تعمیر مندر، زنگار گوں پردے کے پیچھے کون؟

تعمیر مندر، زنگار گوں پردے کے پیچھے کون؟
تعمیر مندر، زنگار گوں پردے کے پیچھے کون؟

  

اسلام آباد میں تعمیر مندر اور شمشان گھاٹ بہت معمولی سا مسئلہ تھا جسے مقامی بلدیاتی سطح پر خاموشی سے طے کر لیا جاتا تو کوئی معاشرتی تموج نہ پیدا ہوتا۔ اب جب وزیراعظم جیسی قد آور شخصیت نے اس معمولی سے قضیے میں شامل ہوکر ذرائع ابلاغ پر یک طرفہ گفتگو شروع کر دی تو مجموعی ملکی فضاء اسے قبول کرنے سے قاصر ہے۔ چنانچہ جس کسی نے، جس لابی نے فساد پیدا کرنے کے لیے اس لٹمس ٹیسٹ کا سہارا لیا، اس کی ذہانت اور عیاری کی داد نہ دینا کم ظرفی ہوگی۔ ملک ایک گرداب سے ذرا نکلتا ہے تو ایک نیا بحران استقبال کے لیے موجود ہوتا ہے۔ قادیانی مسئلہ حل ہوئے نصف صدی ہونے کو ہے لیکن فیصلہ ساز افراد اور منتخب حکومتوں کا تیاپانچہ کرنے والے موقع کی مناسبت سے اسی مسئلے کا سہارا لیتے ہیں۔ تین سال قبل ملک خاموشی اور کسی اضطراب کے بغیر چل رہا تھا۔ اچانک ایک پالتو مذہبی گروہ کے صرف دو ہزار فسادیوں نے اسلام آباد داخلے کے مقام پر اسی قادیانی مسئلے کو ایک نئی اپچ دیکر منتخب حکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟ کیا دنیا کی کوئی اور مثال دی جاسکتی ہے کہ 22 کروڑ آبادی کی نمائندہ حکومت کو صرف دو ہزار فسادیوں نے مفلوج کر دیا ہو؟ اور جب پولیس کارروائی کرتے کرتے فسادیوں سے صرف پچاس گز کے فاصلے پر تھی تو "نامعلوم افراد" نے پولیس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ کون تھا اس پردہ زنگار گوں کے پیچھے؟

43 سال بعد صرف چند فیصلہ سازافراد نے اپنے مقدس ادارے کے سہارے طے شدہ قادیانی مسئلہ زندہ کر کے منتخب حکومت کو مفلوج تو کرا دیا لیکن قطع نظر سیاسی وابستگی کے،اس مسئلہ پر ملکی یکجہتی ہمیشہ مثالی رہی۔ دینی مذہبی، اور علمی و عوامی حلقے ہمیشہ ایک ہی نکتے کو محور بنا کر چلتے رہے تھے۔ سب کا دعویٰ یہی رہا کہ قادیانی اقلیت ہمارا متفقہ دستور تسلیم کر لے، اپنی طے شدہ دستوری حیثیت مان لے تو ہمیں اس مذہب سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔پوری قوم بار بار یہی کہتی رہی کہ دنیا آ کر دیکھ لے کہ اس ملک میں سکھ اور ہم امن اور چین کے ساتھ رہے ہیں، مسیحی آبادی کو ہم سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے، ہندو بھی ہمارے وجود کا حصہ ہیں،یہ تمام اقلیتی مذاہبِ اپنے گرجوں، گردواروں اور مندروں میں جانے میں آزاد ہیں۔ مانا کہ دہشت گردی کے عرصے میں دو ایک دفعہ مسیحی آبادی کو بالخصوص نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس کا تعلق نہ تو حکومتی پالیسیوں سے تھا اور نہ پاکستانی عوام ایسی مذموم حرکتوں کی تائید کرتے ہیں۔اور یہ کہ ہمارا مسئلہ صرف قادیانی اقلیت سے ہے جو مذہبی کے ساتھ ساتھ آئینی اور دستوری بھی ہے۔ یہ لوگ ہندوؤں، سکھوں اور مسیحی آبادی کی طرح اپنی عبادت گاہیں بے شک بنائیں لیکن انہیں مسجد نہ کہیں اور نہ ہماری دینی علامات استعمال کریں تو یہ اور ہم سب مساوی ہیں۔اور یہ کہ قادیانی اسی طرح آزاد ہیں جس طرح دیگر اقلیتیں آزاد ہیں، بشرطیکہ دیگر اقلیتوں کی طرح یہ بھی ہمارے دستور کو تسلیم کرلیں۔یہ وہ متفقہ نقطہ نظر تھا جو ہر منتخب حکومت اور تمام پاکستانی عوام بڑی احتیاط،بڑے احترام اور بڑی دلجمعی سے لے کر چل رہے تھے۔ اچانک سرکاری وسائل سے مالا مال گنتی کے چند با اختیار افراد نے اربوں روپے کے خرچ سے مشرقی سرحد پر سکھوں کا ایک گردوارہ چند مہینوں کے اندر بنا ڈالا۔

تقسیم کے زخم مندمل ہو جانے کے بعد آج سکھوں کے بارے میں پاکستانی قوم کے جذبات کی تندی اور تیزی میں خاصی کمی واقع ہو چکی ہے کیونکہ آزادی کے بعد برہمن زادوں نے سکھوں کو اس بری طرح ستایا کہ اپنی عافیت کے لیے انہیں مغرب میں پاکستان ہی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ دراصل برصغیر کے جملہ مسائل کے ذمہ دار دونوں طرف کے "برہمن" ہی ہیں (کچھ سوچ بچار قارئین کے ذمے بھی تو ہے). تقسیم کے بعد سکھوں کے برعکس ہندوؤں (برہمن زادوں) کے ضمن میں پاکستانی قوم کے جذبات میں نہ صرف کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی بلکہ سقوط ڈھاکہ اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر ظلم و ستم جیسے جرائم کے ارتکاب پر مسلمانوں کے جذبات کی تندی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام کے متعلق نریندر مودی کی مذموم الفاظ پرمبنی تقاریر کے ٹکڑے ہر کسی نے سن رکھے ہوں گے۔ ان نازک حالات میں پاکستانی وزیراعظم نے اچانک ایک دن دارالحکومت کے عین وسط میں تعمیر مندر کے لیے دس کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا تو یہ اعلان حکومت کے بہت سے دیگر تازیانوں میں سے ایک تازیانہ تھا جو مہنگائی اور بے روزگاری کے شکار لوگوں کو اپنی ننگی پشت پر سہنا پڑا۔حج کو بے حد مہنگا کرنا، کرتارپورہ راہداری،کشمیری مسلمانوں کی بے چارگی، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، اور دیگر متعدد عوامل کے باعث برہمن گزیدہ پاکستانی قوم کے زخم تازہ ہو گئے۔

ان حالات میں جس کسی نے بھی مندر کا شاخسانہ کھڑا کیا، کھڑا کیا کیا مطلب، اس کے طمطراق بھرے اعلانات نے تو پاکستانی قوم کے خوابیدہ جذبات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس شخص یا ادارے نے بڑی عیاری سے پاکستانی قوم کو ایک ایسے ہیولے کے پیچھے لگا دیا جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اب جوں جوں مندر کی مخالفت بڑھے گی، آپ دیکھیں گے کہ اسی شخص یا ادارے کے عمل دخل کے باعث ذرائع ابلاغ پر پاکستان کے خلاف یہ مہم زور پکڑتی جائے گی کہ دیکھ لو، یہ قوم کل تک تو یہ کہتی تھی کہ ہمیں کسی دوسری مذہبی اقلیت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنے مندر بنانے میں آزاد ہے، مسیحی گرجا بنا سکتے ہیں، سکھ گردوارہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن دیکھ لو، اسلام آباد میں صرف ایک مندر کی تعمیر کیا شروع ہوئی،پوری قوم اس کے خلاف کھڑی ہوگئی، اورصاحب! یہ ملک تو بنا ہی بنیاد پرستی کے نام پر ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔یہ ہے وہ دو دھاری تلوار جو اس ملک کے وجود پر چلائی گئی ہے۔ یوں ایک طرف تو ہندوؤں کے مذہبی جذبات ابھارے جائیں گے تو دوسری طرف مسلمان بابری مسجد کے قضیے کا سہارا لے کر آئے دن ہندو اقلیت کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ دونوں صورتوں میں پاکستان کا وجود ہی کرچی کرچی ہو گا اور ابلیس دور کھڑا احتیاط کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لے رہا ہوگا۔

موجودہ اسلام آباد میں چار مندر اپنی تیار حالت میں موجود ہیں۔ ایک تو وہی سیدپور گاؤں میں ہے جسے قومی ورثہ قرار دیا جا چکا ہے۔ دوسرا راول ڈیم کے قریب ہے۔ اسلام آباد ہندو پنچایت کے صدر جناب مہیش کمار نے مجھے بتایا کہ یہ مندر آباد حالت میں ہے۔ اس میں لوگ آتے جاتے ہیں۔ عبادت اور پوجا پاٹ کے بارے میں خود رمیش کمار صاحب کو بھی پتا نہیں۔ ان کے بقول وہ خود اس مندر میں کبھی نہیں گئے۔تیسرا مندر گولڑہ گاؤں میں ہے۔ کس حالت میں ہے؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ چوتھے مندر کے بارے میں سنا ہے کہ وہ کری روڈ پر کسی گاؤں میں ہے۔ اگر مسلمانوں کو عبادت کے لیے مسجد درکار ہے تو ہندوؤں کا بھی یہ حق ہے کہ ان کے پاس اپنا مندر ہو۔ کیا یہ حق نیا نکور مندر بنا کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے یا موجودہ تین چار مندروں کی آرائش و مرمت سے بھی ایسا ممکن ہے؟ اور یہ کہ اگر ان مندروں کی حالت ایسی نہ ہو کہ ان میں پوجا پاٹ کی جا سکتی ہو، یا یہ کہ یہ مندر ناگفتہ بہ حالت میں ہوں تو کیا اسی رقبے میں نیا مندر تعمیر نہیں کیا جاسکتا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ میں نے ایک ذمہ دار شخص سے یہی سوال کیا تو اس کا جواب تھا کہ اس کی وجہ سکیورٹی مسائل ہیں۔ یہ سکیورٹی مسائل کی بھی خوب رہی۔ کسی شخص کو درجنوں ماہرین نفسیات متفقہ طور پر فاترالعقل قرار دے دیں تو وہ تب تک فاترالعقل نہیں کہلا سکتا جب تک عدالت فیصلہ نہ دے، حالانکہ عدالت کا تعلق علم نفسیات سے ہوتا ہی نہیں لیکن اختیار عدالت ہی کے پاس ہوتا ہے۔ ادھر سکیورٹی امور پر سکیورٹی اداروں کا فرمایا ہوا، معلوم نہیں کیوں، حرف آخر ہوا کرتا ہے۔چاہیے تو یہ کہ سیکیورٹی اداروں کے فرمان پر حکومت یا پارلیمان اس فرمان کی تصدیق یا تردید کرے۔کیا پاکستان میں ایسا ممکن ہے؟ ملک بچانا ہے تو ایسا کرنا ہی پڑے گا۔

یہ ملک ہندو مسلم سب کا ہے۔ ملکی آبادی میں افتراق کے بیچ بونے والے ہر دفعہ چند با اختیار اور باوسائل افراد ہی ہوتے ہیں۔ آگ لگا کر پھر یہ لوگ دور کھڑے موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔ 1977 کی تحریک نظام مصطفی ہو یا 1988 کا شریعت بل، یا 2017 میں فیض آباد میں فسادیوں کا دھرنا ہو، یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اور اب اسلام آباد میں تعمیر مندر کے ساتھ ساتھ محرم سے ذرا پہلے شیعہ سنی خلیج گہری کرنے والے پنجاب اسمبلی کے ایک بل کو بھی ذہن میں رکھ لیں۔جو لوگ اس حکومت کو لائے تھے، اب وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ ان کے پول ہیں کہ کھلتے جا رہے ہیں۔ پرتیں ہیں کہ الٹتی جارہی ہیں۔ سیاست دانوں کی کرپشن کے افسانوں سے بات بہت آگے جا چکی ہے۔ ہر عمل کا ردعمل ہوا کرتا ہے۔ دن رات سیاست دانوں کی کرپشن کے وظائف کرنے والوں کی اپنی ایک ایک حرکت سامنے آ رہی ہے۔ اب اپنے بچاؤ کی خاطر وہی لوگ، وہی اس حکومت کو لانے والے لوگ تعمیر مندر کا مسئلہ کھڑا کر چکے ہیں۔ شیعہ سنی خلیج گہری کرنے والے تحفظ بنیاد اسلام بل کے مصنف بھی تووہی لوگ ہیں۔ یہ بل پیش کرنے والوں کی وابستگی دیکھ لیں، ذرا ان کے ماضی پر نظر ڈال لیں. یہ لوگ کل تک کس کو دس دفعہ منتخب کروانے کی دھمکیاں دے رہے تھے؟ یہی لوگ موجودہ بل پیش کرنے اور اسے منظور کروانے والے نہیں کیا؟ بس آپ ذرا غور کر لیں،آپ کو پتا چل جائے گا کہ ان کے پیچھے، اس پردہ زنگاری کے پیچھے کون ہے۔

میں ان حالات میں اس کے سوا کوئی اور نتیجہ نکالنے سے قاصر ہوں کہ بڑھتی ہوئی ہندو آبادی کے لیے اسلام آباد میں شمشان گھاٹ ضروری ہے۔اس گھاٹ کو یا تو سائنسی انداز میں چلایا جائے، ورنہ اسے شہر سے باہر کہیں قائم کیا جائے۔ مندر کے لیے میں عرض کروں گا کہ شہر میں واقع چاروں مندر ہندو آبادی پھر سے آباد کر سکتی ہے۔ یہ اس کا حق ہے۔ رہا نئے مندر کی تعمیر پر اصرار تو یہ مطالبہ ملک میں فساد پیدا کرنے والی قوتوں کو تقویت دینے کے مترادف ہو گا۔ امید ہے ہندو آبادی اپنے ملک کی خاطر سمجھ داری سے کام لے کر نئے مندر کی تعمیر پر اصرار نہیں کرے گی۔ دوسری طرف مندر مخالف افراد سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ "لڑتے لڑتے ہو گئی گم، ایک کی چونچ اور ایک کی دم" والی کیفیت پیدا کرنے سے گریز کریں گے۔ ابھی تو ہم نے تحفظ بنیاد اسلام بل سے بھی نمٹنا ہے۔تین قسطوں پر پھیلا یہ تجزیہ میں نے اسلام آباد میں تعمیر مندر کے حوالے سے نذر قارئین کیا ہے۔ اس میں صرف اسلام آباد کے ا س مندر کا ذکر ہے جس سے بھولی بھالی معصوم ہندو آبادی کے جذبات وابستہ ہیں۔ملک میں دیگر 428 متروکہ مندروں کی مجوزہ بحالی الگ سے ایک مستقل موضوع ہے۔ اس کا ہندو آبادی سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ یہ پاکستان پر ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے مہیب سایوں کی توسیعی شکل ہے۔ اس پر ان شاء اللہ اگلی دفعہ گفتگو ہوگی(باقی آئندہ)

مزید :

رائے -کالم -