ذریعے، کبھی اسی آتش ِ نمرود اور کبھی فرعون وقت سے اور کبھی بیوی اور بیٹے کی جدائی کی صورت میں اور سب سے بڑی آزمائش اپنے لخت ِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی صورت میں۔

سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ بہت ایمان افروز ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے خواب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کمال فرمانبرداری سے سر تسلیم خم کر دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کی گردن پر چھری چلا دی، اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی قبول کرتے ہوئے ان کی جگہ دنبہ ذبح کر کے رہتی دُنیا تک کے لئے بیٹے کے عوض ایک بڑی عظیم قربانی کی روایت تا قیامت قائم کر دی، مسلمان اسی سنت پر عمل کرنے کے لئے آج سعودی عرب،عرب امارات، امریکہ، یورپ، جبکہ کل وطن ِ عزیز پاکستان میں جانور قربان کر کے وفاداری اور جانثاری کے اس عظیم الشان واقع کی یاد تازہ کریں گے۔ کفارِ مکہ اشاعت اسلام سے قبل بتوں کے نام کی قربانی کیا کرتے تھے۔ اسلام نے سختی سے منع فرما دیا اور قرآن عظیم الشان کے ذریعے اُمت مسلمہ کے لئے واضح لائحہ عمل دے دیا، قربانی صرف اللہ کے لئے ہے جیسا کہ قرآنِ عظیم الشان میں ہے ”کہہ دو بیشک میری نماز اور میری قربانی میرا جینا میرا مرنا اللہ کے لئے ہی ہے، جو سارے جہاں کا پالنے والا ہے، قربانی کا فلسفہ سو فیصد توحید کا درس ہے۔

موجودہ قربانی کی عید کورونا کی وجہ سے بڑی ہی مشکل حالات میں آ رہی ہے،مشکل حالات میں اللہ اور اس کے رسول ؐنے اُمت مسلمہ کی رہنمائی فرمائی قربانی ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 10ہجری 632عیسوی میں میدانِ عرفات میں اپنے آخری خطبہ حج کے ذریعے زندگی گزارے کے اصول اور رضائے الٰہی کا طریقہ تک سمجھا دیا ہے۔ فرمایا لوگوں کے مال اور امانتیں ان کو واپس کر دو، کسی کو تنگ نہ کرو،کسی کا نقصان نہ کرو۔ تاکہ تم بھی محفوظ رہو، کسی کو تنگ نہ کرو کسی کا نقصان نہ کرو، تاکہ تم بھی محفوظ رہو۔ نبی ئ مہربان نے دو ٹوک انداز میں فرمایا ہے اللہ نے سود کو ختم کر دیا اس لئے آج سے سارا سود ختم کر دو(معاف کر دو) تم عورتوں پر حق رکھتے ہو اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں، جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو،کیونکہ وہ تمہارے شراکت دار اور بے لوث خدمت گزار ہیں، کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔ فرمایا:اے اللہ لوگو! میری بات غور سے سنو اللہ کی عبادت کرو، پانچ نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، زکوٰۃ ادا کرتے رہو، استطاعت ہو تو حج کرو۔

پھر فرمایا: زبان کی بنیاد پر رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا، کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔ برتری صرف تقویٰ کی وجہ سے ہے، آخر میں فرمایا:مَیں تمہارے لئے دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت۔ اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے زندگی گزارنے کے لئے رہنمائی ملنے کے باوجود بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں، قربانی کے جانور قربان کر کے بھی اپنی جھوٹی اَنا قربان کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں،جھوٹ اور فریب کے ایسے خول اپنے اوپر چڑھا رکھے ہیں، جو قربانی کے درس کے مطابق ایثار، محبت کو عام کرنے کی بجائے نفرت کے بیج بو رہے ہیں اس تاریخی اور منفرد قربانی کی عید میں ہم جانوروں کو قربان کرنے کو ترجیح دینے کی بجائے خود احتسابی اور ایک دوسرے کے احتساب کے عمل کو قربان کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اس لئے مَیں نے کورونا کے دور کی عید کو عید ِ قربان کہنے کی بجائے احتساب کی قربانی کہوں گا،کیونکہ آخرت کو بھلا کر جس طرح ہماری سیاسی جماعتوں نے احتساب سے دور بھاگنے اور بچنے کے لئے باہمی گٹھ جوڑ کیا ہے، ایسا لگتا ہے ان کا آخرت سے بھی ایمان اُٹھ گیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے ایک ایک عمل کا کل حساب ہونے والا ہے۔

احتساب اور انصاف کے نام پر قائم ہونے والی عمران خان کی حکومت سے سو اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر بعض معاملات میں وہ بڑا یکسو ہے اس نے کہا تھا کہ مَیں بڑے بڑے مگر مچھوں کو جیل میں ڈالوں گا اس نے ایسا کر کے دکھا دیا، جولائی 2018ء سے جولائی2020ء کو تحریک انصاف کے اقتدار کو کم از کم25 طرح کے بحرانوں کا سامنا رہا ہے، تاریخ میں پہلی دفعہ زرداری فیملی، خواجہ برادران، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال حمزہ شہباز، شہباز شریف سمیت درجنوں شخصیات نیب کی گرفت میں آئیں بے شمار افراد کے خلاف ریفرنس دائر نہیں ہو سکے۔

نیب پر جو سوالات جولائی2020ء میں سپریم کورٹ نے اٹھائے ہیں بنیاد خواجہ برادران کے کیس کو بنایا گیا ہے۔نیب عمران خان کی حکومت نے نہیں بنائی جنرل پرویز مشرف کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا اقتدار اسی نیب کے سہارے چلنا رہا ہے۔ سوال اٹھتا ہے سپریم کورٹ کی طرف سے نیب کے خلاف بڑے پیمانے پر تحفظات حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے بعد ہی،کیونکر سامنے آئے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے دور سے ہزاروں کیس التوا کا شکار چلے آ رہے ہیں۔سپریم کورٹ کی رنمائی بروقت قرار نہیں دی جا سکتی۔ البتہ دیر آئے درست آئے کہا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی طرف سے نیب کے خاتمے کے لئے باہم شیر و شکر ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، اندھیر نگری نہیں تو اور کیا ہے، ملزمان مبینہ کہہ لیں یا الزامات قرار دے لیں، نامزد ملزمان کی طرف سے مشترکہ کمیٹی کا قیام اور اس کمیٹی کی طرف سے نیب کے پر کاٹنے کے لئے35تجاویز پورے قوم کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، پاکستان کی کورونا کی عید قربان کو احتساب کی قربانی بنا دیا ہے، چوروں کا اتحاد قوم کو مبارک ہو۔سپریم کورٹ کو نامزد ملزمان کی طرف سے احتساب ختم کرنے کی تجاویز کا نوٹس لینا ہو گا، ورنہ ملزمان کا گٹھ جوڑ کل کو سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ترمیم بھی چاہے گا؟

مزید :

رائے -کالم -