کورونا کی نئی لہر کے خدشات

کورونا کی نئی لہر کے خدشات

  

ماہرین نے اِس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ عیدالاضحی کی چھٹیوں کے دوران لاکھوں افراد کی گھروں کو واپسی، مذہبی اجتماعات اور عزیز و اقارب سے میل ملاقاتوں کے باعث پاکستان کو کووڈ19 کی دوسری لہر کے خطرے کا سامنا ہے، جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیو ہانکے نے کہا ہے کہ عید کے موقع پر لاکھوں افراد مختلف قسم کی تقریبات میں شرکت کریں گے،جن میں فیس ماسک اور سماجی فاصلوں کا خیال نہیں رکھا جائے گا۔ بے احتیاطی پاکستان اور خطے کے لئے سنگین صورتِ حال پیدا کر سکتی ہے،اگست کے آخر میں محرم کے جلوس بھی نکلیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد میں قابل ِ ذکر کمی کی وجہ کم تعداد میں رپورٹنگ ہو سکتی ہے۔کورونا کے متعلق وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ لاپروائی کی صورت میں پہلے کی طرح کیسز کی تعداد میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پنجاب کی حکومت نے نمازِ عید اور قربانی کی ادائیگی کے لئے ایس او پیز جاری کئے ہیں،جن کے مطابق عید گاہ،مساجد اور اجتماعی قربانی کی جگہ پر تھرمل گن سے سکریننگ کی جائے گی، نمازِ عید کھلی اور ہوا دار جگہ پر ادا کی جائے اور نماز کی ادائیگی زیادہ سے زیادہ 40 منٹ میں کر لی جائے، قربانی کی جگہ ہاتھ دھونے کا اہتمام لازمی ہو،نماز کے بعد مصافحہ اور گلے ملنے سے گریز کیا جائے، سلاٹر ہاؤس میں بچوں اور بزرگوں کے داخلے پر پابندی ہو گی۔صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قوم نے مساجد میں ایس او پیز پر عمل کر کے دکھا دیا، احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے تمام امور نپٹائے جا سکتے ہیں۔ایوانِ صدر میں کورونا ہیلتھ ورکرز کے اعزاز میں تقریب میں انہوں نے فرنٹ لائن ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔پاکستان میں نئے مریضوں کی تعداد میں بڑی حد تک کمی ہو گئی ہے اور 88فیصد مریض صحت یاب بھی ہو گئے ہیں،مریضوں کی تعداد اب زیادہ سے زیادہ 30ہزار کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ یہ صورتِ حال اگرچہ حوصلہ افزا ہے،لیکن خدشہ یہ ہے کہ اگر عیدالاضحی کے ایام میں احتیاط نہ کی گئی تو تعداد بڑھ بھی سکتی ہے، اِس لئے عوام الناس کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں،آئندہ دو ہفتے اس لحاظ سے بڑے اہم ہیں اگر ان دِنوں میں احتیاط کر لی گئی تو کورونا کا پھیلاؤ رُک جائے گا،حکومت نے احتیاطی تدابیر کے طور پر مارکیٹیں اِسی لئے بند کر دی تھیں،لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ تاجروں نے اس فیصلے کا خیر مقدم نہیں کیا اور زبردستی دکانیں کھول لیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں،جس کے بعد پولیس نے نئی حکمت ِ عملی اختیار کی اور بازاروں کو جانے والے راستے بند کر دیئے۔اگر تاجر حکومت کی ہدایت پر عمل کرتے تو یہاں تک نوبت نہ آتی،لیکن جب تاجروں نے من مانی کرتے ہوئے دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا تو حکومت کو بھی اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے لئے سخت اقدامات کرنے پڑے۔

حالیہ دِنوں میں کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی رہی ہے، غالباً اس سے عوام الناس نے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ کورونا یا تو اب ختم ہو گیا ہے یا اس کا خاتمہ قریب ہے،لیکن ماہرین کے مطابق فی الحال ایسا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کورونا کہیں نہیں گیا، دُنیا کے کئی ممالک میں تو نئی لہر پہلے سے بھی زیادہ شدید ہے،اِس لئے پاکستان میں اگر کسی بھی وجہ سے مریضوں کی تعداد کم ہوئی ہے تو بھی اطمینان کے ساتھ ساتھ حفاظتی اقدامات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔اگر یہ سمجھ کر بے احتیاطی کا آغاز کر دیا گیا کہ اب وائرس ختم ہو رہا ہے تو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بھی خبردار کیا ہے کہ نئی لہر پہلے سے بھی زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔ یہ سارے انتباہات اِس امر کے متقاضی ہیں کہ جو لوگ کم کیسز پر غیر معمولی اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں وہ بھی کسی آئندہ خطرے کے لئے تیار رہیں۔

یہ درست ہے کہ اب ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کم ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں کو بھی سُکھ کا سانس لینے کا موقع میسر آ گیا ہے،ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے بیڈ خالی ہیں اور جو غیر معمولی انتظامات پیش بندی کے طور پر کئے گئے تھے اُن کی بھی اب ضرورت نہیں رہی،لیکن احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ مطمئن ہو کر نہ بیٹھاجائے، کیونکہ اچانک نئی لہر آنے کی صورت میں ایمرجنسی انتظامات کرنے میں دشواری ہو گی،اِس لئے ہنگامی طور پر جو انتظامات پہلے کئے گئے تھے اُنہیں جاری رہنا چاہئے اور جو عارضی ہسپتال بنائے گئے تھے ان کا خاتمہ بھی نہیں ہونا چاہئے، خدانخواستہ اگر اچانک مریض ہسپتالوں میں آنا شروع ہو گئے تو ان سے نپٹنا مشکل ہو جائے گا۔

ہسپتالوں کی انتظامیہ عام طور پر عیدین کے موقع پر چھٹی کے موڈ میں ہوتی ہے، ڈاکٹر بھی کم تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں،بہت سا عملہ بھی چھٹیوں کی وجہ سے رخصت پر گیا ہوتا ہے،لیکن اب کی بار چونکہ عید کی صرف تین چھٹیاں ہو رہی ہیں اور پیر سے دوبارہ دفاتر کھل جائیں گے،اِس لئے توقع ہے کہ طویل رخصت کی وجہ سے جو حالات پیدا ہو جاتے تھے اب ایسی صورت نہیں ہو گی۔ حکومت نے عید کی کم چھٹیاں بھی اسی حکمت ِ عملی کے تحت دی تھیں،لیکن اس کا فائدہ تبھی میسر ہو سکتا ہے، جب عوام الناس بھی تعاون پر آمادہ ہوں اگر لوگ اپنے آبائی گھروں کو جانے اور پھر آنے میں پبلک ٹرانسپورٹ پر رش کریں گے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔

عیدالاضحی کے بعد محرم الحرام کا مقدس مہینہ بھی شروع ہو رہا ہے اِس مہینے میں بھی مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں، احتیاط کا تقاضا ہے کہ اِس مہینے میں بھی سماجی فاصلے کا خیال رکھا جائے اور جہاں جہاں بھی اجتماعات منعقد کئے جائیں، وہاں احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، لوگ ماسک پہن کر آئیں اور ایک دوسرے سے فاصلے پر بیٹھیں، اجتماع گاہوں میں سپرے وغیرہ کا اہتمام بھی باقاعدگی کے ساتھ کیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ مہینہ بھی خیریت سے گزر جائے گا اور اجتماعات وبا کے پھیلاؤ کا باعث نہیں بنیں گے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر نے خصوصی طور پر عیدالاضحی اور محرم کے اجتماعات کا جو حوالہ دیا ہے وہ میل ملاقاتوں کے حوالے سے ہے اگر ایسے مواقع پراحتیاط ملحوظ رکھی جائے گی تو مثبت نتائج ہی برآمد ہوں گے۔ بصورتِ دیگر ہسپتالوں میں پہلے کی طرح افراتفری کا عالم ہو گا۔ ذمہ داری کے مظاہرے کا نتیجہ ہر کوئی دیکھ لے گا،جس کا مجموعی فائدہ مُلک و قوم اور معاشرے کو حاصل ہو گا، جن طبقات کی محدود فوائد پر نظر ہے وہ بھی صورتِ حال کو وسیع تر تناظر میں دیکھیں تو ان کا احسان ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -