خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن کورٹس کے حوالے سے ملک کے دوسرے صوبوں پر سبقت لے گیا

  خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن کورٹس کے حوالے سے ملک کے دوسرے صوبوں پر سبقت ...

  

پشاور(نیوز رپورٹر)خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن کورٹس کے حوالے سے ملک کے دوسرے صوبوں پر سبقت لے گیا ملک میں چھ قائم پائلٹ چائلڈ کورٹس میں تین کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے جہاں 15ماہ کے عرصے میں 1125بچوں نے انصاف کیلئے ان عدالتوں سے رجوع کیا جبکہ ان عدالتوں سے رجوع کرنے کے رجحان میں بھی مسلسل اضافہ ہورہاہے پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے 16مارچ 2019کو پشاورمیں پہلے چائلڈپروٹیکشن کورٹ کاآغاز کیا نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں ملک کے ہر ضلع میں چائلڈ پروٹیکشن کورٹ کا قیام لازمی قراردیا گیااکتوبر2019میں دو اضافی پائلٹ چائلڈ کورٹس مردان اور ایبٹ آباد میں بھی قائم کیے جسکے بعد جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت پشاورہائیکورٹ اور صوبائی حکومت نے 7جوینائل جسٹس کمیٹیاں مردان، چترال، پشاور، ہری پور، ایبٹ آباد، باجوڑ اور مہمند میں قائم کیں خیبرپختونخوا میں قائم پائلٹ چائلڈ پروٹیکشن کورٹس کی کارکردگی برائے مارچ2019سے جون 2020کے مطابق 3 پائلٹ چائلڈ کورٹس کے علاوہ پاکستان میں قائم8جوینائلز جسٹس کمیٹیوں میں سات خیبرپختونخوامیں قائم ہیں جس میں ایک پشاور میں فعال ہے قومی سطح پر ان عدالتوں میں کیسز نمٹانے کی اوسط شرح 43فیصد ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ شرح 45فیصد ہے پشاورچائلڈپروٹیکشن کورٹ میں جوینائل سے متعلق مقدمات نمٹانے کی شرح 53فیصدسے زائدجبکہ مردان اور ایبٹ آباد میں بالترتیب 44.5اور36فیصد ہے صوبے کے پائلٹ چائلڈ کورٹس میں مقدمہ 99روز کے اندر نمٹایاجائیگا جبکہ قومی سطح پراوسطا128 دن میں نمٹایاجاتاہے خیبرپختونخوا کی عدالتوں سے رجوع کرنے والے 1125بچوں میں 89فیصد لڑکے جبکہ 11فیصد بچیاں شامل ہیں ذرائع کے مطابق مختلف مسائل کیوجہ سے متاثرہ بچیوں کے والدین عدالت سے رجوع نہیں کرتے تاہم ان عدالتوں پر لوگوں کا اعتماد بڑھنے سے چائلڈپروٹیکشن کورٹس میں بھی مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -