18ویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑکوتوڑنے کی سازش ہے، میاں افتخار

18ویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑکوتوڑنے کی سازش ہے، میاں افتخار

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ اسٹیبشلمنٹ قوم پر رحم کرکے انتخابات میں مداخلت سے گریز کریں اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں۔ اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ پاکستان کو توڑنے کی سازش ہے۔ملک پر دہشت گردوں کی حکومت ہے۔وہ چارسدہ میں اے این پی کے سرگرم کارکن اورٹی وی آرٹسٹ جہانگیر عادل کی وفات پر لواحقین سے اظہار تعزیت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس موقع پر پارٹی کے ضلعی صدر ایم پی اے شکیل بشیر خان عمرزئی،جنرل سیکرٹری فاروق خان،تحصیل صدر تیمور خٹک، جنرل سیکرٹری شہزاد الدین، قاسم علی خان، صمد باچا اور دیگر بھی موجود تھے۔میاں افتخار حسین نے مرحوم جہانگیر عادل کی پارٹی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جہانگیر عادل پارٹی کا قیمتی اثاثہ تھے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک پر عملا دہشت گردوں کی حکومت ہے۔عمران خان پہلے بھی دہشت گردوں کے سہولت کار تھے اور حکومت میں آنے کے بعد دہشت گردوں کے دوست بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ احسان اللہ احسان کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ احسان اللہ احسان اے پی ایس کے سینکڑوں شہداء سمیت اے این پی کے ایک ہزار کارکنوں اور ان کے اکلوتے بیٹے کے قاتل ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کلبھوشن یادیوکو ریلیف دینے کیلئے صدارتی آرڈینس پر تنقید کی اور کہا کہ رات کی تاریکی میں صدارتی ریفرنس کی بجائے حکومت پارلیمنٹ سے قانون سازی کرتی تو کوئی قیامت نہ آتا۔ حکومت پاکستان اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے معاہدوں کی پابند ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پارلیمنٹ کو بلڈوز کیا جائے۔ میاں افتخار حسین نے ملک میں از سر نو عام انتخابات کا مطالبہ کیا اور اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی کہ خدا را قوم پر رحم کرکے انتخابات میں مداخلت سے گریز کرکے عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں۔ میاں افتخار حسین نے اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے کہاکہ اٹھارویں ترمیم سے پاکستان کی سالمیت اور استحکام وابستہ ہے جو قوتیں اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ کرنا چاہتے ہے وہ دراصل پاکستان کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ قوم پر مسلط کردہ حکومت نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور بد آمنی کی وجہ سے عوام پریشان ہے مگر کپتان کو عوام کی فکر کی بجائے اپنے ارد گرد کرپٹ ٹولے کی فکر لگی ہوئی ہے۔ جہانگیر ترین کو کمیشن نے مجرم ٹھرایا مگر کپتان نے ان کو پروٹوکول میں باہر بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ کپتان پاکستان کے تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹ آدمی ہے۔ کپتان کی نگرانی میں پٹرول مافیا اور گندم، شوگر مافیا عوام کا خون چوس رہی ہے۔ نیب کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ نیب اپوزیشن کے خلاف تواتر سے مقدمات درج کر رہی ہے مگر بی آر ٹی، مالم جبہ اور بلین ٹری سونامی پر چیئر مین نیب گونگے، بہرے اور اندھے ہو چکے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -