مقبوضہ وادی میں بھارتی اقدام، عالمی اداروں کی سرزنش

مقبوضہ وادی میں بھارتی اقدام، عالمی اداروں کی سرزنش
مقبوضہ وادی میں بھارتی اقدام، عالمی اداروں کی سرزنش

  

گزشتہ برس5 اگست کو بھارت نے کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے مزید الجھاتے ہوئے اپنے ہی آئین کو یوں توڑ دیا تھا کہ لوک سبھا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی قرار داد اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا۔ اس کے بعد مقبوضہ وادی کے حالات اور بین الاقوامی برادری و اداروں کی طرف سے بھارت کو سرزنش کی گئی اور وادی کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ہربین الاقوامی فورم پر کشمیر کی بات کی گئی۔ اسی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف پاکستان نے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کو خط لکھے اور سفارتی محاذ پر تگ و دو شروع کر دی۔ اس سلسلے میں پاکستان کو سفارتی کامیابیاں ملنی شروع ہوگئیں۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے کشمیر ونگ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں پاکستان،سعودی عرب، آذربائیجان، ترکی سمیت دیگر ممبر ممالک نے شرکت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ چین بھی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی خاتمے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اوربھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کریں۔

پاکستان کی جانب سے لکھے گئے خط پر اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر 50 سال میں سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس بلالیا۔یوں پاکستان کو سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ آخری مرتبہ 1998 میں سلامتی کونسل کی قرار داد میں مسئلہ کشمیر کا ذکر ہوا تھا۔مسئلہ کشمیر دہائیوں بعد سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بحث کے لیے لایاگیا۔

گزشتہ برس اکتوبر میں جنیوا میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر 50 سے زائد ممالک کا مشترکہ اعلامیہ بھارت کے لئے آئینہ ہے جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ممالک کی طرف سے ہیومن رائٹس کونسل نے بھارت کے سامنے 5 مطالبات پیش کئے۔مشترکہ اعلامیے میں پہلا مطالبہ ہے کیا گیا تھا کہ بھارت کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے اور انہیں جینے دیا جائے۔ بھارت سے کہا گیا کہ بین الاقوامی میڈیا کشمیر میں مواصلات کے کریک ڈاؤن کی تصدیق کرچکا ہے اور کشمیر میں مواصلات کو یقینی بنایا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کا تحفظ، آزادی اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ گن سمیت طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے۔اسی کے ساتھ مطالبہ کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دورے کی اجازت دی جائے۔

مودی سرکار نے پچھلے سال اکتوبر میں اپنے حمایتی یورپی یونین کے چند افراد کو مقبوضہ دورے کی دعوت دی۔ یوروپی یونین کا یہ پارلیمانی وفد دراصل 27 ارکان پر مشتمل تھا جس میں اکثر انتہائی دائیں بازو اور دائیں بازو جماعتوں کے ارکان تھے۔ تاہم یورپین پارلیمنٹ نے وضاحت کردی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے وفد کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں۔یورپی یونین کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر تے مگرکشمیر کو افغانستان نہیں بننا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں عدم استحکام، سیاسی رہنماؤں اور تنظیموں پر پابندیاں، بے گناہ لوگوں کی گرفتاریاں قابل محاسبہ ہیں۔

بہر حال پاکستان کی کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ امریکہ میں اس سال ہونے والے صدارتی انتخاب کی مہم میں امیدواروں کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہو گیا۔ امریکی ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے بھارت سے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لگائی گئی پابندیاں ہٹا کر کشمیریوں کے بنیادی حقوق فوری طور پر بحال کرے۔ انہوں نے شہریت اور رجسٹریشن کے متنازع قوانین کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے فوری ضروری اقدامات اٹھائے۔ امریکا کے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار اور سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے مسلمانوں کے حوالے سے اپنے منشور میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کی متنازع قانون سازی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیری تنہا نہیں ہم صورتحال دیکھ رہے ہیں۔ جہاں مناسب ہوا مداخلت کی جائے گی۔پر امن مظاہرین پر تشدد اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات جمہوریت کی نفی ہیں۔ انتخابی مہم کے سلسلے میں امریکا میں مقیم مسلمان برادریوں کے حوالے سے اپنے ایجنڈے میں کہا کہ بھارت کی حکومت کو کشمیر کے عوام کے حقوق بحال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہیئیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات پہلے سے زیادہ نازک ہو چکے ہیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بھارت نے پانچ اگست کے بعد کچھ اقدامات کئے ہیں جس کے باعث کشمیر میں خوف اور بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن سے کتنی مشکلات ہوتی ہیں لیکن کشمیریوں کی صورتحال کا جائزہ لیں تو وہ ایک سال سے لاک ڈاؤن میں مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارتی اقدامات سے ان کا سیکولر اور جمہوری چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے اور یہ ہندوتوا سوچ کے تحت بگڑ گیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھارت پر تنقید کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کے باوجود اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ رات کو گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ بلاقصور نوجوانوں کو اغواء کیا جاتا ہے۔ ان کو عبرت کا نشان بنانے کے لئے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

عالمی برادری کا ضمیر نجانے کہاں سو گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا کوئی نوٹس ہی نہیں لے رہی۔ اقوام عالم کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق، حق خود ارادیت دلانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی خطرناک صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ریاستی دہشت گردی، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت سے جواب مانگا جائے۔ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی پالیسی کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کر رہی ہے۔ عالمی تنظیمیں اور ممالک مطالبہ کر رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کی جائیں۔ عالمی مبصرین کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے۔ غیر انسانی لاک ڈاؤن فوری ختم کیا جائے۔خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ کالے قوانین کو ختم کیا جائے۔ 9 لاکھ بھارتی فوج کو کشمیر سے نکالا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -